Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / بابری مسجد کیس: اڈوانی اور دیگر کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

بابری مسجد کیس: اڈوانی اور دیگر کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

اہم شخصیتوں پر مقدمہ کی سماعت رائے بریلی عدالت سے لکھنو منتقلی کا فیصلہ بھی زیر غور

نئی دہلی۔/6اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے بابری مسجد شہادت کیس میں ملزمین ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی کے بشمول بی جے پی کے سینئر لیڈروں کے خلاف سازشی الزامات کو بحال کرنے کے لئے داخل کردہ درخواست پر اپنے فیصلہ کو آج محفوظ کردیا ۔ سپریم کورٹ میں اس کیس کی بھی سماعت ہوگی کہ آیا ان وی وی آئی پیز ملزمین کے مقدمہ کو رائے بریلی کی عدالت سے لکھنؤ منتقل کیا جائے ؟۔6 ڈسمبر 1992 کو بابری مسجد شہادت کے تعلق سے دو کیس درج ہیں، پہلا کیس ان بے نام ’’ کارسیوکوں ‘‘ کے تعلق سے ہے جن پر مقدمہ لکھنؤ کی عدالت میں زیر دوران ہے جبکہ اس کیس میں ملوث وی وی آئی پیز کا مقدمہ رائے بریلی کی عدالت میں جاری ہے۔ جسٹس بی سی گھوش اور آرایف نریمن پر مشتمل بنچ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ ان دونوں کیسوں کے دو سیٹس کو مشترکہ مقدمہ قرار دے سکتے ہیں اور اسے رائے بریلی سے لکھنؤ عدالت منتقل کیا جاسکتا ہے۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ اس کیس کو تقریباً 25سال ہوچکے ہیں۔ انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ روزانہ کی اساس پر وقت مقررہ کے اندر مقدمہ کی سماعت کے احکام دیئے جانے پر غور ہوگا اور آئندہ دو سال کے اندر کیس کو پورا کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔ ایل کے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ کے کے وینوگوپال نے مشترکہ مقدمہ بازی کی تجویز کی پرزور مخالفت کی اور ان کا کیس رائے بریلی سے لکھنؤ منتقل کرنے کی بھی شدید مخالفت کی۔

سی بی آئی نے وضاحت کی ہے کہ وہ وی وی آئی پی ملزمین کے مقدمہ کے مسئلہ پر اپنی جانب سے کوئی رائے پیش نہیں کررہی ہے، البتہ ملزمین کے خلاف سازش الزام کی بحالی سے خود کو دور رکھ رہی ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے مشترکہ مقدمہ بازی کی تجویز کی حمایت کرنے والے درخواست گذاروں میں سے ایک درخواست گذار کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے استدلال پیش کیا کہ کیسوں کے دو سیٹس بنائے گئے ہیں جو ایک ہی واقعہ سے مربوط ہیں جن میں سراسر ایک ہی گوشے سے مبینہ طور پر سازش رچائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو ایک موقع دیا ہے کہ وہ منگل تک اپنی درخواستیں داخل کریں۔ سپریم کورٹ نے قبل ازیں فیصلہ کیا تھا کہ اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی اور دیگر 10 کے خلاف سازش؍ الزامات کو خارج کردینے کے خلاف داخل کردہ اپیل کا جائزہ لیا جائے۔ دو ایف آئی آرز کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کی ایک ملزم کے وکیل نے اس بنیاد پر اعتراض کیا کہ ان دو کیسوں میں ملزم کی حیثیت سے جن افراد کے نام دیئے گئے ہیں وہ مختلف ہیں اور ان کا مقدمہ اب دو مختلف مقامات پر آخری مرحلہ میں پہنچ گیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مشترکہ مقدمہ بازی سے اس کیس کی کارروائی از سر نو شروع ہوگی۔ بابری مسجد انہدامی کیس میں اڈوانی، جوشی اور بھارتی کے بشمول 13 ملزمین کے خلاف سازشی الزام کو خارج کردیا گیا تھا ، جس کا مقدمہ رائے بریلی کی خصوصی عدالت میں چل رہا ہے۔ اس کیس کا دوسرا سیٹ ان کے تمام کار سیوکوں کے خلاف ہے جنہوں نے بابری مسجد کو شہید کرنے میں عملی رول ادا کیا تھا۔ ان پر یہ مقدمہ لکھنؤ کی عدالت میں جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT