Thursday , December 13 2018

اے ٹی ایم مراکز پھر خالی ، شہریوں کو مشکلات

بینکوں کی خدمات میں بہتری لانے حکومت کے اقدامات ناگزیر
حیدرآباد۔14مارچ(سیاست نیوز) شہر کے اے ٹی ایم مراکز ایک مرتبہ پھر سے خالی ہونے لگے ہیں اور 70فیصد سے زائد اے ٹی ایم مراکز میں نقد نہ ہونے کے سبب شہریو ں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کی تشویش میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جا رہاہے ۔حکومت کی جانب سے کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد سے اب تک حیدرآباد و سکندرآباد کے بیشتر اے ٹی ایم میں نقد رقم نہ ہونے کی شکایت معمول کی بات بن کر رہ گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران بھی اے ٹی ایم مراکز میں نقد کی دستیابی کے امکانات موہوم ہیں۔پرانے شہر کے بیشتر اے ٹی ایم مراکز کے تو شٹر ہی نہیں کھولے جا رہے ہیں بالخصوص قومیائے ہوئے بینکوں کے اے ٹی ایم مستقل بند رہنے لگے ہیںاور کہا جا رہاہے کہ بینکو ںمیں نقد نہ ہونے کے سبب ان کی جانب سے اے ٹی ایم مراکز میں نقد جمع نہیں کی جا رہی ہے ۔بینک عہدیداروں کا کہناہے کہ عوام مختلف خدشات کی بناء پر بینکوں میں نقد جمع نہیں کروا رہے ہیں جس کے سبب بینک کے پاس ہی نقد رقم نہ ہونے کے باعث بینک اے ٹی ایم مشینو ںمیں رقومات جمع کرنے سے قاصر ہیں۔قومی بینکوں کے عہدیداروں کے اس عذر کے متعلق خانگی و کارپوریٹ بینکوں کے ذمہ داروںکا کہناہے کہ کارپوریٹ بینک بہر صورت اپنے گاہکوں کو معیاری و بہتر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اسی لئے کارپوریٹ بینکوں کے 60 فیصد سے زائد اے ٹی ایم مراکز بحال رکھنے کی ممکنہ کوشش کی جا رہی ہے اور آن لائن رقمی منتقلی کی خدمات کو بہتر بناتے ہوئے صارفین و گاہکوں کو بینکوں تک پہنچنے کی ضرورت باقی نہیں رکھی جا رہی ہے۔سرکاری بینک یعنی قومیائے ہوئے بینکوں کی خدمات میں بہتری لانے کے لئے حکومت کی جانب سے ہی فوری اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ عوام کو سہولت حاصل ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT