Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / اے کے خان اقلیتی بہبود کے اداروں کے نگرانکار مقرر

اے کے خان اقلیتی بہبود کے اداروں کے نگرانکار مقرر

ایم جے اکبر کیخلاف سیاسی سازش کے انکشاف کے بعد حکومت تلنگانہ بیدار
حیدرآباد۔/10مارچ، ( سیاست نیوز) ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر کے تبادلہ کی سیاسی سازش کو ’سیاست‘ کی جانب سے بے نقاب کئے جانے اور عوام میں شدید ردعمل کو دیکھتے ہوئے حکومت کو بیدار ہونا پڑا۔ سوشیل میڈیا اور اخبارات میں ایک فرض شناس عہدیدار کے تبادلہ کے خلاف دنیا بھر سے جاری مہم نے حکومت کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ محکمہ میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ آخر کار اقلیتی بہبود کی کارکردگی میں سدھار اور اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے تلنگانہ حکومت نے ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں کو بحیثیت نگرانکار مقرر کیا ہے اور وہ اقلیتی بہبود کے تمام اداروں سے متعلق اُمور کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے ہوئے ضروری تجاویز پیش کریں گے۔ اقلیتی بہبود میں مبینہ بے قاعدگیوں اور قواعد کے برخلاف فیصلوں کے حالیہ واقعات کے پس منظر میں حکومت نے اعلیٰ پولیس عہدیدار کو بحیثیت نگرانکار مقرر کیا اور وہ عملاً سکریٹری اقلیتی بہبود سے بلند رتبہ کے حامل رہیں گے۔ غیر معلنہ طور پر عبدالقیوم خاں اقلیتی بہبود کے پرنسپال سکریٹری کے فرائض انجام دیں گے اور  سکریٹری اقلیتی بہبود اور دیگر عہدیدار انہیں جوابدہ رہیں گے۔ حکومت اقلیتی بہبود کی موجودہ صورتحال اور کارکردگی سے خوش نہیں ہے اور باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت نے محکمہ میں حالیہ عرصہ میں کئے گئے بعض اہم فیصلوں کی جانچ کروانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ حالیہ عرصہ میں کی گئی بے قاعدگیوں کا پتہ چلایا جاسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت کو مختلف ذرائع سے شکایات وصول ہوئی ہیں کہ اوقافی جائیدادوں سے متعلق بعض معاملات میں متولیوں اور اوقافی اراضی فروخت کرنے والوں کے حق میں فیصلے کئے گئے جس سے وقف بورڈ کو کافی نقصان ہوا ہے۔ اوقافی جائیدادوں کے علاوہ بعض دیگر معاملات میں بھی حکومت کو عہدیداروں کی شکایات ملی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ غیر محسوس طریقہ سے ان معاملات کی جانچ کی جائے گی۔ واضح رہے کہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ سے جلال الدین اکبر کے تبادلہ کے پس پردہ وقف مافیا اور محکمہ کے عہدیدار پائے گئے جنہوں نے مقامی سیاسی جماعت کا سہارا لے کر چیف منسٹر کو تبادلہ کیلئے راضی کرلیا۔ جلال الدین اکبر کا تبادلہ اچانک کارروائی نہیں تھی بلکہ اس کے لئے طویل عرصہ سے ماحول بنایا گیا اور ان کے اختیارات کم کرتے ہوئے اقلیتی اُمور میں مداخلت سے روکا گیا۔ محکمہ میں جاری مبینہ بے قاعدگیوں اور من مانی فیصلوں کی راہ میں ایم جے اکبر رکاوٹ بنے ہوئے تھے اور انہوں نے ہر غیر اصولی فیصلہ کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ تحریری طور پر اعلیٰ عہدیداروں کو اس کی اطلاع دی۔ اقلیتی بہبود سے ایم جے اکبر کو متعلقہ محکمہ کو واپس کرنے کیلئے سب سے پہلے انہیں منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کی ذمہ داری سے سبکدوش کیاگیا اور اس کے بعد اسپیشل آفیسر؍ عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی حیثیت سے ایم جے اکبر نے اپنے پیشرو شیخ محمد اقبال کی کارروائیوں کو مزید تیز کرتے ہوئے 125سے زائد مقدمات درج کئے اور تحقیقات کا آغازکیا۔ یہ کارروائیاں ایسے متولیوں کے خلاف تھیں جنہوں نے اوقافی اراضی کو ذاتی قرار دیتے ہوئے فروخت کردیا تھا۔ اس کے علاوہ اہم اوقافی جائیدادوں پر قابضین کے خلاف کارروائی کی گئی۔ انہوں نے شہر کے مرکزی مقامات پر واقع اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور اراضی کی نشاندہی کیلئے سروے کرایا۔ ٹولی مسجد کے تحت واقع اراضی کی نشاندہی اور اس کی حد بندی کی کوشش نہ صرف سیاسی قائدین بلکہ محکمہ میں موجود ان کے ہمدردوں کو ناگوار گذری اور عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی ذمہ داری سے بھی ایم جے اکبر کو سبکدوش کردیا گیا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے جب انہوں نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسکیمات کی موثر عمل آوری اور بجٹ کے صحیح استعمال کی کوشش کی تو ان کے اختیارات کم کردیئے گئے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے عہدیدار مجاز کی ذمہ داری خود سنبھال لی اور ایم جے اکبر کو میمو روانہ کرتے ہوئے دیگر اقلیتی اداروں کے اُمور میں مداخلت سے روک دیا۔ چونکہ اقلیتی فینانس کارپوریشن میں کئی بے قاعدگیوں کا ارتکاب کیا گیا اور اس کے لئے سکریٹری سے قربت رکھنے والے افراد ذمہ دار ہیں لہذا سکریٹری نے اپنے لوگوں کو بچانے کیلئے کارپوریشن کو خود مختار ادارہ قراردیتے ہوئے ایم جے اکبر کو مداخلت سے روک دیا۔ اتنا ہی نہیں دیگر اقلیتی اداروں کے ذمہ داروں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ایم جے اکبر کے کسی بھی جائزہ اجلاس میں شرکت نہ کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر اور ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس اقلیتی فینانس کارپوریشن کا اجلاس طلب کرنے پر بھی اعتراض کیا گیا۔ حکومت نے اقلیتوں کیلئے 70اقامتی مدارس کے قیام کا اعلان کیا جس پر عمل آوری کیلئے ایس سی، ایس ٹی کی طرز پر علحدہ سوسائٹی تشکیل دی گئی لیکن ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو اس سوسائٹی میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔ حالانکہ ڈائرکٹر کے بغیر سوسائٹی کو اسکولوں کے قیام میں دشواری ہوسکتی ہے۔ اس طرح منصوبہ بند انداز میں ایم جے اکبر کو محکمہ سے ہٹانے کی سازش کی گئی اور آخر کار انہیں کامیابی مل گئی تاہم اخبارات اور سوشیل میڈیا نے ان طاقتوں کو بے نقاب کردیا ہے جو ایماندار عہدیدار کے تبادلہ کے ذمہ دار ہیں۔ ایم جے اکبر کو عہدیدار مجاز وقف بورڈ کے عہدہ سے ہٹانے کے بعد سکریٹری نے بتایا جاتا ہے کہ متولیوں کے حق میں کئی فیصلے کئے جن میں ایک متولی کے خلاف مقدمہ سے دستبرداری کا فیصلہ بھی شامل ہے جس سے شیخ محمد اقبال اور ایم جے اکبر نے انکار کردیا تھا۔ مذکورہ متولی چونکہ سکریٹری سے قربت رکھنے والے ریٹائرڈ عہدیدار کے بھائی ہیں لہذا ایم جے اکبر کو عہدہ سے ہٹانے تک یہ ممکن نہیں تھا۔

TOPPOPULARRECENT