Tuesday , September 18 2018
Home / شہر کی خبریں / اے پی اور تلنگانہ ، بی پی ایس ، ایل آر ایس کو دوبارہ شروع کرنے خواہاں

اے پی اور تلنگانہ ، بی پی ایس ، ایل آر ایس کو دوبارہ شروع کرنے خواہاں

غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے دونوں ریاستوں کی توجہ مرکوز

غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے دونوں ریاستوں کی توجہ مرکوز
حیدرآباد ۔ 15 ۔ جنوری : ( ایجنسیز ) : غیر مجاز اور غیر قانونی اسٹرکچرس کو باقاعدہ بنانے کے لیے بلڈنگ پینلائزیشن اسکیم (BPS) اور لے آوٹ ریگولرائزیشن اسکیم (LRS) کے ساتھ ساتھ لے آوٹس کو پھر سے شروع کیا جانے والا ہے ۔ آندھرا پردیش اور تلنگانہ دونوں ریاستیں ان اسکیمات کو دوبارہ شروع کرنے والی ہیں اور اس سلسلہ میں سینئیر بلدی عہدیدار حکومتوں کو اس کے لیے ضروری تفصیلات فراہم کررہے ہیں ۔ حکومت تلنگانہ کے لیے اس بات پر غور کرتے ہوئے بی پی ایس / ایل آر ایس کا آغاز کرنا ایک منطقی اقدام ہوگا کہ جاریہ لینڈ ریگولرائزیشن اسکیم میں اس طرح کے پلاٹس پر تعمیراتی نوعیت کے بارے میں تذکرہ نہیں ہے جب کہ حکومت آندھرا پردیش نے اس کے اصول و قواعد کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاری کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ بی پی ایس / ایل آر ایس اسکیمات کو 2007-2008 میں اس وقت کی وائی ایس آر کے زیر قیادت کانگریس حکومت کی جانب سے ملکاجگیری میونسپل سرکل میں غیر مجاز تعمیرات کے انہدام کے لیے ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے ۔ احکام کے بعد متعارف کیا گیا تھا ۔ آسان اور سہل طریقہ کار کی وجہ ایک لاکھ سے زائد تعمیرات کو باقاعدہ بنایا گیا ۔ اس طرح میونسپل کارپوریشنس نے ان کی منظوری دینے کے لیے ون ۔ اسٹاپ شاپ بن گئے تھے ۔ اس سے حیدرآباد ، وشاکھا پٹنم اور وجئے واڑہ کے میونسپل کارپوریشنس کو کروڑہا روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ صرف جی ایچ ایم سی کو اس سے 700 کروڑ روپئے سے زائد آمدنی ہوئی ۔ 1985 اور 2007 کے درمیان تعمیرات / پلاٹس کو ریگولرائز کرنے پر سینئیر عہدیداروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی خواہش کے ساتھ کہا کہ دونوں حکومتیں 2008 اور 2013 کے درمیان ، جب کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تحریک زور پر تھی ، وجود میں آئے غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کے لیے ایک اور موقع فراہم کرنا چاہتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں غیر قانونی / غیر مجاز تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے جب کہ اے پی حکومت گذشتہ پانچ سال میں کی گئی نئی تعمیرات کو اس کا فائدہ فراہم کرناچاہتی ہے ۔ حیدرآباد میں تقریبا 22000 درخواستیں زیر التواء ہیں اور آندھرا پردیش کے شہری علاقوں میں 40,000 درخواستیں معرض التواء ہیں ۔ ان پر انفرادی طور پر بھی توجہ دی جاسکتی ہے کیوں کہ کئی کیسیس میں درخواست گذاروں نے جزوی ادائیگی کی ہے اور شائد ایک اہم دستاویز داخل نہیں کئے ۔ سینئیر عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ جی ایچ ایم سی کے اسپیشل آفیسر اور کمشنر سومیش کمار نے بی پی ایس / ایل آر ایس کے آغاز کے لیے اصول و قواعد پر تبادلہ خیال کے لیے پلاننگ شعبہ کے عہدیداروں کے ساتھ ابتدائی اجلاس بھی منعقد کئے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں جانب سے ان اسکیمات کے لیے امکانی عدالتی جانچ کے بارے میں تذکرے سے گریز کیا جارہا ہے ۔ چونکہ گذشتہ میں بی پی ایس / ایل آر ایس کو اس وقت کی متحدہ اے پی حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں یہ عہد داخل کئے جانے کے بعد ہی کہ یہ ایک ’ ون ٹائم اسکیم ‘ ہوگی ۔ قانونی منظوری حاصل ہوئی تھی ۔۔

TOPPOPULARRECENT