Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ا102 ارکان اسمبلی کو محل بنانے 102 کروڑ روپئے کی منظوری

ا102 ارکان اسمبلی کو محل بنانے 102 کروڑ روپئے کی منظوری

کاش غریبوں کے آشیانے بھی …
ا102 ارکان اسمبلی کو محل بنانے 102 کروڑ روپئے کی منظوری
عوامی فنڈس ضائع کرنے حکومت پر اپوزیشن کا الزام ، 100 کروڑ روپئے میں غریبوں کیلئے 3000 ڈبل بیڈ مکانات بن سکتے ہیں
حیدرآباد ۔ 5 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اپنے لیے 9 ایکڑ اراضی پر محل نما قیام گاہ اور کیمپ آفس بنانے کے بعد ریاست کے 102 ارکان اسمبلی کے لیے اسمبلی کے ہیڈکوارٹرس پر فی کس ایک کروڑ روپئے کے مصارف سے قیام گاہ اور آفس تعمیر کرنے کی منظوری دیتے ہوئے 102 کروڑ روپئے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایک دو دن میں ٹنڈرس طلب کئے جانے کے قوی امکانات ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں شامل 15 اسمبلی حلقوں میں اراضیات کی قلت کی وجہ سے فی الحال تعمیرات کے لیے قطعی فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں وعدے کے مطابق غریب عوام کو ڈبل بیڈ روم مکانات بنانے کے بجائے اپنے لیے پنجہ گٹہ کی 9 ایکڑ اراضی پر قیام گاہ اور کیمپ آفس تعمیر کرتے ہوئے 50 کروڑ روپئے عوامی فنڈز ضائع کرنے کا چیف منسٹر پر الزام عائد کررہے ہیں ۔ کے سی آر اس کی پرواہ کئے بغیر ریاست کے 119 اسمبلی حلقوں کے ارکان اسمبلی کو اپنے حلقوں کے عوام کو دستیاب رہنے اور ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کرنے ہر حلقہ اسمبلی کے ہیڈکوارٹر پر 600 تا 1000 گز اراضی پر 1+1 قیام گاہ اور کیمپ آفس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس پر ہر حلقہ میں تعمیر ہونے والے مکان پر ایک کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ کھلی اراضی پر چھوٹا مگر خوبصورت پارک ، فوارہ ، گاڑیوں کی پارکنگ کی سہولت رہے گی ۔ گراونڈ فلور پر بڑا ہال بھی تعمیر کیا جائے گا تاکہ ارکان اسمبلی اپنے حامیوں کے ساتھ جائزہ اجلاس بھی طلب کرسکے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ان تعمیرات کے لیے 102 کروڑ روپئے جاری کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ محکمہ مال نے تمام اسمبلی حلقوں میں کھلی اراضیات کی نشاندہی کی ہے اور اس کو محکمہ عمارت و شوارع کے حوالے کردیا ہے کیوں کہ تعمیرات کی ذمہ داری محکمہ عمارت و شوارع کو سونپی گئی ہے ۔ بعض ارکان اسمبلی نے ہیڈکوارٹر کے بجائے دوسرے علاقوں میں اراضیات کی نشاندہی کی ہے ۔ اس سے بھی اتفاق کیا گیا ہے ۔ دو مقامات پر ارکان اسمبلی نے دوسرے مقامات پر تعمیرات کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ اس لیے ان دو حلقوں کے لیے ٹنڈرس کا عمل پورا نہیں ہوا ہے ۔ محکمہ عمارت و شوارع نے تعمیرات کی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہے ۔ ایک سال میں تعمیرات مکمل ہوجائیں گی ۔ دو یا تین دن میں ٹنڈرس طلب کرنے کا قوی امکان ہے ۔ پہلی منزل پر ارکان اسمبلی کی قیام گاہ رہے گی جہاں تین بیڈ روم ہال وغیرہ تعمیر کرنے کی تجویز تیار کی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ حیدرآباد کے دو مقامات پر ارکان اسمبلی کے لیے کوارٹرس موجود ہے اور وزراء کے لیے علحدہ کوارٹرس ہیں ۔ بیشتر ارکان اسمبلی حیدرآباد یا اضلاع ہیڈکوارٹرس پر رہتے ہیں یا وہ جن اسمبلی حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں وہاں بھی ان کے اپنے ذاتی مکانات موجود ہیں اور وہ جب بھی اپنی قیام گاہ میں رہتے ہیں عوام سے ملاقات کرتے ہیں یہی 100 کروڑ روپئے ڈبل بیڈروم مکانات کے لیے خرچ کئے جاتے ہیں تو کم از کم 3000 غریب عوام کو ڈبل بیڈ روم مکانات فراہم کیے جاسکتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT