Wednesday , May 23 2018
Home / Top Stories / بابری مسجد معاملہ میں سلمان ندوی نے رشوت طلب کی تھی

بابری مسجد معاملہ میں سلمان ندوی نے رشوت طلب کی تھی

لکھنو پی ایس میں شکایت درج ، روی شنکر کے قریبی مددگار امرناتھ مشرا کا الزام‘مولانا ندوی کی تردید

مولانا ندوی نے بابری مسجد تنازعہ پر موقف بدلنے کے عوض 5ہزارکروڑ کا مطالبہ کیا
مولانا ندوی نے اس کام کے عوض راجیہ سبھا کی رکنیت دینے کا بھی مطالبہ کیا
سلمان ندوی نے 200ایکڑ اراضی کا مطالبہ کیا تھا

لکھنو ۔15فبروری(سیاست ڈاٹ کام ) بابری مسجد تنازع میں صلح کو لے کر ڈیل کا الزام لگاتے ہوئے ’’ایودھیا سدبھاونا سمنوے سمیتی ‘‘کے جنرل سکریٹری امرناتھ مشرا نے مولانا سلمان ندوی کے خلاف لکھنو کے حسن گنج تھانہ میں ایک تحریری شکایت درج کرائی ہے۔امرناتھ مشرا نے الزام عائد کیاہے کہ مولانا سلمان ندوی نے سمجھوتہ کے بدلے میں پانچ ہزار کروڑ روپے کی رشوت کا مطالبہ کیا تھا۔ امرناتھ کے مطابق مولانا ندوی نے اس ملاقات میں ہم سے کہا کہ ہندو فریقوں کی طرف سے جو تجاویز ہوں ، وہ ہمیں لکھ کر دیدیں ، ان تجاویز پر بورڈ کی ہونے والی میٹنگ میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔امرناتھ کے مطابق انہوں ے یہ تجویز مولانا ندوی کو لکھ کر دیدی تھی۔ مگر مولانا نے یہ تجویز میڈیا میں لیک کردی ، جس کی وجہ سے بورڈ مولانا سے ناراض ہوگیا۔ مولانا کو اس تجویز پر پہلے بورڈ میں تبادلہ خیال کرنا چاہئے تھا۔ یہی نہیں مولانا اس میٹنگ سے پہلے شری شری روی شنکر سے ملنے کیلئے بنگلورو بھی گئے تھے۔ امرناتھ کے مطابق مولانا کے ساتھ 4فروری کی ان کی ملاقات کے دوران امام کونسل کے جنرل سکریٹری حاجی مسرور خان بھی موجود تھے۔امرناتھ مشرا کا الزام ہے کہ مولانا ندوی اجودھیا کو اسلامی شہر بنانے چاہتے ہیں ، وہ اجودھیا کو نیا مکہ و مدینہ بنانا چاہتے ہیں ،

اس لئے جب انہوں نے ہم سے تجویز مانگی تو ساتھ میں پانچ ہزار کروڑ روپے ، دوسو ایکڑ زمین اور اجیہ سبھا کی سیٹ کا بھی مطالبہ کیا۔ امرناتھ نے اس معاملہ میں مولانا ندوی پر بنیادی طور پر تین بڑے الزامات عائد کئے ہیں۔پہلا الزام : مولانا ندوی نے بابری مسجد تنازعہ پر اپنا موقف بدلنے کے عوض میںپانچ ہزار کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔دوسرا الزام : انہوں نے دوسو ایکٹر زمین کا مطالبہ کیا۔تیسرا الزام : مولانا ندوی نے اس کام کے عوض میں راجیہ سبھا کی سیٹ دینے کا مطالبہ کیا۔علاوہ ازیں امرناتھ مشرا نے کہا کہ مولانا ندوی نے اپنی یہ تجویز سب سے پہلے شری شری روی شنکر کے سامنے رکھی۔اس تجویز کے جواب میں شری شری کے دفتر سے یہ جواب دیا گیا کہ اجودھیا مسئلہ صرف آپسی اتفاق اور حسن نیت سے حل ہوسکتا ہے ، اسے کسی سودے یا معاہدہ سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ادھر مولانا سلمان ندوی نے امرناتھ مشرا کے الزامات کو بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر سازش کے تحت الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا الزام لگا کر ان کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی تو مشرا سے کبھی ملاقات ہی نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جلد ہی وہ ملک کے معروف علما کے ساتھ ملاقات کریں گے، جس میں پورے ملک سے علما کو مدعو کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT