Wednesday , September 26 2018
Home / مذہبی صفحہ / بابری مسجد کی بازیابی ثانوی مسئلہ

بابری مسجد کی بازیابی ثانوی مسئلہ

۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء کا دن جمہوریہ ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، جس میں شرپسند عناصر نے منظم سازش کے تحت مکمل سیکورٹی میں کھلے عام بابری مسجد کو شہید کردیا۔ یہ درحقیقت سنگھ پریوار کی منظم سالہا سال سے جاری جدوجہد کی بظاہر کامیابی تھی، جس کے دام فریب میں ہندوستان کے اکثریتی طبقہ کے جنونی افراد پھنس گئے۔ جمہوریت کی دہائی دینے والے

۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء کا دن جمہوریہ ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، جس میں شرپسند عناصر نے منظم سازش کے تحت مکمل سیکورٹی میں کھلے عام بابری مسجد کو شہید کردیا۔ یہ درحقیقت سنگھ پریوار کی منظم سالہا سال سے جاری جدوجہد کی بظاہر کامیابی تھی، جس کے دام فریب میں ہندوستان کے اکثریتی طبقہ کے جنونی افراد پھنس گئے۔ جمہوریت کی دہائی دینے والے تماشہ بین بن گئے، سیکولرازم کا راگ الاپنے والوں کو سانپ سونگھ گیا، برسر اقتدار حکومت نے اپنے ووٹ بینک کے تحفظ کی خاطر شرپسند عناصر کو کھلی چھوٹ دے دی۔ ان گھناؤنی حرکتوں پر دے ڈالے گئے، ان کے ناپاک اور مسموم ارادوں و منصوبوں کو مستحکم بنانے کے مواقع فراہم کئے گئے، بابری مسجد کے قدیم و تاریخی حیثیت کے حامل درودیوار کے انہدام کو ہندوتوا کی جیت اور اسلام کی شکست و ریخت تصور کیا گیا۔ فرقہ پرستوں نے فتح و کامیابی کے جشن منائے، جنونی زعماء قوم نے بلالحاظ صنف و جنس فرط مسرت میں مغلوب ہوکر معانقے کئے، طرب و سرور کی محفلیں منعقد ہوئیں۔

دوسری جانب جذبات سے مغلوب مسلمانان ہند کو ان کے جائز احتجاج پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، ان کی کمر ہمت کو توڑنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ ہر سطح پر ان کے جذبات کا استحصال کیا گیا، ہر طرح سے انھیں مایوس و ناامید کرنے کے حربے اختیار کئے گئے۔
بابری مسجد کی شہادت نہ صرف انسانیت اور جمہوریت کا خون تھا، بلکہ اسلام دشمنی کا واضح اعلان تھا۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کا برسر عام اظہار تھا۔ شعائر اسلام کی توہین و بے حرمتی کا پیش خیمہ تھا اور ہوا بھی یہی کہ فرقہ پرستی کو اقتدار حاصل ہو گیا، جنونیت اور شرپسندی کا سہارا لینے والے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے اور وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ ہندوستان میں اسلام کمزور ہو جائے گا، ہندوتوا کو غلبہ حاصل ہو جائے گا اور ہر وقت فرقہ پرستی کا کارڈ کارگر ثابت ہوگا۔ لیکن ان ناعاقبت اندیشوں کو اسلام کی حقانیت و صداقت کا کیا علم کہ اسلام نے چودہ صدیوں میں کن کن حالات کا سامنا کیا ہے۔ ہزاروں طوفان آئے، لیکن اہل اسلام کے پائے استقلال کو متزلزل نہ کرسکے۔ تیز و تند آندھیاں چلیں، لیکن اسلام کے چراغ کو بجھا نہ سکیں۔

بابری مسجد کی شہادت دنیائے اسلام کی پندرہویں صدی کا ایک سانحہ ہے، لیکن مسلمانوں نے اس سے بھی بڑی آزمائشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں وہ پست ہمتی کے شکار نہیں ہوئے، صبر و تحمل سے کام لیا۔ وقت کی نبض کو پہچانا کہ یہ ساری باطل طاقتیں اقتدار و حکومت کی غلام ہیں، ان کی اسلام دشمنی تو فطری ہے، لیکن اقتدار کی چاہت عزیز تر ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کو دشمن اپنی کامیابی سمجھ بیٹھے، لیکن درباطن یہ خوابیدہ قوم کے لئے الارم ثابت ہوئی، خواب غفلت میں سونے والے مسلمانوں کو بیدار کرنے کا باعث بنی۔ ان ہی حالات نے مسلمانوں میں سیاسی شعور کو بیدار کیا، وہ اپنی سیاسی قوت کو پہچان سکے اور ہندوستان کے طول و عرض میں اقتدار کی بھوکی باطل و فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار کی دہلیز سے کھینچ کر محروم اقتدار کردیا۔ ۲۰۰۴ء اور ۲۰۰۹ء کے عام انتخابات اس کی روشن مثالیں ہیں۔ فرقہ پرست جماعتیں رام مندر کی تعمیر کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کرنے سے گریز کرنے لگیں، لیکن مسلمانوں نے جس سیاسی پارٹی کو اپنا ہمدرد اور خیرخواہ سمجھا، وہ بھی اقتدار کی بھوکی، میٹھا زہر ثابت ہوئی۔ اس کی حرص و ہوس، خواہش طمع، گھپلے، اسکینڈلس، خود غرضی، سیاسی استحصال، ملک کا تنزل، معیشت کی تباہی، مہنگائی اور بے روزگاری نے پھر فرقہ پرستوں کو ابھرنے کا زریں موقع دیا، جس سے فرقہ پرست زعفرانی جماعت نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ہندوستانی عوام کو نئی تبدیلی کے سنہرے خواب بتاکر، معاشی استحکام کا سراب دکھاکر دوبارہ اقتدار تک پہنچ گئیں۔ پہلے سے زیادہ ان کے حوصلے بلند ہیں، اب بابری مسجد کی جگہ وہاں رام مندر تعمیر کرنے کے وقفہ وقفہ سے مطالبہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف فرقہ پرستوں نے کھلے عام سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بھی قبول کرنے سے انکار کردیا، ان کے نزدیک عدلیہ کی کوئی اہمیت و وقعت نہیں ہے۔ جس طرح انھوں نے بابری مسجد کو غیر قانونی طورپر شہید کیا، جب کہ اقتدار ان کے ہاتھ میں نہ تھا، اب وہ غیر قانونی طورپر رام مندر کی تعمیر کی تیاریاں مکمل کرچکے ہیں۔ اقتدار ان کے پاس ہے، طاقت و قوت ان کے پاس ہے۔ بظاہر ان کو رام مندر کی تعمیر سے کوئی چیز روکنے والی نہیں ہے۔ دوسری طرف ساٹھ سال سے عدالت و قانون کی نظر میں غیر مسلم ادعاجات کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ہر وقت قانونی و غیر قانونی سطح پر اس کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ میں حقائق و شواہد سے انحراف کیا گیا، عقیدہ و آستھا کی بے بنیاد، بنیادوں پر فیصلہ کیا گیا، جس سے عدلیہ کے ماہرین حیران و شسدر ہیں۔ وہ خود حیران ہے کہ کس طرح مفروضات و تخیلات کو قانون کی بنیاد بنایا گیا۔ صرف اہل اسلام نے اس پر نکتہ چینی نہیں کی، بلکہ غیر مسلم ججس، وکلاء اور ماہرین قانون اس فیصلہ سے حواس باختہ ہو گئے اور اس کو ناقابل فہم فیصلہ قرار دیا۔ بطور خاص الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ میں، جہاں درمیانی گنبد میں ۱۹۴۹ء میں رات کے اندھیرے میں مورتی کو غیر قانونی طورپر رکھنے کو تسلیم کیا گیا، وہیں اس مورتی کو نہ صرف اسی مقام پر برقرار رکھنے کا اظہار کیا گیا، بلکہ اسی کو رام جنم بھومی قرار دیا گیا۔ اس طرح مجرمانہ عمل کو قانون کا درجہ دیتے ہوئے اس کو حق بجانب قرار دیا گیا اور سپریم کورٹ کے لئے راہ ہموار کردی گئی۔

اب مسلمانوں کی نظریں مسلم پرسنل لاء بورڈ پر ہیں، اس کی حکمت عملی نیک نیتی اور پیہم کاوش پر اعتماد کئے ہوئے ہے، لیکن مسلم پرسنل لاء بورڈ کی کاوش، عدالتی کارروائیوں اور قانونی چارہ جوئی تک محدود ہے اور وہ اس سلسلے میں حتی المقدور کوشش کر رہا ہے۔ لیکن دشمن کے نزدیک عدلیہ کی کوئی وقعت نہیں، وہ تو اقتدار کے ان پانچ برسوں میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر تعمیر کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ ایسی صورت میں مسلمانوں کی کیا حکمت ہوگی؟ اہم مسئلہ ہے۔ راقم الحروف کے نزدیک بابری مسجد کی بازیابی ایک ثانوی مسئلہ ہے، جب کہ بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر روکنا مسلمانوں کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ سیکولر ذہن کو ہموار بناکر بابری مسجد کے حقائق و شواہد کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کے طول و عرض میں ایک خاموش، غیر سیاسی منظم تحریک کی ضرورت ہے، تاکہ اس حساس مسئلہ سے غیر مسلم برادران وطن واقف ہوں اور اس مسئلہ کا سیاسی استحصال بھی نہ کیا جاسکے۔

بہرکیف بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ باطل طاقتیں اپنا کام کر جائیں گی، مسلمان دیکھتے رہ جائیں گے اور ظلم و زیادتی کے شکار بھی ہوں گے۔ لیکن اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہے کہ وہ باطل کے مقابل حق کو غلبہ عطا فرمائے گا۔ باطل ذلیل و خوار ہوگا اور حق عزت و شوکت سے سرفراز ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT