Sunday , September 23 2018
Home / ہندوستان / بابری مسجد اراضی: شیعہ وقف بورڈ ۔اکھاڑہ پریشد سمجھوتہ

بابری مسجد اراضی: شیعہ وقف بورڈ ۔اکھاڑہ پریشد سمجھوتہ

کوئی نئی مسجد تعمیر نہ کرنے کا فیصلہ ’وسیم رضوی ۔ نریندر گیری مذاکرات

الہ آباد ۔ 13 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اکھل بھارتیہ اکھاڑہ پریشد نے رام مندر بابری مسجد اراضی کے مسئلہ پر یو پی شیعہ وقف بورڈ کے ساتھ ایک سمجھوتہ کرلیا ہے جس کو بہت جلد سپریم کورٹ میں پیش کردیا جائے گا ۔ دونوں تنظیموں کے قائدین آج یہاں یہ اعلان کیا۔ سپریم کورٹ نے 11 اگست کو کہا تھا کہ اس تنازعہ پر 5 ڈسمبر سے قطعی سماعت کا آغاز کیا جائے گا ۔ یو پی شیعہ وقف بورڈ کے سربراہ وسیم رضوی نے کہا کہ بورڈ کی جانب سے سمجھوتہ کے ضوابط اور شرائط کا مسودہ تیار کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس بات کا دوستانہ انداز میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایودھیا یا فیض آباد میں کوئی نئی مسجد تعمیر نہیں کی جائے گی ۔ شیعہ وقف بورڈ مسلمانوں کی غالب آبادی والے کسی علاقہ میں قطعہ اراضی کی نشاندہی کرے گا اور حکومت کو مطلع کیا جائے گا ‘‘ ۔ اکھاڑہ پریشدہ کے صدر نریندر گیری نے اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے کہا کہ پریشد نے ایودھیا فیض آباد میں کسی مسجد کی تعمیر پر اعتراض کیا تھا اور دوران بات چیت یو پی شیعہ وقف بورڈ کے سربراہ کی طرف سے اس کو حل کردیا گیا ۔ اس اجلاس میں رام جنم بھومی ٹرسٹ کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس بھی موجود تھے ۔ گیری نے کہا کہ ’’ہم نے اصل فریق دھرما داس اور دوسروں سے بھی تبادلہ خیال کیا ۔ اس سمجھوتہ پر دستخط کے بعد بہت جلد سپریم کورٹ میں پیش کردیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اب اس کیس میں کسی مصلحت کار ثالثی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو بھی مندر بنانے کی تائید کر رہے ہیں اور شیعہ وقف بورڈ اس پر پوری طرح رضامند ہے۔ اس مسئلہ پر ہم اس کے اور تقریباً تمام فریقوں سے بات چیت کرچکے ہیں‘‘۔ قرون وسطی میں تعمیر شدہ اس عمارت کے 6 ڈسمبر 1992 ء کو انہدام کی 25 ویں سالانہ یاد سے ایک دن قبل یعنی اس سال 5 ڈسمبر کو سپریم کورٹ کو اس فیصلہ سے واقف کروادیا جائے گا۔ رضوی نے دعویٰ کیا کہ سنی وقف بورڈ اس ادارہ کے رجسٹریشن سے متعلق مقدمہ قبل ازیں کئی علاقوں میں ہار چکا ہے اور اب اس مسجد پر صرف شیعہ وقف بورڈ کو ملکیت کا حق حاصل ہے ۔ شیعہ وقف بورڈ کے سربراہ نے کہا کہ اس مسئلہ کی خوشگوار اور دوستانہ یکسوئی کے لئے کوئی بھی فرقہ بشمول سنی تنظیمیں بات چیت میں حصہ لے سکتی ہیں لیکن منفی سوچ رکھنے والوں کواجازت نہیں دی جائے گی۔ رضوی نے کہا کہ صورتحال کو پیچیدہ بنانا نہیں چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سنی وقف بورڈ کو 1944 ء میں رجسٹرڈ کیا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ اور ایک تحت کی عدالت نے اس رجسٹریشن کو غیر مجاز قرار دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT