Wednesday , January 17 2018
Home / Top Stories / ا2019ء ا لیکشن میں این ڈی اے سے علحدگی اختیار کرنے والی تلگو دیشم پہلی پارٹی

ا2019ء ا لیکشن میں این ڈی اے سے علحدگی اختیار کرنے والی تلگو دیشم پہلی پارٹی

تلگو دیشم کے رکن اسمبلی واسو پلی گنیش نے دعویٰ کیا ہے کہ آندھراپردیش میں تلگو دیشم کے ووٹ 55 فیصد ہیں۔ جبکہ بی جے پی کا ووٹ فیصد 10 فیصد ہے۔ لہذا ہمیں اتحاد کے بغیر بآسانی کامیابی کا یقین ہے۔

حیدرآباد۔یکم۔جنوری(سیاست نیوز) آندھراپردیش میں برسر اقتدار تلگو دیشم کا بی جے پی کے ساتھ ہنی مون کیا 2019 ء میں ختم ہوجائے گا؟ گجرات اور ہماچل پردیش میں بی جے پی کی کامیابی آندھراپردیش کی سیاست پر اثرانداز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جنوبی ہند میں پارٹی کو مستحکم کرنے کی تیاریوں میں مصروف بی جے پی قیادت کو آندھراپردیش میں قدم جمانے کیلئے تلگو دیشم کی ضرورت اب محسوس نہیں ہورہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب سے آئندہ انتخابات میں تنہا مقابلہ سے متعلق بیانات کھلے عام دیئے جارہے ہیں ، جس سے دونوں پارٹیوں میں پیدا شدہ تعلقات میں تلخیاں واضح دکھائی دینے لگی ہیں۔ آندھراپردیش کی ترقی میں مرکزی حکومت کے عدم تعاون اور حالیہ عرصہ میں چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کو ملاقات کیلئے نریندر مودی کی جانب سے وقت نہ دیئے جانے سے ناراض تلگو دیشم قائدین 2019 ء میں تنہا مقابلہ کی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر تعلقات میں جاری سرد مہری اور تلخی اسی طرح برقرار رہی تو تلگو دیشم وہ پہلی پارٹی ہوگی جو بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے سے علحدگی اختیار کرلے گی۔ مبصرین کے مطابق تلگو دیشم کو گجرات اور ہماچل کے نتائج کا انتظار تھا۔ اگر گجرات میں بی جے پی کو شکست ہوتی تو تلگو دیشم ابھی سے اپنے باغیانہ تیور کا اظہار کرتے لیکن گجرات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد پارٹی کی نظریں اب کرناٹک پر ٹکی ہیں۔ کرناٹک میں نتائج کا اثر دونوں جماعتوں کے اتحاد پر ضرور پڑے گا۔ دونوں پارٹیوں میں کشیدگی اس وقت کھل کر منظر عام پر آگئی جب امراوتی میں گجرات کی کامیابی کا جشن منانے میں مصروف بی جے پی قائدین نے واضح کردیا کہ انہیں اب تلگو دیشم کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بی جے پی قائد ایس ویرا راجو جو قانون ساز کونسل کے ممبر ہیں ، کہا کہ تلگو دیشم کے موجودہ رویہ کو بی جے پی مزید برداشت نہیں کرے گی ۔ اس کے جواب میں تلگو دیشم کے ایم ایل سی راجندر پرساد نے کہا کہ بی جے پی نے تلگو دیشم کی مدد سے آندھراپردیش میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اسمبلی میں تلگو دشیم کے 103 ارکان ہے جبکہ بی جے پی ارکان کی تعداد صرف 4 ہے ۔ قانون ساز کونسل میں تلگو دیشم کے 30 ارکان ہیں جبکہ بی جے پی کے صرف 2 ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ 2019 ء کے عام انتخابات میں این ڈی اے سے علحدگی اختیار کرنے والی پہلی پارٹی تلگو دیشم ہوگی۔ تلگو دیشم کے رکن اسمبلی واسو پلی گنیش نے دعویٰ کیا ہے کہ آندھراپردیش میں تلگو دیشم کے ووٹ 55 فیصد ہیں۔ جبکہ بی جے پی کا ووٹ فیصد 10 فیصد ہے۔ لہذا ہمیں اتحاد کے بغیر بآسانی کامیابی کا یقین ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف اضلاع میں تلگو دیشم اور بی جے پی قائدین اور کیڈر کے درمیان ضلع کی سیاست پر غلبہ حاصل کرنے کیلئے مسابقت کی جنگ شروع ہوچکی ہے۔ تعلقات میں کشیدگی اور سرد مہری کیلئے دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہیں۔ گزشتہ تین ماہ میں چندرا بابو نائیڈو نے جب کبھی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی کوشش کی، وزیراعظم کے دفتر میں مصروفیت کا بہانہ بنادیا۔ مرکزی کابینہ میں تلگو دیشم کے وزراء موجود ہیں اور انہوں نے بھی وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت طئے کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ بی جے پی کو شکایت ہے کہ چندرا بابو نائیڈو نے حالیہ عرصہ میں دو مرتبہ جان بوجھ کر نریندر مودی کو پریشان کرنے کی کوشش کی ہے۔ 30 ء نومبر کو چندرا بابو نائیڈو کو پولاورم پراجکٹ کی تعمیر میں رکاوٹ کیلئے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے دو دن بعد آندھراپردیش اسمبلی میں کاپو طبقہ کو ملازمتوں اور روزگار میں 5 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہوئے بل منظور کیا گیا۔ تحفظات کا یہ بل مرکز کی منظوری کیلئے ایسے وقت روانہ کیا گیا جب نریندر مودی گجرات کی انتخابی مہم میں مصروف تھے اور وہ پاٹیدار طبقہ کی جانب سے تحفظات کے مطالبہ کا سامنا کر رہے تھے۔ تحفظات کا مطالبہ کرتے ہوئے پاٹیدار طبقہ نے بی جے پی سے بغاوت کردی۔ ان حالات میں کاپو طبقہ کیلئے تحفظات کی منظوری کا مطالبہ نریندر مودی کیلئے مزید الجھن کا باعث بن گیا۔ دونوں پارٹیوں میں بڑھتی دوری کے باوجود بی جے پی کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ ہری بابو نے اس یقین کا اظہار کیا کہ 2019 ء الیکشن میں دونوں پارٹیاں متحدہ طور پر مقابلہ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں میں کوئی مسائل ہوں تو انہیں مشاورت کے ذریعہ حل کرلیا جائے گا۔ اعلیٰ قائدین بھلے ہی لاکھ دعوے کریں لیکن بی جے پی کیڈر ماننے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی مہم کیلئے آر ایس ایس کیڈر موجود ہیں ، جو رقم کے لالچ کے بغیر ہی دیانتداری کے ساتھ کام کرتا ہے۔ جبکہ تلگو دیشم کیڈر میں رقومات کی تقسیم ضروری ہے۔ بی جے پی نے بتایا جاتا ہے کہ بوتھ سطح پر کیڈر کو مستحکم بنانے کی جو مہم تین سال قبل شروع کی تھی ، اس کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اب جبکہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی تائید کے بغیر انتخابات جیتنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ 2019 ء تک آندھرا کی سیاست کس کروٹ بیٹھے گی۔ موجودہ سیاسی حالات پر چندرا بابو نائیڈو پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہے ہیں اور وہ پارٹی قائدین کو بی جے پی کی کھل کر مخالفت سے روکنے میں مصروف ہیں۔ چیف منسٹر کے دورہ مالدیپ کے موقع پر رکن مقننہ ایس ویرا راجو نے بی جے پی کے خلاف سخت بیان دیا تھا، بعد میں چندرابابو نائیڈو نے وطن واپسی کے بعد ان کی سرزنش کی۔

TOPPOPULARRECENT