Monday , May 21 2018
Home / Top Stories / اے ایم یو اسٹوڈنٹ نے سال2010میں دئیے گئے بیان پر رام ناتھ کوئیند سے معافی یا پھرکانوکیشن میں نہ آنے کا مطالبہ کیا۔

اے ایم یو اسٹوڈنٹ نے سال2010میں دئیے گئے بیان پر رام ناتھ کوئیند سے معافی یا پھرکانوکیشن میں نہ آنے کا مطالبہ کیا۔

Image Courtesy NewX

اگرہ۔علی گڑہ یونیورسٹی میں 7مارچ کو منعقد ہونے والے کانوکیشن میں صدرجمہوریہ ہند کی شرکت کو لے کر ایک بڑا تنازع چہارشنبہ کے روز اس وقت کھڑا ہوگیا جب یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ یونین کے نائب صدر سجاد سبحان راتھر نے رام ناتھ کوئند سے کے مبینہ طور پر ماضی میں دئے گئے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ کشمیری طالب علم راتھر نے کہاکہ ’’ اگر وہ ( کوئند) ایسا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں توانہیں یونیورسٹی سے دور رہنا چاہئے‘‘ ۔

اپنے بیان میں میڈیاسے بات کرتے ہوئے راتھر نے کہاکہ کوئند اپنی اس ’’ غلطی ‘‘ کو مانیں اور جو انہوں نے اس سال2010میں اپنے بیان میں کہاتھا کہ اسلام اور عیسائیت اس ملک کے لئے دوسری دنیا سے ائے ہوئے ہیں پر معافی مانگیں یا پھر کانوکیشن سے دور رہیں۔راتھر نے کہاکہ’’ اگر ان کے دورے کے موقع پر کوئی ناگہانی واقعہ پیش آتا ہے تو وی سی اور صدر خود اس کے ذمہ دار ہونگے۔

صدر کی آمد کے پیش نظر ان کے سابق میں دئے گئے مخالف کمیونٹی بیان پر طلبہ میں ناراضگی ہے‘‘۔اسٹوڈنٹ لیڈر نے کہاکہ ’’یہ تو صدر اس بات کو قبول کریں کے ہندوستان تمام مذاہب کے ماننے والوں لوگوں کا ہے جو یہا ں رہتے ہیں‘ مسلم ہندو‘سکھ اور عیسائی ‘ نہیں تو پھر انہیں کیمپس میں آنے نہیں دیاجائے گا۔ اگر بی جے پی حکومت کیمپس میں امن چاہتی ہے اور اگر صدر کوئند امن وتنوع کے لئے سنجیدہ ہیں ‘ تووہ برسرعام اپنے 2010کے بیان کا جائزہ لیں‘‘۔

اے ایم یو ایس نائب صدر نے کہاکہ کانوکیشن تقریب میں صدر کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔ راتھر نے مبینہ طور سے کہاکہ’’ ادارے کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ وی سی نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے صدر کو مدعو کیاہے۔

مذکورہ وی سی یہ پیغام دینے چاہ رہے ہیں کہ اے ایم یو بی جے پی حکومت اور اس کے نظریہ کو قبول کرتا ہے‘‘۔درایں اثناء اے ایم یو ایس یو سکریٹری محمد فہد نے کہاکہ مقامی اراکین پارلیمنٹ ‘ اراکین اسمبلی اور آر ایس ایس کے کارکن کو کیمپس میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ’’ اگر انہیں مدعو کیاگیا تو مذکورہ یونین کانوکیشن کا بائیکاٹ اور وی سی کے خلاف احتجاج کرے گی‘ جو اپنے ذاتی مفاد اور مستقبل کے لئے ادارے کو زعفرانیت کی طرف جھکارہے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT