Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اے پی و تلنگانہ میں دریا کے پانی کی تقسیم کا مسئلہ

اے پی و تلنگانہ میں دریا کے پانی کی تقسیم کا مسئلہ

ٹریبونل سے رجوع کرنے سپریم کورٹ کی ہدایت، مرکز سے حلفنامہ کی طلبی
نئی دہلی 8 ڈسمبر (پی ٹی آئی) سپریم کورٹ نے مرکز سے آج کہا ہے کہ دریائے کرشنا کے پانی کی تقسیم کے معاملہ میں اس کے دیگر فریقوں مہاراشٹرا اور کرناٹک کو بھی گھسیٹنے کے بجائے آندھراپردیش اور نو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ کے درمیان اس دریا کے پانی کی تقسیم کا مسئلہ آبی ٹریبونل سے رجوع کیا جائے۔ آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد 2 جون 2014 ء کو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ نے دریا کے پانی کی تقسیم کے معاملہ میں اُس کو دیگر فریقوں کے مابین ایک علیحدہ حصہ دار تصور کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اپنے حصہ کے ازسرنو تعین کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مرکز کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے جسٹس دیپک مصرا اور پرفلاسی پنت پر مشتمل بنچ سے کہاکہ سارے مسئلہ پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹریبونل سے خواہش کی جاسکتی ہے کہ آندھراپردیش کو پہلے ہی تقسیم شدہ پانی کے حصہ سے تلنگانہ کے حصہ کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ اس دوران بنچ نے مرکز کو اس ضمن میں حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواستوں پر 12 ڈسمبر کو آئندہ سماعت مقرر کی ہے۔ قبل ازیں دریائے کرشنا کے پانی کی تقسیم کے تنازعہ پر تلنگانہ، کرناٹک، آندھراپردیش اور مہاراشٹرا کی طرف سے 30 ستمبر کو دائر کردہ درخواستوں پر آج سماعت مقرر کی گئی تھی۔ سینئر ایڈوکیٹ سی ایس وائیدیا ناتھن نے تلنگانہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کے حصہ کے تعین کیلئے قانونی ٹریبونل کے قیام کی درخواست کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT