Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / بابری مسجد شہادت مقدمہ۔ سی بی آئی کی فیصلہ سازی میں کسی کا عمل دخل نہیں ، سپریم کورٹ میں حلف نامہ

بابری مسجد شہادت مقدمہ۔ سی بی آئی کی فیصلہ سازی میں کسی کا عمل دخل نہیں ، سپریم کورٹ میں حلف نامہ

نئی دہلی ۔ /10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی نے آج سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ اس کی فیصلہ سازی کسی کے اثر و رسوخ کے تحت نہیں ہے اور سینئر بی جے پی لیڈرس ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی و 16 دیگر کے خلاف بابری مسجد انہدام مقدمہ میں مجرمانہ سازش کا الزام کسی کی ایماء پر نہیں ہٹایا گیا تھا۔ تحقیقاتی ایجنسی نے حلف نامہ میں کہا کہ سی بی آئی کا فیصلہ سازی کا عمل پوری طرح آزاد ہے ۔ وہ قانون کی روشنی میں درست حقائق کی بنیاد پر تمام فیصلے کرتی ہے ۔عدالتوں میں جو مقدمات جاری ہیں ان پر کسی کے اثرانداز ہونے یا فیصلہ سازی میں کسی شخص ، ادارے کے اثر و رسوخ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سی بی آئی نے حاجی محبوب احمد کی دائر کردہ درخواست کے جواب میں یہ حلف نامہ پیش کیا ہے ۔ حاجی محبوب احمد نے الہ آباد ہائیکورٹ کے لکھنؤ بنچ کی جانب سے بابری مسجد شہادت مقدمہ میں بی جے پی ۔ وی ایچ پی قائدین کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات ہٹادینے کے سلسلے میں 2010 ء میں جاری کردہ احکامات کے خلاف یہ درخواست دائر کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ /20 مئی 2010 ء کو ہائیکورٹ کا جاری کردہ حکم کالعدم قرار دیا جائے۔ایودھیا میں /6 ڈسمبر 1992 ء کو متنازعہ ڈھانچہ منہدم کرنے والے ملزمین کے خلاف سازشی الزامات ہٹادینے کے سی بی آئی کے فیصلہ کو بھی چیالنج کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی نے کہا کہ اس کے فیصلے قانون کے عین مطابق ہوتے ہیں اور وہ آزادانہ طور پر اپنا کام کرتی ہے ۔ قبل ازیں عدالت نے حاجی محبوب احمد کی درخواست پر اڈوانی ، جوشی اور مرکزی وزیر اوما بھارتی کے علاوہ دیگر 16 سے جواب طلب کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT