Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اے کے خان اور عمر جلیل میں سرد جنگ،مسلمانوں کی تعلیمی و سماجی ترقی متاثر

اے کے خان اور عمر جلیل میں سرد جنگ،مسلمانوں کی تعلیمی و سماجی ترقی متاثر

چیف منسٹر کی نیک نامی داؤ پر
اے کے خان اور عمر جلیل میں سرد جنگ،مسلمانوں کی تعلیمی و سماجی ترقی متاثر
شادی مبارک ، اوورسیز اسکالر شپ ، مائیکرو فینانس و دیگر اسکیمات ٹھپ

حیدرآباد۔/12ستمبر، ( سیاست نیوز) روز نامہ’ سیاست ‘ نے محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی عدم کارکردگی اور اسکیمات پر موثر عمل آوری میں ناکامی کے بارے میں گزشتہ چند دنوں سے جو انکشافات کئے تھے وہ اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کے اجلاس میں درست ثابت ہوئے۔ کمیٹی نے اقلیتی بہبود کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو رپورٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کے سی آر جو اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں انہوں نے تلنگانہ کی تشکیل سے قبل مسلم اقلیت سے جو وعدے کئے تھے اُن سے کہیں زیادہ اسکیمات کا اعلان کیا تاکہ دلتوں سے زیادہ پسماندہ مسلمانوں میں تعلیمی اور معاشی ترقی ممکن ہوسکے۔ لیکن افسوس کہ مسلم عہدیداروں کے تقرر کے باوجود اسکیمات حقیقی مستحقین تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ اس سلسلہ میں جب ’سیاست‘ نے مختلف زاویوں سے وجوہات کا جائزہ لیا تو کئی ایسے اُمور منظر عام پر آرہے ہیں جو محکمہ کی کارکردگی میں رکاوٹ ہیں۔ مسلم عہدیداروں کی عدم دلچسپی اور ان کا اعلیٰ عہدیداروں پر اثر انداز نہ ہونا ایک اہم وجہ ہے تو دوسری طرف عہدیداروں کے درمیان سرد جنگ نے بھی محکمہ کی کارکردگی متاثر کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی بہبود پر کنٹرول کیلئے حکومت کے مشیر اور سکریٹری اقلیتی بہبود میں سرد جنگ جاری ہے اور اس صورتحال نے ماتحت عہدیداروں کو بھی دو خیموں میں تقسیم کردیا ہے۔ بعض عہدیدار حکومت کے مشیر کے ساتھ ہیں جبکہ دوسرے سکریٹری اقلیتی بہبود کے موقف کی تائید کررہے ہیں۔ یہ سرد جنگ نہ صرف محکمہ کی کارکردگی پر اثر انداز ہورہی ہے بلکہ اطلاعات کے مطابق دونوں نے اپنا اپنا مدعا چیف منسٹر کے دفتر تک پہنچادیا ہے۔ ایک دوسرے کے موقف اور انداز کارکردگی سے اختلاف نے یہ صورتحال پیدا کردی اور چیف منسٹر کا دفتر بھی اس معاملہ میں اُلجھن کا شکار ہے کہ آخر کس کے حق میں فیصلہ کرے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حکومت کے مشیر نے موجودہ سکریٹری کی جگہ کسی سینئر غیر مسلم عہدیدار کو سکریٹری مقرر کرنے کی چیف منسٹر کے دفتر سے سفارش کی اور اس سلسلہ میں مختلف ناموں پر غور کا آغاز ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض عہدیداروں سے اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے کے سلسلہ میں رائے حاصل کی گئی لیکن بیشتر غیر مسلم اعلیٰ عہدیدار اقلیتی بہبود میں آنے کیلئے راضی نہیں ہیں۔ حکومت کے مشیر اور سکریٹری اقلیتی بہبود کے مبینہ اختلافات حالیہ دنوں میں کھل کر منظر عام پر آچکے ہیں اور بعض معاملات میں دونوں نے علحدہ موقف اختیار کیا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود جو کہ کسی بھی محکمہ کے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ ہوتے ہیں انھیں اس بات کی شکایت ہے کہ مشیر کی جانب سے محکمہ کی روز مرہ سرگرمیوں میں مداخلت کی جارہی ہے۔ ہر مسئلہ پر مداخلت اور جائزہ اجلاسوں کے انعقاد سے سکریٹری کو آزادی کے ساتھ کام کرنے میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ مشیر جو کہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے صدرنشین بھی ہیں وہاں بھی وہ وقفہ وقفہ سے جائزہ اجلاس منعقد کررہے ہیں جو سوسائٹی سے وابستہ افراد کیلئے گراں گذررہا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جائزہ اجلاسوں سے کام کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور مشیر کو ہر معاملہ میں راست طور پر شامل ہونے کے بجائے نتیجہ کے بارے میں رپورٹ طلب کرنا چاہیئے۔ یوں تو حکومت نے کئی محکمہ جات کیلئے مشیروں کا تقرر کیا ہے لیکن کسی بھی محکمہ کے مشیر اس طرح روز مرہ کے اُمور میں مداخلت نہیں کرتے۔ اقلیتی بہبود کے مشیر کے تقرر سے قبل حکومت نے ویلفیر اسکیمات کیلئے مشیر کا تقرر کیا لیکن انہوں نے کبھی بھی روزانہ کی بنیاد پر مداخلت نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مشیر اور سکریٹری اقلیتی بہبود کا تنازعہ چیف منسٹر کے دفتر تک پہنچ چکا ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ چیف منسٹر کس کے موقف کی تائید کریں گے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کے علاوہ بعض اقلیتی اداروں پر نامزد کردہ قائدین کو بھی مشیر کے رویہ سے مبینہ طور پر شکایت ہے اور وہ اختلافات کے اس کھیل میں تماشائی کا رول ادا کررہے ہیں۔ حکومت کے مشیر کا یہ موقف ہے کہ اگر عہدیدار سنجیدگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے تو انھیں مداخلت کی ضرورت نہ پڑتی لیکن معاملہ کچھ مختلف ہے۔ عہدیدار نہ ہی اسکیمات پر عمل آوری اور نہ بجٹ کے حصول میں کامیاب ہیں۔ لہذا انہیں مجبوراً مداخلت کرنی پڑ رہی ہے۔ حکومت کی اسکیمات کے علاوہ مختلف پراجکٹس کی تعمیر کے سلسلہ میں بھی مشیر نے اپنے طور پر سرگرمیوں کو جاری رکھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی میں بعض ایسے افراد کی سرپرستی کی جارہی ہے جو مختلف بدعنوانیوں میں ملوث ہیں۔ سوسائٹی میں تقررات اور انفراسٹرکچر کی خریدی کے معاملہ میں جاری کرپشن و کمیشن سے متعلق شکایات پر کارروائی نہیں کی گئی برخلاف اس کے دیگر اداروں کے معاملات میں مشیر نے سخت گیر موقف اختیار کیا جس کے باعث دیگر اداروں کے عہدیدار اور نامزد عوامی نمائندے خوش نہیں ہیں۔ اتنا ہی نہیں یہاں تک شکایات ملی ہیں کہ سوسائٹی سے وابستہ اہم افراد کے رشتہ دار بھی سوسائٹی کے معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے مالی منفعت حاصل کررہے ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سے قربت رکھنے والے افراد کا ماننا ہے کہ مشیر چونکہ ریاست کے ایک اہم اپوزیشن قائد کے قریبی رشتہ دار ہیں لہذا وہ دیگر عہدیداروں کو نشانہ بنارہے ہیں تاکہ اپنی پسند کے افراد کو فائز کرسکیں۔ اعلیٰ عہدیداروں کی اس سرد جنگ کا خاتمہ چیف منسٹر یا ڈپٹی چیف منسٹر کی راست مداخلت کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔

TOPPOPULARRECENT