Thursday , November 15 2018
Home / ہندوستان / باباؤںکووزارت‘ ہر طبقہ کو جوڑنے کی کوشش :شیوراج

باباؤںکووزارت‘ ہر طبقہ کو جوڑنے کی کوشش :شیوراج

ٹیکم گڑھ، 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پانچ سادھو سنتوں کو مدھیہ پردیش میں وزیر مملکت کا درجہ دینے پر اٹھے تنازعہ کے درمیان چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبودکے کاموں میں سماج کے ہر طبقے کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ شیوراج چوہان نے کل ریاست کے ضلع ٹیکم گڑھ میں نامہ نگاروں کے اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں یہ بات کہی۔ایک اور سوال کے جواب میں مسٹر چوہان نے کہا کہ حکومت نے نرمدا کنارے شجرکاری، پانی کے تحفظ اور حفظان صحت کے لئے عوامی بیداری مہم چلانے کے لئے خصوصی کمیٹی قائم کی ہے ، جس میں کمپیوٹر بابا کو ممبر بنایا گیا ہے ۔ کمیٹی میں کمپیوٹر بابا کے علاوہ نرمدانند مہاراج ، ھری ھرانند مہاراج ، بھیو مہاراج اور پنڈت یوگیندر مہنت کو بھی ممبر بنایا ہے ۔وزیر اعلی نے کہا کہ سماج کا ہر طبقہ ترقی کے اور عوامی فلاح و بہبودکے کاموں میں جڑے ، لہذا سماج کے ہر طبقہ کو شامل کرنے کی کوشش حکومت کی طرف سے کی جا رہی ہے ۔وہیں ضلع کے جتارا میں عام لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر چوہان نے کہا کہ حکومت ریاست کے کسانوں کو ان کی فصل کا پورا فائدہ دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ کسانوں کو سوکھا راحت کے ساتھ ساتھ پیداوار پر بھرپور فائدہ دیا جائے گا۔وہیں دوسری جانب سادھو سنتو ں کے مرکزی ادارے آل انڈیا اکھاڑہ پریشد نے مدھیہ پردیش میں باباؤں کے وزیر مملکت کا عہدہ قبول کرنے کی مذمت کی ہے ۔ اکھاڑہ پریشد کے صدر مہنت نریندر گیری نے آج یہاں کہا کہ سادھو سنت کا درجہ کسی بھی وزیر سے کہیں اوپر ہوتا ہے ۔ سادھو سنتوں کو اس لالچ کو ٹھکرانا چاہئے ۔ ایسا نہیں کرنے پر معاشرے میں سادھو سنتوں کا احترام یقینی طور پر کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت نے سادھو سنت سماج کو اس قسم کا لالچ دے کر یقینی طور پر قابل مذمت کام کیا ہے ۔ مہنت نریندر گیری نے کہا کہ اگر سادھو سنت وزیر بن جائے تو کیسا احترام ہوگا۔ وزیر کو سادھو سنت ہونا چاہئے اور سنتوں کو ریاست کے اقتدار سے اپنے کو دور رکھنا چاہئے ۔ اقتدار سنتو ں کے لئے نہیں ہوتااور انہیں اپنے کام کے لئے کسی عہدے کی ضرورت بھی نہیں ہونی چاہئے ۔ شری پنچایتی اکھاڑا اداسین نروان کے شري مھنت مہیشور داس نے کہا کہ سادھو سنتوں کا سچائی کے راستے پر چلنا اور عوامی بہبود اور مفاد کی بات سوچنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ لالچ اور سنت کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اکھل بھارتیہ دھرماچاریہ منچ کے قومی جنرل سکریٹری سوامی کشیمني نے کہا کہ لالچ لے کرسادھو سنت اور مدھیہ پردیش حکومت کے سربراہ نے تاریخ اور مذہب کو داغدار کرنے کا کام کیا ہے ، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔

TOPPOPULARRECENT