Tuesday , December 18 2018

بابری مسجد شہادت کیس

نئی دہلی ۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بابری مسجد شہادت کی 6 ڈسمبر کو ہونے والی برسی سے چند دن قبل اس نصف صدی پرانے کیس میں اصل درخواست گذاروں میں سے ایک درخواست گذار حامد انصاری نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں استدلال کے ساتھ داخل کردہ درخواستوں سے خود کو دور رکھنا چاہتے ہیں۔ ہاشم انصاری نے دعویٰ کیا کہ اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا

نئی دہلی ۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بابری مسجد شہادت کی 6 ڈسمبر کو ہونے والی برسی سے چند دن قبل اس نصف صدی پرانے کیس میں اصل درخواست گذاروں میں سے ایک درخواست گذار حامد انصاری نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں استدلال کے ساتھ داخل کردہ درخواستوں سے خود کو دور رکھنا چاہتے ہیں۔ ہاشم انصاری نے دعویٰ کیا کہ اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی کے لیڈر اعظم خاں پر الزام عائد کیا کہ بابری مسجد شہادت کیس مسئلہ پر وہ فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کررہے ہیں۔ فیض آباد کی عدالت میں 60 سال قبل بابری مسجد حق ملکیت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ درخواست میں یہ استدلال پیش کیا گیا تھا کہ مسجد کے احاطہ میں مورتیاں رکھی گئی ہیں۔ اب متنازعہ مقام پر عارضی مندر میں ان مورتیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انصاری نے کہا کہ وہ رام لالہ کو اس تنازعہ سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ ہاشم انصاری کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یوگی ادتیہ ناتھ نے کہا کہ میں ہاشم انصاری کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے سچائی کو قبول کرلیا ہے اور دیگر بھی آہستہ آہستہ اس سچ کو قبول کریں گے۔ واضح رہیکہ 6 ڈسمبر کو بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے موقع پر کئی سیاسی جماعتوں اور اداروں نے ملک بھر میں بند و احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT