Wednesday , April 25 2018
Home / Top Stories / بابری مسجد کا مسئلہ صرف مسجد کا نہیں بلکہ ۱۲۵ کروڑ مسلمانوں کے وقار کامسئلہ ہے

بابری مسجد کا مسئلہ صرف مسجد کا نہیں بلکہ ۱۲۵ کروڑ مسلمانوں کے وقار کامسئلہ ہے

دیوبند:۔ سپریم کورٹ میں بابری مسجد مقدمہ کی سماعت شروع ہو نے سے عین قبل ہندوسوستان میں پھر سے بابری مسجد کا مسئلہ گرما یا ہوا ہے۔اس مرتبہ ملک کے نامور عالم دین مولانا سلمان حسینی ندوی اور ہندو مذہبی پیشوا شری شری روی شنکر نے مل کر بابری مسجد کا ایک سودا طئے کیا ہے۔جس کے مطابق بابری مسجد سے مسلمان دستبردار ہوجا ئیں گے۔

اور اس کے بدلے میں ایودھیا میں کسی دوسرے مقام پر ایک مسجد اور یو نیور سٹی بنائی جا ئے گی اور بابری مسجد کے مقام پر مندر بنا یا جا ئے گا۔اس سلسلہ میں انجمن احقاق و ابطال کے صدر مفتی محمد اعظم قاسمی نے کہا کہ جو لوگ بابری مسجد کاسودا کر ہے ہیں وہ ملت کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کر رہے ہیں ۔فقہ حنبلی میں مسجد کے انتقال کے مسئلہ کو ناقص طریقہ سے عام کر کے اور خدا کے گھر کو ڈھال بنا کر روٹیاں سینک رہے ہیں ۔

انہوں نے سلمان ندوی سے سوال کیا کہ ابن قدامہ کے مغنی نامی کتاب کی جس عبارت کو وہ بطور دلیل پیش کر رہے ہیں’’ جس میں مسجد کی تحویل کو جائز قرار دیا گیا ہے‘‘۔وہ یہ بتائیں کہ کیا اس کتاب میں یا کسی بھی فقہ کی کتاب میں یہ بات ہے کہ مسجد منتقل کر کے وہا ں بتوں کی عبادت کے لئے مندر تعمیر کر وائی جس سکتی ہے؟انھوں نے سوال کیا کہ سلمان صاحب کس حق سے یہ سب کر ہیں۔وہ اپنے نانا مولانا ابو الحسن علی ندوی میاں کو آخر ت میں کیا جواب دیں گے۔ان کے موقف کی تقلید کے نام پر وہ مو لانا علی میاں مرحوم کے موقف سے انحراف کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مولانا علی میاں اور مو لانا عبد الکریم پاریکھ اور یونس سلیم سابق گورنر بہار غتر مسلموں اور برادارن وطن سے مل کر بابری مسجد کے مسئلہ کی حل تک پہنچ گئے تھے۔مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے چندر شیکھر کے کہنے پر مولانا علی میاں کان نام تجویز ہوا تھا۔ہندوؤوں کی نمائندگی کیلئے شنکر آچا ریہ کا نام تجویز کیا گیا تھا۔وی پی سنگھ نے زمین کے سلسلہ میں احکامات جا ری کر دئے ہیں۔

آندھرا پردیش کے گور نر کرشن کانت اور جینی مذہب کے سشیل منی اور ہندوؤں کے سب سے بڑے گرو شنکر آچاریہ آنند نے اس مسئلہ کے حل کو منظوری دیدی۔اور حل یہ تھا کہ بابری مسجد اپنی جگہ رہے گی اورمورتیاں ہٹائی جائیں گی، اسے نماز کے لئے کھول دیا جا ئے گا۔مسجد کے چاروں طرف تیس فٹ کا تا لاب رہے گا۔اور اس کے بعد ریلنگ ہوگی اور ضرورت پڑنے پر کرنٹ دوڑایا جائیگا ۔

اس کے بعد بابری مسجد کی وقف کی زمین ہوگی اس پر رام مندر تعمیر کیا جائے گا۔اور مسلمان اس پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔مفتی اعظم قاسمی نے کہا کہ بابری مسجد کا مسئلہ صرف مسجد کی حد تک نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے ایک سو پچیس کروڑ مسلمانوں کے وقار اور انصاف پسندہندوستانیوں کے جمہور یت پر اٹو ٹ اعتماد کا مسئلہ ہے ۔اسلئے ہم اس مسئلہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈاور جمعےۃ علماء ہندکے ذریعہ سپریم کورٹ میں کیس لڑنے کے متحدہ موقف کی تائید کرنا اپنا فر ض سمجھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT