Friday , December 15 2017
Home / اداریہ / بابری مسجد۔ رام مندر تنازعہ زندہ

بابری مسجد۔ رام مندر تنازعہ زندہ

اعتماد آتا نہیں ہر ایک پر
دوست میرا ہے تو عیاری نہ کر
بابری مسجد۔رام مندر تنازعہ زندہ
مندر کی ٹھیکہ داری مضبوط ہورہی ہے، ظالمانہ نظام مزید سخت ہوتا جائے گا۔ استحصال کی علامت کے طور پر سیاسی حالات تبدیل ہورہے ہیں۔ بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی کا مسئلہ دوبارہ اُٹھ چکا ہے۔ یو پی میں حالیہ اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد بی جے پی نے اپنے انتخابی مہم جو اور ہندوتوا کے کٹر پسند لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ کو چیف منسٹر بناتے ہی رام مندر کے مسئلہ پر بحث تیز کردی گئی۔ رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد تنازعہ کا عدالت کے باہر حل تلاش کرنے چیف جسٹس آف انڈیا کی تجویز کے بعد اس مسئلہ سے وابستہ دونوں فریقوں کے درمیان صرف ایک فریق کو طاقتور گوشہ الاٹ کرنے والی طاقتوں نے شاید رام مندر کی تعمیر کا تہیہ کرلیا ہے تب ہی عدالت کے باہر مسئلہ کی دوستانہ یکسوئی کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس مسئلہ پر ماضی میں کئی مرتبہ دوستانہ حل نکالنے کیلئے بات چیت ہوئی ہے مگر کسی بھی فریق نے حل نکالنے کی جانب اُمید ظاہر نہیں کی خاص کر بابری مسجد کے مقام اور ملکیت کے مسئلہ کو عدالتی چارہ جوئی سے دوچار کرنے والوں نے اب تک اس مسئلہ کو لیت و لعل کا شکار بنائے رکھا، اب اچانک سے سپریم کورٹ کا یہ مشورہ کہ رام مندر ۔ بابری مسجد تنازعہ کی عدالت کے باہر یکسوئی کرلی جائے، کئی ایک شبہات کو جنم دیتی ہے۔ عدالت کو سب سے پہلے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس مسئلہ میں ایودھیا کی اس متنازعہ اراضی کی ملکیت کے بارے میں قانونی شواہد اور ثبوت کی رو سے کیا قدم اٹھانا ہے۔ یو پی میں چیف منسٹر کی حیثیت سے آدتیہ ناتھ کا تقرر ریاست کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس نے مل کر اپنے اصل ہندوتوا کاز کو آگے بڑھانے کا کام کردیا ہے، اب سپریم کورٹ کی تجویز آر ایس ایس ۔ بی جے پی کے ہندوتوا کاز کو مزید مضبوطی عطاء کرنے کا بہانہ بن سکتی ہے۔ یہ تنازعہ سارے ملک کے ہندوؤں، مسلمانوں کے درمیان ایک کانٹے کی حیثیت رکھتا ہے، اس کو دوبارہ زندہ کرکے آزادی سے لیکر اب تک مذہبی تشدد کے جو بدترین واقعات رونما ہوتے آرہے تھے اس میں ایک نئی آگ جھونک دی جائے گی۔ یہ مسئلہ ہر انتخابات میں ہندوتوا پارٹیوں کا پسندیدہ نعرہ ہوا کرتا ہے۔ حالیہ یو پی انتخابات میں بھی یوگی آدتیہ ناتھ کی انتخابی مہم میں رام مندر ہی مرکزی موضوع تھا۔ 1528 میں میر بقی کی جانب سے تعمیر کردہ بابری مسجد کو تنازعہ بنانے والی طاقتوں نے آزادی ہند کے بعد 1949 میں تاریکی میں بھگوان رام کی مورتیاں رکھ کر اس جگہ کو رام کی جائے پیدائش قرار دینے والوں کی سازشیں اب رنگ لاچکی ہیں۔1992 میں بابری مسجد کو شہید کرکے تشدد برپا کرنے والی طاقتوں نے ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام بھی کیا تھا، ملک بھر میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے والی فرقہ پرست طاقتوں نے اب ہندوستانی سماجی و سیاسی کردار پر اپناغلبہ حاصل کرلیا ہے تو اس تنازعہ کی عدالت کے باہر یکسوئی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ کر بات چیت کا سہارا لینے کا مشورہ دے رہا ہے تو اس میں چیف جسٹس آف انڈیا کی نگرانی کی بھی پیشکش کی گئی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا کی ثالثی میں مندر۔ مسجد بات چیت کی راہ ہموار ہو اور اس بات چیت کو ایک قانونی موقف بھی مل جائے، مگر یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ سیاسی طاقت حاصل کرنے والی ہندوتوا قوتیں دوستانہ، سمجھداری یا ہمدردانہ طریقہ سے بات چیت کو شفاف و انصاف پسند ماحول میں انجام دیں گی۔ جو چیز 1949ء میں انجام دی گئی تھی اور اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے بابری مسجد کے مقام سے مورتیاں ہٹانے کی چیف منسٹر جی بی پنت پر زور دیا تھا تو اس وقت بھی ہندوتوا طاقتوں نے اپنی ضد اور طاقت یا ہٹ دھرمی کی خراب مثال قائم کی تھی اور اب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی ثالثی میں یہ بات چیت کی راہ ہموار ہوتی ہے تو اس کا حل نکالنے کی سنجیدہ کوشش ہوسکے گی یہ خلاف توقع ہے۔ ہندوتوا کاز کو آگے بڑھانے میں کامیاب گروپس اپنی پالیسی اور منصوبہ سے ہٹ کر کوئی بات قبول نہیں کریں گے تو بابری مسجد سے وابستہ فریق یا تو دھوکہ کا شکار بنادیئے جائیں گے یا سیاسی قوت کے ذریعہ غالب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ہر دو صورتوں میں تنازعہ کی یکسوئی ممکن نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ کو اس تنازعہ کی سنگینی کا اندازہ ضرور ہے مگر اس کی تجویز پر بھی کئی سوال اُٹھتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ بابری مسجد۔ رام جنم بھومی کی متنازعہ اراضی کے تین حصے یعنی ایک حصہ رام لالہ، دوسرا اسلامی سنی وقف بورڈ اور تیسرا حصہ نرموہی اکھاڑہ کو کس طرح تقسیم کیا جائے گا۔؟ یہ مسئلہ بات چیت کے ذریعہ حل نہیں ہونے کی وجہ سے دونوں فریق سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ اب اپنی ذمہ داری عدالت کے باہر ڈھکیل رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT