Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / اے پی میں ’آبی طیارہ کی خدمات‘ سے سیاحت کو فروغ

اے پی میں ’آبی طیارہ کی خدمات‘ سے سیاحت کو فروغ

ممتاز ادارہ کو آپریشنز سونپنے کا امکان ، اندرون تین ماہ پُرکشش سرویسز کی شروعات متوقع

ممتاز ادارہ کو آپریشنز سونپنے کا امکان ، اندرون تین ماہ پُرکشش سرویسز کی شروعات متوقع
حیدرآباد ، 9 اگسٹ (سیاست نیوز) اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوتا ہے تو آندھرا پردیش ٹورازم کو شعبۂ سیاحت میں زبردست جہت حاصل ہوگی کیونکہ اس ریاست سے پہلا آبی طیارہ تین ماہ کے وقت میں وجئے واڑہ سے اڑان بھرنے کی تیاری میں ہے۔ آندھرا پردیش میں ایسی خدمات کی شروعات کیلئے میریٹائم انرجی ہیلی ایر سرویسز (MEHAIR) سے پراجکٹ رپورٹ طلب کی گئی ہے، جو ملک میں ’سی پلین‘ آپریشنز کا اولین ادارہ ہے اور گزشتہ تین سال سے انڈمان و نکوبار جزائر میں سرگرم ہے۔ ’مہیر‘ کے عہدیداروں نے حال میں چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو سے اس مسئلہ پر ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق یہ کمپنی ممکنہ طور پر ہفتے عشرے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور اگر ان کی تجویز قبول کرلی جائے تو یہ خدمات اواخر ڈسمبر یا جنوری کے پہلے ہفتے تک شروع ہوسکتی ہیں۔ آندھرا پردیش ٹورازم ڈپارٹمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے بتایا کہ ریاستی حکومت عین ممکن ہے کہ اس تجویز کو منظوری دے گی کیونکہ یہ نہ صرف ٹورازم شعبہ میں انوکھے پہلو کا اضافہ کرتی ہے بلکہ مسافرین کو ایسے مقامات کیلئے سفر کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے جو عام طیاروں کیلئے قابل رسائی نہیں ہیں۔ ’سی پلین سرویسز‘ کا نسبتاً چھوٹا طیارہ جو 9 نشستی گنجائش رکھتا ہے، خشکی اور تری دونوں جگہوں کیلئے قابل استعمال ہے اور اسے ایک کیلومیٹر طویل فضائی پٹی درکار ہوتی ہے یا پھر ایسا آبی گوشہ جو کم از کم 10 فیٹ گہرا ہو۔ ریاستی عہدہ دار نے بتایا کہ اولین آپریشنز وجئے واڑہ سے وشاکھاپٹنم کیلئے ہونے کا امکان ہیں اور بعد میں دیگر مقامات جیسے سری سیلم، ناگرجنا ساگر اور تروپتی تک وسعت دیئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ آبی طیارہ مناسب فضائی ماحول میں سطح آب پر لینڈنگ کرسکتا ہے جہاں تموج نہ ہو، اس لئے اسے سیاحتی منازل جیسے سری سیلم ذخیرۂ آب، ناگرجنا ساگر ذخیرۂ آب، ایسٹ گوداوری میں کارِنگا، وشاکھاپٹنم میں تاٹیپوڈی ریزروائر اور دیگر ذخائر آب کیلئے چلایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مختلف ٹورازم پیاکیجس پیش کئے جاسکتے ہیں جن میں عملی استقامت اور اس خیال کو ملحوظ رکھا جائے گا کہ یہ طیارہ اوسطاً 30 تا 45 منٹ کیلئے فضاء میں رہ سکتا ہے۔ محکمۂ سیاحت کیلئے ایک اور فائدہ اس حقیقت میں مضمر رہے گا کہ مسافرین کو اُن کی منزلوں تک پہنچانے کے علاوہ یہ طیارہ فضائی سروے وغیرہ کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ عہدہ دار موصوف نے کہا کہ جیسے یہ پراجکٹ حقیقت بن جائے، یہ اس ریاست کی طرف سے پُرکشش اقدامات میں سے رہے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT