Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / اے پی این جی اوز کی اراضی مسئلہ کو چیف منسٹر تلنگانہ سے رجوع کرنے کا مشورہ

اے پی این جی اوز کی اراضی مسئلہ کو چیف منسٹر تلنگانہ سے رجوع کرنے کا مشورہ

صدر یونین اشوک بابو کی ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے ملاقات پر دوٹوک جواب

صدر یونین اشوک بابو کی ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے ملاقات پر دوٹوک جواب
حیدرآباد۔/4جولائی، ( سیاست نیوز) اے پی این جی اوز کے ایک وفد نے آج ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے ملاقات کرتے ہوئے گوپن پلی میں اے پی این جی اوز کو الاٹ کردہ اراضی واپس لینے سے متعلق تلنگانہ حکومت کے فیصلہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ صدر اے پی این جی اوز اشوک بابو کی قیادت میں اسوسی ایشن کے قائدین نے آج سکریٹریٹ میں ڈپٹی چیف منسٹر سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اے پی این جی اوز کو 189 ایکر 14گنٹے اراضی الاٹ کی تھی اور اب تلنگانہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ ملازمین کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اراضی واپس لینے کا فیصلہ ترک کردے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی نے وفد کی سماعت کے بعد انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس مسئلہ پر چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کریں۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ میں کسی بھی تبدیلی کے امکانات کو خارج از امکان قرار دیا۔ واضح رہے کہ شہر کے مضافاتی علاقہ شیر لنگم پلی منڈل کے تحت گوپن پلی میں 1991-92کے دوران ڈاکٹر ایم چناریڈی حکومت نے 426ایکر اراضی اے پی این جی اوز، تلنگانہ این جی اوز، ہائی کورٹ، سکریٹریٹ اور رنگاریڈی ڈسٹرکٹ ایمپلائز یونین کو الاٹ کی تھی۔تاہم اے پی این جی اوز جسے 189ایکر اراضی الاٹ کی گئی تھی اس نے ابھی تک اراضی کو پلاٹس میں تقسیم کرتے ہوئے ارکان میں تقسیم نہیں کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یونین کے اندرونی گروپس میں اختلافات کے سبب یہ کام انجام نہیں دیا جاسکا۔ سابق چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے اس تنازعہ کی یکسوئی کی کوشش کی تھی جس پر دونوں گروپس مفاہمت کیلئے راضی ہوگئے۔ اسی دوران اراضی کے ایک حصہ پر ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک شخص نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جہاں یہ معاملہ زیر التواء ہے۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد حکومت کو اطلاع دی گئی کہ اے پی این جی اوز یونین نے الاٹ کردہ اراضی کا استعمال نہیں کیا ہے۔ حکومت آندھرا پردیش کے سرکاری ملازمین کی یونین کو تلنگانہ میں اراضی الاٹ کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ حکومت نے اس سلسلہ میں رنگاریڈی کلکٹر سے رپورٹ طلب کی اور اراضی پر اے پی این جی اوز کا بورڈ نکال دیا گیا اور ریونیو حکام نے اسے سرکاری اراضی قرار دیتے ہوئے بورڈ نصب کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT