Friday , April 20 2018
Home / Top Stories / بابری مسجد مسئلہ پر سلمان ندوی کا موقف مسترد ‘ تادیبی کارروائی کا فیصلہ

بابری مسجد مسئلہ پر سلمان ندوی کا موقف مسترد ‘ تادیبی کارروائی کا فیصلہ

مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس عام میں شدید ناراضگی کا اظہار ۔ مسجد مسئلہ پر موقف میں تبدیلی نہیں ۔ اسد الدین اویسی و مولانا عمرین کی پریس کانفرنس

محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد ۔ /9 فبروری ۔کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے 26 ویں اجلاس عام کا پہلا اجلاس جو کہ ورکنگ کمیٹی کا تھا وہ مولانا سلمان ندوی کے بابری مسجد سے متعلق متنازعہ بیان کے باعث ہنگامہ خیز رہا ۔ کل ہند مسلم پرسنل لابورڈ نے مولانا سید سلمان حسنی ندوی کے خلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ بابری مسجد کے متعلق ان کے شخصی موقف کی مکمل تحقیقات کی جائے ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ ورکنگ کمیٹی کا ہنگامہ خیز اجلاس زائد از 4 گھنٹے جاری رہا اور اجلاس کے دوران متفقہ طور پر مولانا سلمان حسنی ندوی کی شری روی شنکر سے ملاقات اور بابری مسجد کے متعلق ریمارکس کو مسترد کردیا گیا ۔ ورکنگ کمیٹی کی جانب سے تشکیل دی گئی 4 رکنی کمیٹی کے سربراہ مولانا سید رابع حسنی ندوی صدر کل ہند مسلم پرسنل لابورڈ ہونگے ۔ کمیٹی میں مولانا ارشد مدنی ، مولانا سید ولی رحمانی جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ کے علاوہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی شامل ہونگے ۔ مولانا سلمان حسنی ندوی کے خلاف مواخذہ کی تحریک جناب سید قاسم رسول الیاس نے پیش کی اور بورڈ سے خواہش کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں سخت کارروائی کو یقینی بنائے تاکہ اس طرح کی تجاویز و اعلانات کے جو مسائل پیدا ہورہے ہیں انہیں حل کیا جاسکے ۔ مولانا سید رابع حسنی ندوی صدر پرسنل لاء بورڈ کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں مولانا سید ولی رحمانی ، مولانا ارشد مدنی ، مولانا محمود مدنی نقشبندی ، مولانا سید خلیل الرحمن سجاد نعمانی نقشبندی ، مولانا کاکا سعید احمد عمری ، مولانا عبدالکلیم بھٹکلی ، بیرسٹر اسد الدین اویسی ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانا خالد رشید فرنگ محلی ، مولانا عمرین سکریٹری پرسنل لا بورڈ ، جناب محمد نصرت علی کے علاوہ دیگر اراکین ورکنگ کمیٹی موجود تھے ۔ چار گھنٹے طویل اجلاس کے دوران مولانا سلمان حسنی ندوی کی شری شری روی شنکر سے ملاقات اور بابری مسجد کے متعلق متنازعہ بیان پر شدید اعتراض کیا گیا ۔ اجلاس کے دوران مولانا سید سلمان حسنی ندوی کی آمد پر اراکین کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کئے جانے کی اطلاع ہے لیکن ان سے استفسار پر انہوں نے اپنے موقف کا دفاع کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اجلاس کے دوران ان سے استفسار کی کوشش پر انہوں نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی شخصی رائے ہے جو کسی پر مسلط نہیں کررہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اظہار خیال کی آزادی ہے اور انہوں نے اس موقف کو پیش کیا ہے ۔ ورکنگ کمیٹی اجلاس کے دوران مولانا ارشد مدنی نے مولانا سلمان حسنی ندوی کے موقف کی شدید مذمت کی اور کہا کہ جب کوئی کسی جماعت سے وابستہ ہے تو وہ اس طرح کے خیالات کا برملااظہار نہیں کرسکتا کیونکہ جماعت کے ذمہ داروں کی فہرست میں شامل رہنے کے بعد اس طرح کے خیالات کا برسرعام اظہار عوام میں غلط فہمیوں کو پیدا کرنے کا موجب ثابت ہوسکتا ہے ۔ جناب قاسم رسول الیاس نے اس مسئلہ پر سلمان ندوی کے احساسات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف سے انحراف کا کسی کو حق نہیں ہے اور کوئی اس موقف سے بورڈ میں رہتے ہوئے اختلاف نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے اجلاس کے دوران تحریک مواخذہ پیش کرتے ہوئے مولانا سلمان ندوی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس طرح کی غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سلسلہ بند کیا جانا چاہئے بصورت دیگر ہندوستانی مسلمانوں میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی شبیہہ متاثر ہوسکتی ہے ۔ ان کے استدلال پر ورکنگ کمیٹی نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اس مطالبہ کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ تادیبی کارروائی کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی جاریہ اجلاس کے اواخر تک اپنا فیصلہ سنائیگی تاکہ جلسہ کے دوران کسی قسم کے شبہات عوام کے درمیان موجود نہ رہیں ۔ اجلاس کے بعد اسد الدین اویسی اور مولانا عمرین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ورکنگ کمیٹی کا منظورہ تحریری بیان پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کے سلسلے میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ یہ جگہ مسجد ہے اور جس جگہ ایک دفعہ مسجد بن جاتی ہے وہ قیامت تک مسجد رہتی ہے ۔ مسجد کے سلسلے میں جب بھی کسی ہندو رہنماؤں کی طرف سے مصالحت کی پیشکش ہوئی بورڈ نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ ان سے منصفانہ اور باعزت حل پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا لیکن ان کا ہمیشہ ایک ہی جواب رہا کہ مسلمان یکطرفہ طور پر مسجد سے دستبردار ہوجائیں ۔ مسلمان ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ مسجد کو غیراللہ کی عبادت کیلئے دینا حرام ہے اور شریعت میں اس کی گنجائش نہیں ہے اگر مسلمان ایسا کریں گے تو عنداللہ جواب دہ ہوں گے ۔ بورڈ کا یہی موقف ہے اور معاملہ عدالت عظمیٰ میں ہے ۔ بورڈ نے فیصلہ کیا کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا قانونی طور پر اسے مانا جائے گا ۔ عدالت میں جو مقدمہ چل رہا ہے وہ عقیدے اور آستھا کا نہیں ہے وہ حق ملکیت کا ہے اس لئے امید ہے کہ فیصلہ مسلمانوں کے موقف کے مطابق ہوگا اگر ایسا ہوا تو یہ نہ کسی کی جیت ہوگی اور نہ کسی کی ہار بلکہ انصاف کی فتح ہوگی ۔ پریس کانفرنس میں ذمہ داران بورڈ نے سوالات کے جواب دینے سے انکار کیا اور کہا کہ آئندہ دو یوم کے دوران مزید اجلاس منعقد ہونے ہیں ۔ شہر میں 26 ویں اجلاس عام میں اراکین مسلم پرسنل لاء بورڈ و دیگر ذمہ داران کی آمد ہوچکی ہے اور آج شام ورکنگ کمیٹی اجلاس سے قبل بابری مسجد مقدمہ میں پیروی کے اخراجات کیلئے شہر کے سرکردہ شہریوں کا ایک اجلاس بھی منعقد کیا گیا ۔ جناب اکبر الدین اویسی کی نگرانی میں ذمہ داران پرسنل لابورڈ و اراکین کیلئے خصوصی انتظامات تھے ۔ جناب رحیم الدین انصاری اور جناب منیرالدین مختار انتظامات میں مصروف رہے ۔

TOPPOPULARRECENT