Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / ا64 اسٹانڈنگ کونسلس کے تقررات، صرف دو مسلم وکلاء کو موقع

ا64 اسٹانڈنگ کونسلس کے تقررات، صرف دو مسلم وکلاء کو موقع

مسلم نمائندوں کی کم تعداد میں نمائندگی سے ناانصافی، سینئر ایڈوکیٹ رماکانت ریڈی کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 19 مارچ (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کی مسلم وکلاء برادری کی بہبود کیلئے سرکاری طور پر اقدامات کئے جانے چاہئے۔ تاہم حالیہ سرکاری احکامات میں حکومت کی جانب سے مسلم وکلاء یکسر طور پر نظرانداز کردیئے گئے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر ایڈوکیٹ مسٹر رماکانت ریڈی نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے حالیہ دنوں میں ایک جی او جاری کرتے ہوئے 64 اسٹانڈنگ کونسل کا تقرر عمل میں لایا، جس میں صرف دو مسلم وکلاء کو موقع دیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اسٹانڈنگ کونسل کا تقرر حکومت کا اختیار ہے اور اس میں مسلمانوں کو نمائندگی دی جانی چاہئے تھی اور اس تقررات میں حکومت نے اپنے وعدہ کے مطابق 12 فیصد پر عمل کیا اور نہ ہی 4 فیصد پر عمل کیا گیا اور حکومت مسلم نمائندگی میں اضافہ کیلئے نہ ہی دستور میں ترمیم کرنے کی ضرورت تھی اور نہ ہی فیصلہ پر کسی کو اختلاف اور رکاوٹ پیدا کی جاسکتی تھی۔ ایڈوکیٹ رماکانت ریڈی جو جاریہ ماہ 30 مارچ کو منعقدہ تلنگانہ اسٹیٹ ہائیکورٹ ایڈوکیٹ اسوسی ایشن کے انتخابات میں صدر کیلئے مقابلہ کررہے ایک مسلم دوست وکیل کی حیثیت سے شناخت رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ضروری نہیں کہ چیف منسٹر اس مسئلہ سے واقف ہوں لیکن ضرورت یہ ہیکہ ہم انہیں واقف کروائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر اس مسئلہ کی فوری یکسوئی کردیں گے۔ تاہم نمائندگی کی جانی چاہئے۔ مسٹر رماکانت ریڈی کو مسلم ایڈوکیٹ کی ایک بڑی تعداد پسند کرتی ہے اور انہیں مسلم وکلاء کی اکثریت کی حمایت حاصل ہوچکی ہے۔ انہوں نے مسلم ایڈوکیٹ کو اس بات کا یقین دیدیا کہ وہ خود چیف منسٹر سے نمائندگی کرلیں گے۔ انہوں نے کہاکہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں 5 اسٹینڈنگ کونسل ہے اور کارپوریشن میں کارپوریٹرس اور شہر میں مسلم آبادی خاصی تعداد میں پائی جاتی ہے۔ ایسے شہر میں بالخصوص بلدی شعبہ میں مسلم ایڈوکیٹ کو اسٹینڈنگ کونسل کا موقع دیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی بہبود کیلئے آواز بلند کرنی چاہئے۔ سینئر ایڈوکیٹ مسٹر رماکانت ریڈی کا تعلق مسٹر رنگاریڈی سے ہے جن کے نام سے ضلع رنگاریڈی کو موسوم کیا گیا۔ وہ اپنے دادا کے مشن پر عمل پیرا ہیں۔ یہ خاندان ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان رہا ہے جس کے سبب مسلمانوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہے۔ عدالتوں میں مسلمانوں کی بے بسی اور بے کسی اور ان کی تکلیف کو قریب سے محسوس کرتے ہوئے انہوں نے مسلم وکلاء کی بہبود کا نعرہ بلند کیا ہے۔ اسٹینڈنگ کونسل میں مواقع فراہم کرنے سے مسلم وکلاء کی بہبودگی اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا موقع ملے گا۔ دیگر صورت میں مسلمان تعلیم یافتہ ہوتے ہوئے بھی مزید تاریکی اور پسماندگی کا شکار ہوجائیں گے اور دوسرے مسلمان وکلاء کے پیشہ سے وابستہ ہونے کی خواہش کرنے کیلئے سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ بلدی نظم و نسق، دواخانوں، واٹر بورڈ، ٹرانسپورٹ، سنگارینی، برقی بورڈ، اسمال انڈسٹری، سیول سپلائز و دیگر کے علاوہ ضلع پریشد کے اسٹینڈنگ کونسل میں مواقع فراہم کیا جانا ہے تو مسلم وکلاء کی شناخت بنے گی ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی اس معاشرے کی ترقی کے بھی ممکنہ اقدامات کو پورا کرنے کی سمت تاریخی اقدام تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ وہ پیشہ وکالت سے وابستہ ہیں۔ لہٰذا پہلے وہ مسلم وکلاء کی بہبود پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور اس کے بعد مسلمانوں کے دیگر مسائل پر جدوجہد جاری کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT