Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / اے ایم یو پر پولیس کا قہر : تعصب نہیں تو اور کیا؟ ابھے کمار

اے ایم یو پر پولیس کا قہر : تعصب نہیں تو اور کیا؟ ابھے کمار

علی گڑہ :علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے طلبا پر گذشتہ سنیچر کو جس طرح پولیس نے لاٹھیاں برسائی اس نے ظلم اور بربریت کی ساری حدیں توڑ دی۔ ان کا جرم محض یہ تھا وہ نجیب کی گمشدگی کے معاملے میں سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کر رہے تھے۔

پولیس اور حکومت کے اس ظالمانہ رویے کو ہم مسلمانوں کے خلاف تعصب نہ کہیں تو اورکیاکہیں؟ میری اس رائے سے شاید کچھ لوگ متفق نہ ہوں اور ان کی دلیل یہ ہوگی کہ پولیس مظاہرہ کر رہے لوگوں سے اسی طرح پیش آتی ہے۔

ایے ایم یو ہی نہیں حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی اور جے این یو کے طلبا بھی ماضی میں پولیس کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اس لیے اے ایم یو کے اس معاملے کو مسلم مخالف ذہنیت کے زاویے سے نہ دیکھا جائے۔

میں اس دلیل کو پوری طرح خارج نہیں کررہا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ حال کے دنوں میں خاص کر جب سے مرکز میں مودی حکومت برسراقتدار ہوئی ہے تب سے مسلسل یونیورسیٹیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سرکار اپنے ہندوتوا اور تعلیم کے نجی کاری کے ایجنڈے کو تھوپ رہی ہے۔

اس کے باوجود میں یہ مانتا ہوں کہ پولیس کا رویہ ان اداروں میں کچھ زیادہ ہی جارحانہ اور متعصبانہ ہے جہاں مسلم طلبا کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے۔
مسلمانوں کے خلاف تعصب کی اس جڑ کو نامور اسکالر ایڈورڈ سعید نے مستشرقین کی تحریروں میں تلاش کیا ہے۔ برطانیہ حکومت کی تعلیمی فکر بھی مستشرقین کی ان تحریروں سے کافی متاثر ہوئی اور اس طرح سے ہمارے ملک میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے خلاف نفرت و تعصب کا ایک ماحول بنایا گیا۔ نتیجتاً مسلمانوں کی شبیہ ’’متشدد‘‘اور ’’غدار‘‘ کے طور پر پیش کی جانے لگی ۔

جس کے سبب ان کے تعلیمی اداروں اور ان کے علاقوں کو شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ آزاد ہند میں بھی یہ سلسلہ چلتا رہا ۔

سچر کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں اس افسوسناک حقیقت کا اعتراف کیا اور کہا ہے کہ مسلم علاقوں میں پولیس تو اکثر دکھتی ہے مگر اسکول، اسپتال، بینک اور کارخانے شاید ہی کہیں!
مظاہرے سے قبل انتظامیہ نے یونیورسٹی کے آس پاس کے علاقے کو پوری طرح سے پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔

کئی مقامات پر بیری کیڈس کھڑے کئے گئے، جگہ جگہ واٹر کینن کا انتظام کیا گیا ۔سینکڑوں کی تعداد میں مسلح ریپڈ ایکشن فورس اور پی اے سی کے جوان تعینات کیے گئے۔

غور کرنے کی بات ہے کہ ریپڈ ایکشن فورس کا قیام 1991ء میں ہوا جس کا کام فرقہ وارانہ دنگوں کو قابو میں کرنا تھا مگر حکومت ہمیشہ اس کا استعمال اقلیتوں، مزدوروں اور طلبا کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے کرتی ہے۔ دوسری جانب پی اے سی آزادی کے بعد اترپردیش Armed Constabulary Act 1948 کے تحت قائم کیا گیا مگر جب سے اس پر میرٹھ کے آس پاس 117مسلمانوں کے بہیمانہ قتل کا الزام لگا ہے تب سے عوام کی نظروں میں اس کی شبیہ ایک ’’مسلم مخالف فورس ‘‘کی بن گئی۔
اس ظالمانہ اور دل دہلادینے والی کاروائی کو دیکھ کر میرے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ آخر پولیس اے ایم یو کے تئیں اتنی متشدد اور جابر کیوں ہوگئی تھی؟ یونیورسٹی کے اندر ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا اور مظاہرہ کرنا کوئی جرم تونہیں؟

جس طرح سے نجیب کے حق میں اے ایم یوکے طلبا نے ریلی نکالی اس طرح کی متعدد ریلیاں ملک کی دیگر یونیورسیٹیوں اس سے قبل بھی نکالی جا چکی ہیں۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی(جے این یو) کے طلبا بھی نجیب کی واپسی اورخاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ شروع سے ہی کر رہے ہیں۔

 

جس کے لیے انہوں نے وائس چانسلر کے دفتر کا تقریباً 22گھنٹے تک گھیراؤ کیا اور اسی سلسلے میں انہوں نے وزیرداخلہ کے دفتر کے سامنے بھی مظاہرہ کیا۔

مگر کہیں پولیس ، انتظامیہ اور حکومت کی بربریت کا ایسا نشان نہیں ملتا جیسا ہمیں اے ایم یوکے معاملے میں نظر آیا۔ تو اس سے ہم کیا سمجھیں؟میراقطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ جے این یو انتظامیہ یا پھر دیگر یونیورسٹی کے افسران طلبا کے تئیں نرم رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر جے این یو وی سی دفتر کے گھیراؤکے معاملے میں بیس طلبا کو ایک پروکٹوریل جانچ کے بہانے سے مسلسل پریشان کیا جارہا ہے۔

ابھی حال میں بھی سماجی انصاف کے مسئلے کو لے کر مظاہرہ کر رہے دلت، پچھڑے اور اقلیتی طبقے کے تقریباً ایک درجن طلبا کو یونیورسٹی انتظامیہ نے بنا کسی جانچ کے برخاست کردیا۔ یہی نہیں بلکہ اب جے این یو کے اندر مزید سی سی ٹی وی کیمرے لگوائے جارہے ہیں ۔

اور طلبا کو احتجاجی مظاہرے اور عوامی جلسے کرنے کے لیے ایک کے بعد ایک نوٹس دی جارہی ہے۔ حال میں ہی جے این یو کی نامور پروفیسر نودِیتا مینن کو طلبا کی ایک میٹنگ میں اپنی بات رکھنے کی وجہ سے انتظامیہ نے ایک نوٹس دی جس میں ان کے خلاف تادیبی کاروائی کرنے کی دھمکی تھی۔

حال میں ہی نجیب کی تلاش کے بہانے سینکڑوں کی تعداد پر مشتمل پولیس کا ایک دستہ جے این یو کے اندر داخل ہوااور اس نے کئی ہاسٹلوں میں ریڈ ڈالا۔ انہوں نے طلبا کو اس حد تک پریشان کیا کہ ان سے ان کی الماری اور بیگ تک کھولنے کو کہا گویا نجیب وہیں پر چھپا ہو! ان تمام زیادتیوں کے باوجود بھی میرا ماننا ہے کہ اے ایم یو معاملے میں پولیس اپنے تشدد میں تمام حدوں کو پار کر گئی۔
وہیں دوسری جانب میڈیا اور سول سوسائٹی بھی دوہرا رخ اپنا رہی ہے۔ جہاں ایک طرف جے این یو کے معاملے میں میڈیا اور سول سوسائٹی کا ایک بڑا حصہ ان کے حق میں کھڑا ہونے کے لیے ہمہ وقت تیار دکھائی دیتا ہے وہیں ان کی آواز اے ایم یو کے طلبا پر ظالمانہ کاروائی کے خلاف سنائی نہیں دے رہی ہے ۔

اُرِی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے تعلق سے فیس بک پر ایک تبصرہ لکھنے کی وجہ سے اے ایم یو کے ایک کشمیری طالب علم کو یونیورسٹی انتظامیہ نے برخاست کردیا تھا۔ اے ایم یو جاکر میں نے کچھ کشمیری طلبا سے اس سلسلے میں بات چیت کی اور ان سے معلوم کیا کہ کیا وہ اس کاروائی کے خلاف مہم چھیڑیں گے جیسا کہ جے این یو کے طلبا نے کیا تھا۔

ان کا جواب میرے لیے بہت ہی مایوس کن تھا۔ جب انہوں نے کہا کہ ہمیں جے این یو کی طرح عوامی حمایت ملنی مشکل ہے۔
جہاں ایک طرف پولیس نے اے ایم یو کے طلبا پر قہر برپا کیاوہیں دوسری طرف نجیب پرحملہ کرنے والے آج بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں۔

پولیس، انتظامیہ اور بھگواحکومت ابھی تک نجیب کو ڈھونڈنے میں نہ تو کوئی دلچسپی دکھا رہی ہے اور نہ ہی ان کے حملہ آوروں کو سزا دلانے میں۔ نجیب کو ڈھونڈنے کے نام پر جو’’ آپریشن‘‘ چل رہا ہے اس کا اصلی مقصد سیکولر فکر کے حامل افراد کو پریشان کرنا اور اس پورے معاملے کو کسی نہ کسی طرح فرقہ وارانہ رنگ دے دینا ہے۔

یو پی اسمبلی انتخابات کے عین قبل سنگھی طاقتیں اس پورے معاملے کو ہندو بہ نام مسلم کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ ان کی چالاکی دیکھئے کہ جہاں ایک طرف وہ علی گڑھ کے طلبا پر قانون شکنی کا الزام عائد کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب پولیس کاروائی کے پس پشت وہ اپنی حریف سماجوادی پارٹی حکومت کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں۔
ان تمام الزامات کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اے ایم یومسلمانوں کی پسماندگی کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ آج مسلمانوں کی خستہ حالی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب بات جیلوں میں مسلمان قیدی کی آتی ہے تو ان کی شرح آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہوتی ہے مگر جب بات روزگار کی ہو تو وہ کہیں بھی نظر نہیں آتے۔

اس پس منظر میں اے ایم یو کا کردار اور بھی بڑا اہم ہوجاتا ہے۔ ذرا سوچئے اگر اے ایم یو ہرسال ہزاروں طلبا کو ڈاکٹر، انجینئر اور دانشور نہ بنائے تو مسلم معاشرے کی حالت اور کتنی خراب ہوتی؟بھگوا طاقت کی آنکھوں میں اسی لیے اے ایم یو ہمیشہ کانٹے کی طرح چبھتا رہا ہے ۔

تبھی تو 2015میں ’ہندو یووا وا ہنی‘ جیسی فرقہ وارانہ تنظیم جس کی پشت پناہی بی جے پی کے ایم پی آدتیہ ناتھ کرتے ہیں،نے بیہودہ الزام لگایا کہ اے ایم یو ’’دہشت گردی کی ایک نرسری‘‘ ہے۔ یہ سب مسلمانوں کے خلاف ایک سازش اور تعصب نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
___________

ابھے کمار جے این یو کے شعبہ تاریخ میں ریسرچ اسکالر ہیں۔
ای میل: [email protected]

TOPPOPULARRECENT