بابارامپال کو ہائیکورٹ میں حاضری کے بعد جیل بھیج دیا گیا

چندی گڑھ ۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) خودساختہ بھگوان رامپال کو گرفتاری کے ایک دن بعد توہین عدالت کے ایک کیس میں پنجاب و ہریانہ ہائیکورٹ میں پیش کردیا گیا اور انہیں جوڈیشیل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کو 28 نومبر تک ملتوی کردی اور ہریانہ پولیس سربراہ کو ہدایت دی کہ ایک حلفنامہ داخل کرتے ہوئے ضلع حصار میں واقع آشرم

چندی گڑھ ۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) خودساختہ بھگوان رامپال کو گرفتاری کے ایک دن بعد توہین عدالت کے ایک کیس میں پنجاب و ہریانہ ہائیکورٹ میں پیش کردیا گیا اور انہیں جوڈیشیل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کو 28 نومبر تک ملتوی کردی اور ہریانہ پولیس سربراہ کو ہدایت دی کہ ایک حلفنامہ داخل کرتے ہوئے ضلع حصار میں واقع آشرم سے بابا رامپال کی گرفتاری کیلئے کارروائی کے طریقہ کار اور اس کے نقصانات، زخمی افراد، آشرم میں دستیاب اسلحہ و گولہ بارود کی تفصیلات پیش کریں۔ واضح رہیکہ توہین عدالت کیس میں رامپال ہائیکورٹ میں حاضری سے بچنے کی کوشش میں تھے جبکہ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی تھی کہ جمعہ تک انہیں پیش کیا جائے۔ مقررہ تاریخ کی پابندی کیلئے پولیس نے گذشتہ شب بابا رامپال کو ان کے حامیوں کی شدید مزاحمت اور پرتشدد جھڑپوں کے دوران آشرم سے گرفتار کرلیا گیا۔ 63 سالہ متنازعہ تانترک 2006ء کے قتل کیس میں عدالت میں حاضر نہیں ہوئے تھے جس پر ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس درج کرتے ہوئے 10 نومبر کو غیرضمانتی وارنٹ کی تعمیل کروائی تھی۔ تاہم ہریانہ پولیس 10 نومبر کو انہیں عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہی اور رامپال کو عدالت میں پیش کرنے کیلئے دوبارہ 17 نومبر تاریخ مقرر کی تھی۔ اس کے باوجود وہ حاضر نہیں ہوسکے جس کے بعد 21 نومبر کو انہیں ہر قیمت پر عدالت میں پیش کرنے کیلئے تیسری مرتبہ غیرضمانتی وارنٹ جاری کیا گیا۔

پولیس صبرآزما اور طویل کارروائی (آپریشن) کے بعد کل انہیں آشرم سے گرفتار کرلیا اور آج انہیں ہائیکورٹ میں 2 بجے دن پیش کیا۔ وکیل دفاع مسٹر ایس کے گارگ نے عدالت کو بتایا کہ آشرم میں بابا رامپال کو محروس کردیا گیا جس کے باعث وہ عدالت میں حاضر ہونے سے قاصر تھے۔ دریں اثناء ہریانہ پولیس نے آج متنازعہ سوامی رامپال کے ست لوک آشرم میں دو ہفتہ طویل کشیدگی اور تعطل کے پیش نظر مخصوص کیسوں کی تحقیقات کیلئے اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیم کی تشکیل کے احکامات جاری کئے ہیں۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ حصار ضلع مسٹر ستیندر کمار گپتا کی زیرقیادت خصوصی تحقیقاتی ٹیم سنگین نوعیت کے کیسوں کی تحقیقات کرے گی۔ پولیس نے تازہ 35 کیس درج کئے ہیں جس میں 63 سالہ بابا رامپال اور ان کے حامیوں اور معاونین کے خلاف ملک کے خلاف جنگ کا خصوصی کیس شامل ہے۔ پولیس نے آشرم کے واقعات پر 460 افراد کو مختلف الزامات میں گرفتار کرلیا۔

سیکوریٹی کا عملہ آج میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ آشرم میں داخل ہوا اور رامپال کے مزید حامیوں کو باہر نکال دیا جنہیں رامپال کی خانگی فوج آشرم میں زبردستی روک لیا تھا۔ بعدازاں پولیس نے آشرم کا چپہ چپہ چھان مارا جہاں سے بعض مشتبہ افراد کی تصاویر دستیاب ہوئیں۔ 12 ایکڑ پر محیط آشرم میں ہزارہا افراد کے قیام و طعام کی سہولت تھی۔ میڈیا کے نمائندوں نے دیکھا کہ آشرم میں غذائی اشیاء اور پانی کی بوتلیں پڑی ہوئی تھیں جبکہ رامپال اور ان کے چیلوں کیلئے سوئمنگ پول اور دیگر عصری سہولیات دیکھی گئی۔ علاوہ ازیں سی سی ٹی وی کیمرے، میٹل ڈیٹکٹر نصب تھے اور رامپال کے حامیوں میں سابقہ فوجی اور ریٹائرڈ پولیس عہدیدار بھی شامل تھے۔ عدالت میں حاضری کے بعد رامپال نے میڈیا سے کہا کہ ان کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT