اے ٹی ایم سنٹرس سے 80 اے سی کا سرقہ

پانچ رکنی ٹولی گرفتار ، پولیس نے 75 اے سیز برآمد کرلیے
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : شہر حیدرآباد میں واقع اے ٹی ایم مقامات سے اے سی کا سرقہ کرنے اور سی سی ٹی وی کیمروں کو نقصان پہونچانے والی ایک پانچ رکنی ٹولی کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ کاچی گوڑہ پولیس نے جن پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے ۔ ان میں 3 طالب علم ہیں ۔ حیدرآباد اور رچہ کنڈہ علاقوں میں 23 پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں 41 اے ٹی ایم سنٹرس سے کمپریسر کے ساتھ 80 ایرکنڈیسرس کا سرقہ کیا گیا ۔ پولیس نے سارقوں کے قبضہ سے 75 اے سیز برآمد کرلیے ہیں جن کی مجموعی لاگت 15 لاکھ روپئے ہے ۔ گرفتار شدہ مشتبہ افراد کی محمد احسن رحمن ،انٹر میڈیٹ طالب علم چندرائن گٹہ ، 20 سالہ سید اکرم انٹر میڈیٹ طالب علم ، محمد عدیل 19 سالہ اے سی میکانک ، 21 سالہ محمد اسمعیل ڈگری کا طالب علم ملکاجگری ، 20 سالہ محمد واجد خاں آٹو رکشا ڈرائیور کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے ۔ پولیس کے مطابق محمد احسن رحمن ہی اصل سرغنہ ہے جو قبل ازیں ممبئی کی ایک کمپنی کے لیے کام کرتا تھا اور وہ حیدرآباد کے اے ٹی ایم سنٹرس میں اے سی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی دیکھ بھال و مرمت کے کنٹراکٹس لیتا تھا ۔ اس نے کمپنی سے نکالے جانے کے بعد سرقہ کرنا شروع کردیا تھا ۔ نیز سیکوریٹی گارڈ والے اے ٹی ایم سنٹرس کو نشانہ بنایا جانے لگا ۔ کاچی گوڑہ ، نلہ کنٹہ ، سعید آباد ، ملک پیٹ ، چادر گھاٹ ، عنبر پیٹ ، لالہ گوڑہ ، سیف آباد ، رام گوپال پیٹ ، رین بازار ، ملاڑاپلی ، سرور نگر ، بالاپور ، ملکاجگری اور اُپل کے اے ٹی ایم سنٹرس میں یہ سرقہ کیا گیا تھا ۔ سرقہ کے بعد ان اے سیز کو فتح دروازہ میں ایک گودام میں رکھا جاتا تھا ۔ واضح رہے کہ اے ٹی ایم سنٹرس پر نصب اے ٹی ایم مشینوں سے رقومات نکالنے کے واقعات کے بعد اے سی کا سرقہ کرنے کے واقعات پیش آرہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT