Friday , June 22 2018
Home / سیاسیات / بائیں بازو پارٹیاں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کوشاں

بائیں بازو پارٹیاں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کوشاں

کولکتہ 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) انحراف پسندیوں، باغیانہ سرگرمیوں اور تنظیمی بحران سے دوچار بائیں بازو محاذ نے توقع ظاہر کی ہے کہ مغربی بنگال میں آنے والے لوک سبھا انتخابات کا مقابلہ متحدہ طور پر کیا جائے گا اور بائیں بازو اتحاد اپنی افادیت کو ثابت کر دکھائے گا۔ تاہم کانگریس، بی جے پی اور حکمراں ترنمول کانگریس میں مخالف بائیں بازو مح

کولکتہ 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) انحراف پسندیوں، باغیانہ سرگرمیوں اور تنظیمی بحران سے دوچار بائیں بازو محاذ نے توقع ظاہر کی ہے کہ مغربی بنگال میں آنے والے لوک سبھا انتخابات کا مقابلہ متحدہ طور پر کیا جائے گا اور بائیں بازو اتحاد اپنی افادیت کو ثابت کر دکھائے گا۔ تاہم کانگریس، بی جے پی اور حکمراں ترنمول کانگریس میں مخالف بائیں بازو محاذ ووٹوں کی تقسیم سے اِنھیں فائدہ حاصل ہوگا۔ فارورڈ بلاک جنرل سکریٹری دبابرتا بسواس نے کہاکہ مغربی بنگال لوک سبھا انتخابات میں ہمارا مقابلہ اِس بات کو ثابت کردے گا کہ بائیں بازو محاذ کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ بسواس کا احساس ہے کہ ٹی ایم سی، کانگریس اور بی جے پی کے اندر انتشاری کیفیت کا فائدہ بائیں بازو کو حاصل ہوگا۔ اِن پارٹیوں نے کوئی اتحاد کئے بغیر تنہا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لوک سبھا 2009 ء اور اسمبلی انتخابات 2011 ء میں سی پی آئی (ایم) اور بائیں بازو پارٹیوں کو بدترین شکست ہوئی تھی۔ سی پی آئی (ایم) لیڈر محمد سلیم نے زور دے کر کہاکہ اِس مرتبہ مغربی بنگال میں بائیں بازو کے حق میں اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ 1977 ء سے کسی خلل کے بغیر 34 سال تک حکومت کرنے کے بعد سی پی آئی (ایم) زیرقیادت بائیں بازو کو ممتا بنرجی زیرقیادت ترنمول کانگریس نے بدترین شکست دی تھی۔ 2011 ء اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس نے کانگریس سے اتحاد کیا تھا۔ بائیں بازو اتحاد کو 2009 ء کے لوک سبھا انتخابات میں پہلی مرتبہ بہت بڑا جھٹکہ لگا تھا جہاں اِس کے نصف سے زیادہ نشستوں پر ترنمول کانگریس اور کانگریس اتحاد نے قبضہ کرلیا تھا اور اِس اتحاد کو صرف 15 نشستیں ملی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT