Saturday , September 22 2018
Home / ہندوستان / اے ایم یو کورٹ میں متنازعہ ایم پی پر لفظی جنگ

اے ایم یو کورٹ میں متنازعہ ایم پی پر لفظی جنگ

اسٹوڈنٹس یونین قائدین کا شدید ردعمل، سمرتی ایرانی کے استعفے کا مطالبہ

اسٹوڈنٹس یونین قائدین کا شدید ردعمل، سمرتی ایرانی کے استعفے کا مطالبہ
علی گڑھ ، 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اسٹوڈنٹس یونین اور بی جے پی قائدین میں فسادات کے ملزم بی جے پی ایم پی کنور بھریندر سنگھ کے اے ایم یو کورٹ میں جو اس یونیورسٹی کی اعلیٰ ترین گورننگ باڈی ہے، تقرر کے بارے میں لفظی جنگ چھڑ گئی۔ اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے نائب صدر سید مسعود الحسن نے کہا کہ اس مسئلہ کے وسیع تر مضمرات ہیں کیونکہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی نے دانستہ طور پر ایسے شخص کو اس باوقار قومی ادارہ کی کورٹ کی رکنیت کیلئے نامزد کیا ہے حالانکہ اُن کے ٹریک ریکارڈ سے اچھی واقفیت ہے۔ حسن نے وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی کے استعفے کا مطالبہ کیا کہ اس یونیورسٹی کورٹ کی رکنیت کیلئے متنازعہ بی جے پی ایم پی کو لوک سبھا کوٹہ سے پیانل میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی۔ صدر اے ایم یو ویمنس کالج اسٹوڈنٹس یونین گل فضا خان نے کہا کہ اگر ہم ہمارے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو مثالی ادارے بنانا چاہتے ہیں تو گورننگ باڈیز کی رکنیت کو تعلیمی پس منظر والے اشخاص تک محدود رکھنا چاہئے اور انھیں شامل نہ کریں جو پرتشدد ردعمل کا موجب بنتے ہیں۔ دریں اثناء مقامی بی جے پی قائدین نے اس تنازعہ میں وزیر ایچ آر ڈی کو گھسیٹنے پر گہری تشویش ظاہر کی۔ صدر بی جے پی ڈسٹرکٹ دیوراج سنگھ نے کہا کہ ایم پی کے خلاف من مانے الزامات عائد کرنا اور پھر مرکزی وزیر ایچ آر ڈی کا نام اس تنازعہ میں گھسیٹنا ، مسعودالحسن کا یہ طرزعمل ناقابل قبول ہے۔

TOPPOPULARRECENT