Saturday , June 23 2018
Home / ہندوستان / بابری مسجد اراضی تنازعہ میں فریق بننے کی کوشش مسترد

بابری مسجد اراضی تنازعہ میں فریق بننے کی کوشش مسترد

سپریم کورٹ صرف اصل دعویداروں کی درخواستوں کی سماعت کرے گا
نئی دہلی ، 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے حساس نوعیت کے بابری مسجد۔ رام مندر اراضی تنازعہ کیس میں فریقوں کے طور پر شامل ہونے کی استدعا کرنے والی تمام عبوری عرضیوں کو آج مسترد کردیا ہے۔ چیف جسٹس دیپک مصرا اور جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نذیرپر مشتمل خصوصی بنچ نے یہ استدلال قبول کیا کہ اس تنازعہ کے صرف اصل فریقوں کو ہی کیس میں دلائل کی پیشکشی کو آگے بڑھانے دیا جائے اور غیرمتعلقہ اشخاص کی فریقوں کے طور پر مداخلت کی استدعا کے ساتھ داخل کردہ درخواستوں کو مسترد کردیا جائے۔ فاضل عدالت نے بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کی عرضی بھی مسترد کردی جو جاریہ معاملے میں مداخلت کی استدعا کے ساتھ پیش کی گئی تھی۔ تاہم، عدالت نے سوامی کی یکسوئی کردہ پٹیشن کے احیاء کا حکم دیا، جس میں انھوں نے ایودھیا میں متنازعہ مقام پر رام مندر میں پوجا کے اپنے بنیادی حق کو یقینی بنانے کی گزارش کی ہے۔ فاضل عدالت کی خصوصی بنچ کے پاس جملہ 14 اپیلیں ہیں جو چار دیوانی مقدمات میں ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی تین ججوں والی بنچ نے 2010ء میں 2:1 کی اکثریتی رولنگ میں حکم دیا تھا کہ متنازعہ اراضی کے مساوی طور پر حصے تین فریقوں سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام للا ّ میں تقسیم کردیئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT