Monday , December 11 2017
Home / Mera Column / اے پی جے عبدالکلام (15-10-1931 – 27-7-2015)

اے پی جے عبدالکلام (15-10-1931 – 27-7-2015)

میرا کالم                   سید امتیاز الدین
’’میرا خاندانی سلسلہ میرے پردادا اوُل سے شروع ہوا ۔ ان کے بعد میرے دادا فقیر پھر میرے والد زین العابدین اور ان کے بعد شاید عبدالکلام پر ختم ہوجائے لیکن خدا کا فضل و کرم کبھی ختم نہ ہوگا کیونکہ ذاتِ باری ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی‘‘ ۔ یہ اے پی جے عبدالکلام کی سوانح عمری کا آخری جملہ ہے ۔ عبدالکلام نے مجرد زندگی گزاری اور اپنا کوئی وارث نہیں چھوڑا ، لیکن انھوں نے علمی اور سائنسی کارناموں کا ایسا ورثہ چھوڑا کہ آج سارا ملک ان کا وارث اور نام لیوا ہے ۔
اے پی جے عبدالکلام ہمارے ملک کے گیارھویں صدر جمہوریہ تھے۔ عبدالکلام رامیشورم کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ مالی پریشانیوں کے باوجود ان کے سرپرستوں نے انھیں رامنتاپورم کے ایک اچھے اسکول میں داخلہ دلایا ۔ ان کے استاد انھیں بہت چاہتے تھے ۔ایک استاد نے انھیں نصیحت کی تھی کہ زندگی میں کامیابی کے لئے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے حوصلہ ، یقین اور امید ۔ عبدالکلام نے نہ صرف یہ بات گِرہ میں باندھ لی اور تاحیات اس پر عمل پیرا رہے ، بلکہ نوجوان نسل کو اسی کا درس دیتے رہے ۔ بی ایس سی کامیاب کرنے کے بعد عبدالکلام مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں داخلہ لینا چاہتے تھے،  جس کے لئے ایک ہزار روپیوں کی ضرورت تھی ۔

ان کے پاس اتنی رقم نہیں تھی ۔ ان کی بہن زہرہ نے اپنے زیور رہن کردیئے اور اس رقم کا بندوبست  کیا ۔ انھوں نے فزکس اور ایرواسپیس انجینئرنگ میں اعلی ڈگریاں حاصل کیں اور ہندوستان ایروناٹکس سے ملازمت کا آغاز کیا اور اس کے بعد زینہ بہ زینہ ترقی کرتے ہوئے ملک کے صف اول کے سائنسداں بن گئے ۔ ڈی آر ڈی او اور اِسرو ISRO میں ان کی خدمات اتنی اہم تھیں کہ ملک کے وزیراعظم سے بھی صلاح و مشورے کے لئے وہ جس وقت چاہتے مل سکتے تھے ۔ وہ ہندوستان کے Missile Man کے نام سے مشہور ہوگئے تھے ۔ 1998 کے پوکھرن II کے تجربے کا سہرا بھی انہی کے سر تھا ۔ عبدالکلام کی سب سے بڑی خوبی ان کی لگن تھی ۔ وہ زمانۂ طالب علمی میں کوئی غیر معمولی طالب علم نہیں تھے ۔ ایک مرتبہ ان کا کیا ہوا پراجکٹ ان کے پروفیسر کو پسند نہیں آیا تھا اور اس نے ان سے کہا تھا کہ اگر انھوں نے تین دنوںکے اندر بہتر پراجکٹ رپورٹ پیش نہیں کی تو ان کا اسکالرشپ منسوخ کردیا جائے گا ۔ عبدالکلام نے دن رات ایک کردئے اور وقت مقررہ پر تشفی بخش رپورٹ بنا کر پیش کردی ۔ پروفیسر نہ صرف خوش ہوا بلکہ اس نے کہا کہ میں تمہارا عزم اور حوصلہ آزمارہا تھا ۔ عبدالکلام نے ناسا میں بھی تربیت حاصل کی اور ڈاکٹر راجہ رامنّا اور وکرم سارا بھائی جیسے نامور سائنسدانوں کے ساتھ کام کرنے کا انھیں موقع ملا ۔ عبدالکلام نے PSLV پراجکٹ پر تنہا کام کیا اور خوبی سے سرانجام دیا ۔ انھوں نے دو اور پراجکٹس Project Devil اور Project Valiant مکمل کئے جن کے لئے مرکزی کابینہ کی منظوری نہیں تھی لیکن وزیراعظم شریمتی اندرا گاندھی نے اپنے خصوصی فنڈ سے مالیہ فراہم کیا تھا ۔ پرتھوی اور اگنی بھی عبدالکلام کے کارناموں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ممتاز ماہر قلب ڈاکٹر سوماراجو کے تعاون سے انھوں نے دل کے مریضوں کے لئے ایک اسٹنٹ تیار کیا ۔

اب پی جے عبدالکلام کو کئی اعزازات سے نواز گیا جن میں سب سے اہم اور ملک کا سب سے بڑا اعزاز بھارت رتن بھی شامل ہے ۔
جولائی 2002 ء میں عبدالکلام کو ملک کا پریسیڈنٹ منتخب کیا گیا جبکہ ملک میں این ڈی اے کی حکومت تھی اور اٹل بہاری واجپائی وزیراعظم تھے ۔ وہ صدر جمہوریہ بننے کے لئے ایک بار پھر آمادہ ہوئے تھے لیکن بعد میں ارادہ تبدیل کردیا تھا ۔ اپنے زمانۂ صدارت میں مقبولیت اور سادگی کی بناء پر ان کو عوام کا صدر کی حیثیت سے جانا جاتا تھا ۔ پریسیڈنٹ کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد عبدالکلام نے اپنا وقت لکچرس اور تعلیمی سرگرمیوں میں گزارا ۔ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ شیلانگ کے وزٹینگ پروفیسر تھے ۔ عبدالکلام سزائے موت کے خلاف تھے اور کئی رحم کی درخواستوں پر انھوں نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ۔ ان پر بعض دفعہ تنقیدیں بھی ہوئیں لیکن ان کی ہمدرد شخصیت کی وجہ سے وہ بہت مقبول تھے ۔ ان پر ایک فلم بھی بنی تھی جس کا نام تھا ’’I am Kalam‘‘جس میں ایک غریب مگر ذہین لڑکے کودکھایا گیا تھا  جس کا نام چھوٹو تھا لیکن اس نے اپنا نام بدل کر کلام رکھ لیا تھا ۔

جب عبدالکلام صدر جمہوریہ بنے تو ان کے کئی رشتہ دار اور جان پہچان کے لوگ حلف برادری تقریب میں شریک ہونا چاہتے تھے ۔ عبدالکلام نے مدراس سے دہلی تک ٹرین میں سکنڈ کلاس کے دو ڈبے ریزرو کروائے اور انھیں اپنے خرچ پر بلوایا اور آنے جانے کا خرچ خود برداشت کیا۔
عام طور پر صدر جمہوریہ بہت سے معاملات میں الگ تھلگ رہتے ہیں لیکن جب اے پی جے عبدالکلام صدر بنے تو ابھی گجرات کے فسادات کا زخم تازہ تھا ۔ عبدالکلام نے گجرات کا دورہ کیا جس سے ریاستی حکومت کو بھی کچھ نہ کچھ کارگزاری دکھانی پڑی ۔ بعض یتیم بچوں کی تعلیم کے بارے میں عبدالکلام صاحب نے خصوصی دلچسپی دکھائی ۔راشٹرپتی بھون میں افطار پارٹی ہر سال ہوتی ہے جس میں کئی بڑے بڑے لوگ شریک ہوتے ہیں ۔ اے پی جے عبدالکلام صاحب نے پریسیڈنٹ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جو پہلی افطار پارٹی کی اس میں غریب اور یتیم بچوں کو شریک طعام کیا ۔
27 جولائی 2015 ء کو جس دن ان کا انتقال ہوا انھوں نے گوہاٹی سے شیلانگ تک ڈھائی گھنٹے کاسفر کار میں طے کیا تھا ۔ ایک کانسٹیبل دوران سفر ان کے ساتھ بالکل الرٹ کھڑا رہا ۔ جب عبدالکلام صاحب کو اس کی اطلاع ملی تو انھوں نے اس کانسٹیبل کو بلوایا اور اس کی خدمت گزاری کی تعریف کی ۔ کانسٹیبل سے معافی چاہی کہ تم کو میری وجہ سے ڈھائی گھنٹے تک تکلیف اٹھانی پڑی ۔ انھوں نے کھانے کے لئے پوچھا ۔ کانسٹیبل نے انھیں جواب دیا کہ آپ کے لئے ڈھائی گھنٹے کیا چیز ہیں ۔ میں چھ گھنٹے بھی کھڑا رہ سکتا ہوں ۔ اس کے بعد عبدالکلام ’’قابل رہائش سیّارہ‘‘ کے عنوان سے تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے لیکن خود وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ سیّارہ ان کے لئے قابل رہائش نہیں رہا تھا اور ان کو اس دنیا سے سفر کرنا تھا ۔ اے پی جے عبدالکلام ٹامل اور انگریزی میں شاعری بھی کرتے تھے۔ وینا بھی بجاتے تھے ۔ پریسیڈنٹ بننے سے پہلے ان کو سیاسی تجربہ مطلق نہیں تھا ، لیکن انھوںنے بحیثیت صدر جمہوریہ غیر معمولی کارنامے انجام دئے ۔ تعصب اور تنگ نظری ان میں مطلق نہیں تھی ۔ وہ سب سے خلوص اور انکساری سے ملتے تھے ۔ ہندوستان کے عوام بالخصوص نوجوان نسل ان کو نہ صرف دل کی گہرائیوں سے یاد رکھے گی بلکہ ان کے کارنامے ہماری تاریخ کا ایک زرین باب بن کررہیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT