Monday , May 28 2018
Home / Top Stories / بابری مسجد ، مسلم پرسنل لابورڈ اور مولانا سلمان ندوی – ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس*

بابری مسجد ، مسلم پرسنل لابورڈ اور مولانا سلمان ندوی – ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس*

مسلم پرسنل لابورڈ کے حیدرآباد اجلاس کے بعد سے ملکی اخبارات ، نیوز چینلوں اور سوشل میڈیا پر بورڈ اور بعض ارکان بورڈ کے خلاف گمراہ کن اور جھوٹا پروپیگنڈا مسلسل اور بے تکان جاری ہے۔ ہم لوگ بالعموم اس بات کا بطور خاص اہتمام کرتے ہیں کہ بورڈ کے اجلاس کے اندرونی مباحث پر عوام اور میڈیا میں گفتگو نہ ہو جب تک کہ خود بورڈکی طرف سے وہ چیزیں عوامی نہ کردی جائیں۔ لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اگر تصویر کے صحیح رخ اور عاملہ کے اجلاس کے مباحث کو صحیح تناظر میں عوام کے سامنے پیش نہ کیا جائے تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ مسلم پرسنل لابورڈ جو مسلمانان ہند کا واحد متفقہ، مشترکہ اور متحدہ پلیٹ فارم ہے ،اس کی ساکھ متاثر نہ ہوجائے اور اسی طرح بعض ارکان بورڈ سے عوام بدظن نہ ہوجائیں اسی لیے بادل ناخواستہ قلم اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

مولانا سلمان ندوی صاحب نے عاملہ کی میٹنگ سے باہر جاکر انڈیا ٹی وی کو جو انٹرویو دیا وہ انتہائی گمراہ کن، یک طرفہ اور جھوٹ وکذب بیانی کا پلندہ ہے، مولانا سے اس کی ہرگز بھی توقع نہیں تھی۔ غالباً اسی انٹرویو نے تادیبی کمیٹی کو اس آخری اقدام کے لیے مجبور کیا،بصورت دیگر شاید تادیبی کمیٹی ان کی گرفت، تنبیہ اور نوٹس دینے پر ہی اکتفا کرتی۔ مولانا سلمان ندوی نے اپنے انٹرویو میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ محض دو تین افراد نے ہی ان کی شری شری روی شنکر سے ملاقات اور بابری مسجد پر ان کے موقف کی مخالفت کی۔ حالانکہ اجلاس میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جو ان کا ہمنوا اور حامی رہا ہو۔ حاضر ارکان کی اکثریت نے ان کے رویہ اور عاملہ کے اجلاس سے محض ایک دن قبل شری شری روی شنکر سے ملاقات اور ان کے مضحکہ خیز بیان پر حیرت واستعجاب کا اظہار کرتے ہوئے اس کی ملامت کی تھی۔

یہ کہنا کہ اجلاس میں بعض ارکان نے ہلا اور ہڑبونگ کی اور انہیں اپنا موقف پوری طرح رکھنے نہیں دیا ،بالکل ہی بے بنیاد اور جھوٹی بات ہے۔ مسلم پرسنل لابورڈ مسلمانان ہند کا ایک موقر دینی وملی پلیٹ فارم ہے جس میں ملت کی تمام اہم دینی وملی جماعتیں، اکابرعلما ودانشور شامل ہیں۔ بورڈکے اجلاس میں انتہائی سنجیدہ ، مدلل اور باوقار انداز میں گفتگو اور بحث ہوتی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ جس اجلاس کی صدارت حضرت مولانارابع حسنی ندوی مدظلہ جیسی شخصیت کررہی ہو ، اسٹیج پر حضرت مولانا ارشد مدنی مدظلہ، مولانا محمد ولی رحمانی صاحب، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جیسی معتبر اور مستند شخصیات موجود ہوں وہاں کوئی ہڑبونگ اور ہلڑ بازی کرنے کی جرأت کرسکتا ہے اور کیا مولانا ولی رحمانی جو اجلاس کو چلارہے تھے وہ اس کی اجازت دیتے۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ سب سے لمبی اور طویل گفتگو خود مولانا سلمان ندوی نے ہی کی اور کئی کئی بار کی۔ متعدد بار مولانا ولی رحمانی کو انہیں ٹوکنا پڑا کہ آپ خطاب مت کیجئے بلکہ سوالوں کا جواب دیجیے، لیکن وہ صرف اپنی ہی کہتے رہے۔

یہ سچ کہ مولانا ولی رحمانی صاحب سے اجازت لے کر سب سے پہلے میں نے مولانا سلمان ندوی صاحب کا نام لیے بغیر جنرل سکریٹری کی معرفت ان سے بعض سوالات کیے تھے۔ میرا سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے 1990اور 1993کے دو عاملہ کے اجلاسوں میں جس میں بورڈ کے باہر کے بھی اہم دینی علمائے کرام کو مدعوکیا گیا تھا، بابری مسجد کے مسئلہ پر ایک متفقہ شرعی موقف اختیار کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’ مسجد کی عمارت منہدم کیے جانے کے بعد وہ زمین جس پر 1528میں مسجد کی بنیاد ڈالی گئی تھی شرعاً مسجد ہے اور قیامت تک مسجد رہے گی اور مسجد کی حرمت سے متعلق تمام شرعی احکامات اس خطہ آراضی پر آج بھی نافذ ہیں۔ عمارت گرا دینے یا مورتیوں کو رکھ دینے اور ظلم وجبر کے ساتھ بتوں کی پوجا جاری کرادینے سے مسجد کا مسجدہونا ختم نہیں ہوتا اور ایک عرصہ تک چاہے یہ عرصہ کتنا ہی طویل ہو، نماز کا نہ پڑھنا مسجد کی شرعی حیثیت کو ختم نہیں کرتا۔

مسجد اینٹ، پتھر اور گارے کا نام نہیں ہے بلکہ اس جگہ کو مسجد کہتے ہیں جہاں مسجد تعمیر کی جاتی ہے اور یہ عرش تا فرش مسجد ہوتی ہے۔ مسجد یا مسجد کی زمین کو نہ تو ہبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی فروخت کیا جاسکتا ہے اور یہ کہ کوئی بھی کسی بھی حال میں کسی مسجد کو بت خانہ بنانے کی اجازت نہیں دے سکتا‘‘۔ مزید بورڈ نے یہ بھی واضح کردیا تھا کہ ’’اس کے بدلے میں کسی اور جگہ مسجد بنائی جائے گی تو یہ مسجد نہیں ہوگی اور نہ کوئی مسلمان اس کی تعمیر میں حصہ لے سکتا ہے‘‘۔میں نے کہاکہ بورڈ تا حال اپنے اس شرعی موقف پر قائم ہے (یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اس متفقہ ریزولوشن کے دستخط کنندگان میں خود مولانا سلمان ندوی صاحب بھی شامل تھے اور یہ کہ ایک اجلاس عاملہ کی میزبانی خودان کے مدرسہ نے کی تھی)۔ اس کے بعد میں نے جنرل سکریٹری صاحب سے سوال کیا کہ کیابورڈ کے کسی رکن کو اس موقف کے خلاف عوام میں بولنے اور فیصلہ کرنے کی اجازت ہے۔

اور کیا کسی رکن کا اگر ا س پر کوئی دوسرا نقطۂ نظر بن گیا ہو اور وہ اس کو شرعی نقطۂ بھی نظر سمجھتا ہو یا یہ کہ وہ مسلمانوں کی جان ومال، عزت وآبرو کی حفاظت اور اسلام کی دعوت کے نقطۂ نظر سے بورڈ کے موقف سے دستبردار ہونے اور بابری مسجد کو منتقل کرنے کے حق میں ہوتو اخلاقاً اور شرعاً اس کو پہلے اس معاملہ کو بورڈ کی عاملہ میں نہیں پیش کرنا چاہیے تھا، جبکہ بورڈ کی عاملہ کا اجلاس محض ایک دن بعد ہی ہو رہا تھا۔

پھر میں نے سوال کیا کہ بورڈ اس سے قبل بھی بعض ارکان بورڈ کو بورڈ کے فیصلوں کے خلاف رائے زنی کرنے کی پاداش میں بورڈ سے نکال چکا ہے تو ایک رکن عاملہ کی اس حرکت کے بعد اس کا رویہ کیا ہوگا۔ میرے بعد متعدد ارکان بورڈ نے اسی طرح کہ اعترضات اٹھائے جن میں خواتین ارکان بھی شامل تھیں۔
جنرل سکریٹری صاحب نے مولانا سلمان ندوی صاحب سے کہاکہ وہ ان اعتراضات کا جواب دیں۔

مولانا نے جواب دینے کے بجائے کہاکہ پہلے مولانا سجاد نعمانی صاحب پر کارروائی ہوکہ جنہوں نے بھی بعض اشتعال انگیز تقاریر کی ہیں اور بیانات دیے ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ آپ غیرمتعلق گفتگو نہ کریں بلکہ اعتراضات کا جواب دیں۔ انہوں نے ایک لمبی تقریر کی جس میں کہاکہ جنبلی مسلک کے تحت مسجد منتقل کی جاسکتی ہے اور انہوں نے بعض شرطوں کے ساتھ اس کے حق میں رائے دی ہے۔ ایک رکن بورڈ نے کہاکہ کیا حنبلی مسلک کے تحت کسی مسجد کو مندر یا بت کدہ بنانے کے لیے بھی دیا جاسکتا ہے۔ ان کا جواب تھا وہاں اب مسجد کہاں ہے۔

ان سے بار بار مطالبہ اور درخواستیں کی گئیں کہ وہ اپنے موقف سے رجوع کرلیں لیکن مولانا اپنے موقف پر بضد رہے اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں نہ صرف اپنے موقف پر قائم رہوں گابلکہ اس کا اظہار بھی کرتا رہوں گا۔

دوسرے دن انڈیا ٹی وی کے نمائندے کو انہوں نے ایک طویل انٹرویو دیا جس میں خود کو ہندو مسلم اتحاد کا بہت بڑا داعی قرار دیا۔ گویا مسلم پرسنل لا بورڈ اور اس کے معزز ارکان ہندو مسلم اتحاد کے مخالف ہیں۔مولانا نے اپنے انٹرویو میں تمام حدود کو پامال کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ مسلم پرسنل لابورڈ اپنا اعتماد کھو چکا ہے، وہ چند افراد کا ٹولہ ہے، اکثریت اس کے ساتھ نہیں ہے، وہ اپنی عمر مکمل کرچکا ہے۔

اس کی افادیت باقی نہیں رہ گئی ہے۔اس کا نام بھی انگریزوں کا دیا ہوا ہے، اسے چند لوگوں نے ہائی جیک کرلیا ہے۔ شدت پسند لوگ اس پر حاوی ہو گئے ہیں۔اس میں ڈکٹیٹرشپ چلتی ہے لہذا اب ایک نیا بورڈ بنانے کی ضرورت ہے جس کا نام شریعت اپلیکشن بورڈ ہوگا۔ میرے ساتھ ملت کی اکثریت ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیا بورڈ کی عاملہ کے ایک معزز رکن جو کہ ایک مستندو مؤقر عالم دین بھی ہیں کیا یہ باتیں زیب دیتی ہیں اور ایسے وقت میں جب کہ بورڈ اتحاد ملت کا نقیب و پاسبان بن چکا ہے۔

مولانا سلمان ندوی جیسے بلند پایہ عالم دین، مفسرقرآن، محدث، فقیہہ اور جرأت مند وباحوصلہ مقرر کو ایسے وقت میں جب کہ ملت کو اعتماد وحوصلہ کی زیادہ ضرورت ہے ،ایسی کم ہمتی اور بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے تھا،حالانکہ بابری مسجد پرملت نے اب تک بے شمار قربانیاں پیش کی ہیں اور بڑے حوصلہ کامظاہرہ کیا ہے۔ افسوس کہ مولانا نے ایسے وقت میں ملک وملت میں یہ انتشار برپا کیا ہے جب سپریم کورٹ میں بابری مسجد کا مقدمہ اپنے آخری مرحلہ میں ہے۔ ہمارا موقف بہت مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے۔ دوسرے فریق کے پاس صرف آستھا کا ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ سپریم کورٹ کی بھی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے کہ آیا وہ آستھا کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا یا ملک کے دستور، قانون اور ٹھوس حقائق کی بنیاد پر۔

سپریم کورٹ خود یہ واضح کرچکا ہے کہ فیصلہ عقیدے اور جذبات پر نہیں بلکہ حقیقت اور ملکیت کے قانون پر ہوگا۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری ملت مضبوطی کے ساتھ پرسنل لابورڈ کی پشت پر کھڑی ہو، جو پوری طاقت ، تیاری اور ملک کے نامور وکیلوں کے ذریعہ اس مقدمہ کو لڑرہاہے۔ ملت کا مضبوط اتحاد ، اپنی قیادت پرغیر معمولی اعتماد اپنے موقف پر غیر متزلزل یقین اور اللہ کی تائید ونصرت پر مکمل بھروسہ ہی ہمیں کامیابی کی منزل تک پہنچائے گا۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جب سپریم کورٹ میں مقدمہ اپنے آخری مرحلے میں ہے اور چند ہی سالوں میں اس کا حتمی فیصلہ بھی آجائے گاتو اس وقت فریق مخالف کورٹ کے باہر اور بات چیت کے ذریعہ اس کا حل کیوں چاہتا؟ ۔
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

*
رکن مجلس عاملہ، مسلم پرسنل لابورڈ

TOPPOPULARRECENT