Sunday , May 27 2018
Home / شہر کی خبریں / بابری مسجد پر کوئی سمجھوتہ نہیں، طلاق ثلاثہ بل غیر شرعی و غیر دستوری

بابری مسجد پر کوئی سمجھوتہ نہیں، طلاق ثلاثہ بل غیر شرعی و غیر دستوری

مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف کی تائید، مولانا سلمان ندوی پر الزامات کی مذمت، امیر جماعت اسلامی مولانا جلال الدین عمری کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/20فبروری، ( سیاست نیوز) جماعت اسلامی ہند نے بابری مسجد اور طلاق ثلاثہ پر مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف کی مکمل تائید کی ہے تاہم بورڈ میں اختلافات پیدا کرنے کی کوششوں پر چوکسی کا مشورہ دیا۔ امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین انصر عمری اور قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد سلیم انجینئر نے آج حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ بابری مسجد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس مسئلہ پر عدالت کے باہر مذاکرات کی جو کوششیں کی جارہی ہیں وہ لاحاصل ہیں۔ سابق میں بھی اس طرح کی کوشش کی گئی تھی لیکن کوئی حل برآمد نہیں ہوسکا برخلاف اس کے مزید اُلجھن پیدا ہورہی ہے۔ لہذا جماعت اسلامی مسلم پرسنل لا بورڈ کے اس موقف کی تائید کرتی ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل قبول رہے گا۔ مولانا جلال الدین عمری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بورڈ کا موقف شریعت کے عین مطابق ہے اور مسجد کو کسی اور عبادت گاہ میں تبدیل کرنے کیلئے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ مسجد کی تعمیر مندر کو توڑ کر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کو دوسروں کے حوالے کرنا شریعت کے خلاف ہے۔ فقہ حنبلی میں مسجد کی منتقلی سے متعلق استدلال کا جواب دیتے ہوئے مولانا جلال الدین عمری نے کہا کہ ایسی مسجد جہاں نماز کی ادائیگی ممکن نہ ہو وہاں پر مسلمان حاکم مسجد کی منتقلی کا فیصلہ کرسکتے ہیں کسی اور کو اس کا اختیار نہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایسا کچھ نہیں ہے نہ ہی مسلم حکمراں ہیں اور نہ مسجد میں عبادت کے امکانات ختم ہوئے ہیں۔ اگر بابری مسجد مسلمانوں کے حق میں آتی ہے تو مسلمان ضرور نماز ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد میں مورتیوں کو بٹھانے تک نماز کا سلسلہ جاری تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ مسجد کے خلاف فیصلہ دیتا ہے تب بھی مسلمان اسے قبول کریں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ مسجد کے حق میں آئیگا برخلاف اس کے فریق ثانی عدالت کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عدلیہ کا فیصلہ قطعی ہوتا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے بعض گوشوں کی جانب سے مولانا سلمان ندوی پر بابری مسجد کے سلسلہ میں رقم کا مطالبہ کرنے کے الزامات کو بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا سلمان ندوی جیسی شخصیت سے اس طرح کے الزامات کو منسوب کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی الزامات عائد کررہا ہے اسے ثبوت پیش کرنا چاہیئے۔ سابق میں بھی کئی بڑی شخصیتوں پر اس طرح کے الزامات عائد کئے جاچکے ہیں۔ میڈیا کو اس طرح کے بے بنیاد الزامات کو ہوا دینے سے گریز کرنا چاہیئے۔ مولانا جلال الدین عمری نے ملک میں مسلمانوں کے قتل عام کی تیاری سے متعلق مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کے بیان پر حیرت کا اظہار کیا اور اس سلسلہ میں بورڈ کے اجلاس میں مولانا سلمان ندوی کے سوالات کو جائز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کو مولانا سجاد نعمانی سے بیان کے سلسلہ میں وضاحت طلب کرنی چاہیئے تھی کہ کن ذرائع سے انہیں یہ اطلاع ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ نے اس مسئلہ کو بعد کیلئے ملتوی کرتے ہوئے بابری مسجد مسئلہ پر مولانا سلمان ندوی کے موقف پر فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض گوشوں کی جانب سے مسلم پرسنل لا بورڈ میں اختلافات کو ہوا دی جارہی ہے اور یہ نہ صرف بورڈ بلکہ مسلمانوں کیلئے بھی مناسب نہیں۔ ڈاکٹر محمد سلیم انجینئر قومی جنرل سکریٹری نے ملک میں بڑھتی لاقانونیت پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیش بھکتی، قوم پرستی اور گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور بعض تنظیمیں خود کو قانون سے بالاتر تصور کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہجوم کی جانب سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دنوں مہاراشٹرا کے احمد نگر میں ایک مسلمان کو فرقہ پرستوں نے ہلاک کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں ملک کی سالمیت کیلئے خطرہ ہیں۔ ملک میں اظہار خیال کی آزادی پر بھی روک لگائی جارہی ہے خاص طور پر حکومت کے خلاف اظہار خیال کی آزادی کی اجازت نہیں۔ میڈیا کا بڑا حصہ حکومت کی گود میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو بھی سیاسی مقصد براری کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل دستور کی دفعات 14، 15 اور25 کے خلاف ہے۔ بل کی پیشکشی سے قبل حکومت نے علماء سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ محمد سلیم انجینئر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ طلاق ثلاثہ بل کی موجودہ حالت میں پیشکشی سے دستبرداری اختیار کرے کیونکہ یہ بل شریعت میں صریح مداخلت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 2019 انتخابات میں کس پارٹی کی تائید کی جائے گی اُس کا جواب انتخابات سے قبل دیا جائیگا۔ تاہم جماعت اسلامی فسطائی طاقتوں کی تائید ہرگز نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ویلفیر پارٹی آف انڈیا بعض علاقوں میں مضبوط اور بعض مقامات پر کمزور موقف رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویلفیر پارٹی آف انڈیا موجودہ سیاست میں پائی جانے والی خرابیوں کو دور کرنا چاہتی ہے۔ اسے انتخابی سیاست سے زیادہ سیاسی نظام کی اصلاح کی فکر ہے۔ امیر جماعت اسلامی آندھرا پردیش و تلنگانہ جناب حامد محمد خاں نے ٹی آر ایس حکومت کی امکانی تائید سے متعلق سوال پر کچھ بھی کہنے سے گریز کیا اور کہا کہ انتخابات کیلئے ابھی کافی وقت ہے۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ پر جناب حامد محمد خاں نے کہا کہ حکومت کو اپنے وعدہ کی تکمیل کرنی چاہیئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہوسکتا ہے کہ چیف منسٹر آرڈیننس جاری کردیں گے اور اسے عدالت سے حکم التواء حاصل ہوجائیگا جس طرح سابق میں 4 فیصد کیلئے ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مسلم تحفظات کے مسئلہ پر اپنی سنجیدگی ثابت کرنی ہوگی۔ تلنگانہ جے اے سی کی جانب سے نئی سیاسی پارٹی کے قیام پر جناب محمد خاں نے کہا کہ ابھی تک کودنڈا رام کی پارٹی کا اعلان نہیں ہوا ہے لہذا کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ پریس کانفرنس میں جناب ایم این بیگ زاہد جنرل سکریٹری جماعت اسلامی تلنگانہ اور جناب محمد عبدالمجید سکریٹری میڈیا موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT