Saturday , August 18 2018
Home / مضامین / بابری مسجد قائدین کے مزے، قوم غلامی کی شکار

بابری مسجد قائدین کے مزے، قوم غلامی کی شکار

 

ظفر آغا

ایک تھی بابری مسجد ایکشن کمیٹی۔اس کو جامع مسجد دہلی کے پیش امام مرحوم عبدا للہ بخاری اور مسلم پرسنل لاء کے اس وقت کے محافظ مر حوم سید شہاب الدین کی سرپرستی حاصل تھی۔ اسی کمیٹی سے مسلم پلیٹ فارم پر چمکنے والے اس وقت کے چار نوجوان ستارے تھے جن کے نام تھے محمداعظم خان ،ظفر یاب جیلانی ، جاوید حبیب اور جامع مسجد دہلی کے نائب امام احمد بخاری۔
آج سے 25 برس قبل جب بابری مسجد پرخطرے کے بادل منڈلائے آنچ آئی تو یہ تمام معزز حضرات نے بڑی بڑی مسلم ریالیاں کر کے جوش و خروش سے بھرے مسلم مجمع میں نعرہ تکبیر کی صداؤں کے درمیان قسمیں کھائیں تھیں کہ ’چاہے ہماری جان چلی جائے ، لیکن ہم بابری مسجد پر آنچ نہیں آنے دیں گے!
پچیس برس گزرے بابری مسجد ختم ہوئی۔ بابری مسجد کی ’جان‘ تو گئی لیکن بابری مسجد کی تحفظ کی قسمیں کھانے والوں کا بال بھی بیکا نہیں ہوا۔ہاں سن 1992 سے لے کر ابھی حال تک ہزاروں مسلمانوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ حد یہ ہے کہ ان کے ناموس کی عزتیں لٹ چکی ہیں اور اب یہ عالم ہے کہ گئو رکشک نہ صرف مسلمانوں کی ’ماب لنچنگ‘ کر رہے ہیں بلکہ ’لو جہاد ‘ کے نام پر ہندو توا دہشت گرد ’ہندو ’جہاد‘ کے سایہ میں نوجوان کا قتل کراسکی، لاش کو آگ لگا کر ویڈیو پر اس کی تشریح کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جو بابری مسجد کے تحفظ کی قسمیں کھاتے تھے ان میں مولانا عبداللہ بخاری اور سید شہاب الدین شہرت اور دولت حاصل کر کے انتقال فر ما چکے ہیں۔ جاوید حبیب بھی مرحوم ہو چکے ہیں۔ اعظم خان بابری مسجد کے شہید ہونے کے بعد سے اب تک نہ جانے کتنی مرتبہ وزیر بن چکے ہیں۔ احمد بخاری اور ظفر یاب جیلانی بطور مسلم قائد آج بھی مسلم پلیٹ فارم کی بڑی ہستیاں ہیں۔

ہم مسلمانوں کی سمجھ میں چیزیں دیر میں آتی ہیں۔ لیکن میں نے اوپر جو کچھ رقم کیا۔ اس سے تین باتیں واضح ہیں۔ پہلی بابری مسجد گئی اور اب وہاں پر ایک رام مند ر قائم ہے۔ سنگھ جس کو ’بھویہ مندر‘ کی بات کر تا ہے وہ جب چاہے سنگھ بنا سکتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ بابری مسجد ڈھائے جانے کے بعد سے اب تک ہزاروں مسلمانوں کی جانیں گئیں اورمسلم قوم اب مودی راج میں لگ بھگ دوسرے درجے کی شہری ہو چکی ہے۔ تیسری بات یہ کہ وہ تمام افراد جو بابری مسجد دور کے مسلم قائد بن کر ابھر ے وہ سب یا تو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں یا پھر دولت اور شہرت حاصل کر کے آج اطمینان کی زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔
بابری مسجد مسمار ہو نے کے پچیس برس بعد اگر مسلمان کو اتنی سی بھی بات سمجھ میں نہیں آئی کہ عموماً مسلم قائد بن کر ابھر نے والے افراد مسلم جذبات کی تجارت کر تے ہیں اور سیاست میں اپنی دوکانیں چمکاتے ہیں تو پھر ہندوستانی مسلمان کی حفاظت اللہ بھی نہیں کر سکتا ہے۔
ارے ہندوستانی مسلمان غلامی کی کگار پر کھڑا ہے۔ محض چار فی صد ہندوستانی مسلمان گریجویٹ ہے اس کی 11 فی صد آبادی سڑکوں پر ریڑھی لگا کر یا پٹری پر دوکان کھو ل کر اپنی زندگی بسر کررہی ہے۔ اس کی عورتیں شریعت کے نام پر گھروں کی چہار دیواری میں کم وبیش بندی جیسی زندگی گزار تی ہیں۔ تعلیم کے میدان میں وہ اب دلتوں سے بھی پیچھے ہو تے جا رہے ہیں۔ ایسی قوم کو ابھی تک اس ملک میں ووٹ ڈالنے کی آزادی ہے۔ یہی بڑی بات ہے کل کو ، سنگھ اگر وہ بھی چھین لے گا تو ہم اور آپ کیا کر پائیں گے!۔خوف ہندوستانی مسلمان کی قسمت بن چکا ہے۔ بے روزگار ی اور معاشی پسماندگی اس کا مقدر ہے۔ اب تو یہ عالم ہے کہ وہ گھر سے باہر کبھی بھی ’ماب لنچنگ‘ کا شکار ہو جائے یہ بھی پتہ نہیں۔ اس کو سنگھ با قاعدہ کب دوسرے درجے کا شہری بنا دے اس کا بھی بھروسہ نہیں۔ لیکن یہ گت بنائی کس نے !آزادی کے بعد فسادات کی مار پھر بابری مسجد سے لے کر گجرات میں مسلم نسل کشی جیسے واقعات جس قوم پر گزر یں ہو ، وہ اس حال میں ہو جس حال میں اب ہے تو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن یہی قوم مٹھی بھر اقلیت ہو کر اس ملک پر کم از کم سات سو برس تک حاکم بھی رہی ہے۔ اسی قوم نے اس ملک کو تاج محل جیسے نا جانے کتنے نمونے دیئے ہیں۔ اس ملک کی جنگ آزادی کے پہلے قائد کا نام بہادر شاہ ظفر تھا۔ موہن چند گاندھی نہیں تھا۔
لیکن 1857 میں بہادر شاہ ظفر کے بعد سے اب تک مسلم قوم غلامی کی طرف رواں ہے۔ دو سو برس کی قلیل مدت میں بادشاہی سے غلامی تک کا یہ سفر کیوں اور کیسے! میری ناقص رائے میں سن 1857 کے بعد سے اب تک مسلم قوم نے کبھی کوئی صحیح اور سیاسی قدم اٹھایا ہی نہیں۔ اس کی قیادت نے ہمیشہ اس کو دھو کا دیا۔ جب بہادر شاہ قائد تھے تو وہ ہاری ہوئی لڑائی لڑنے کے لئے اپنی جان دینے کو تیار تھے۔ اب بابری مسجد کو بچانے والے قائدوں کی اپنی جان بچی رہتی ہے لیکن مسلمان مارا جاتا ہے۔ ہر بڑے مسئلے کے بعد قائدین ملت بڑی بڑی گاڑیوں پر سوار نظر آتے ہیں جبکہ جذباتی مسلمان کی زندگی اور روزی روٹی پرخطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔

محمد علی جناح سے لیکر بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور پرسنل لاء بورڈ تک مسلم قائد ین کے ہر فیصلے نے مسلم قوم کو صرف اور صرف نقصان پہنچایا ہے۔ جناح صاحب نے ملک کا بٹوارہ کروا کر خود پاکستان کے حاکم ہو گئے۔ ہندوستان میں بچا کروڑں مسلمان تب سے آج تک غداری کا کلنک لئے اس کا بھگتان چکا رہا ہے۔بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے مسجد تحفظ کے لئے جو جنگ لڑی اس میں قیادت تو خود کامیاب رہی لیکن غریب مسلمان کہیں کا نہیں بچا۔ سن 1985 سے آج تک مسلم طلاق ثلاثہ کی لڑائی لڑنے والے مسلم پرسنل لاء کے ممبران اور عہدیدارن تو ترقی پر ہیں لیکن طلاق ثلاثہ ختم ہو چکا ہے۔
اس لئے بابری مسجد ختم ہو نے کے پچیس برس بعد اگر کوئی بات واضح ہے تو وہ یہ کہ مسلمانوں میں کوئی قوم کا سچا قائد نہیں بلکہ مسلم جذبات اور سیاست کے تاجر ضرور ہیں۔اس لئے مودی راج میں جبکہ بابری مسجد مسمار ہونے کے پچیس برس بعد ہم صرف یہ دعا ہی کر سکتے ہیں۔ خدا مسلمانوں کو عقل دے اور اس کو ایک صحیح قیادت عطا فر مائے۔ افسوس یہ ہے کہ اس کے آثار ابھی بھی کہیں نظر نہیں آرہے ہیں۔اس لئے آنے والے وقتوں میں کتنے اور بابری مسجد جیسے واقعہ پیش آئیں گے، بابری مسجد کی 25 ویں بر سی کے بعد بھی یہ کہنا اور بتا پانا مشکل ہے۔
نام نہاد مسلم قیادت کی تجارت آج بھی ویسے ہی جاری ہے۔ مسلمانوں کی حالت بد سے بد تر ہو رہی ہے۔ بابری مسجد کی 25ویں بر سی پر مسلم قوم کا یہی سب سے اہم لمحہ فکریہ ہے اوراس کا جواب اس کو خود تلاش کرنا ہے کیونکہ یہ قوم کا اندرونی معاملہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT