Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / بابری مسجد کی شہادت، بی جے پی ۔سنگھ پریوار کی منصوبہ بند سازش کا نتیجہ

بابری مسجد کی شہادت، بی جے پی ۔سنگھ پریوار کی منصوبہ بند سازش کا نتیجہ

نئی دہلی ۔ 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت ایک منصوبہ بند سبوتاج کا نتیجہ تھا اور محض ہندو تنظیموں کے جنونی ہجوم کی تنہا کارستانی نہیں تھی۔ ملک کے ایک خبر رساں ادارہ نے دو سال تک خفیہ طور پر معلومات جمع کرتے ہوئے اسٹنگ آپریشن کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے۔ کوبرا پوست کے ایڈیٹر ایندودھ بہل نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس م

نئی دہلی ۔ 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت ایک منصوبہ بند سبوتاج کا نتیجہ تھا اور محض ہندو تنظیموں کے جنونی ہجوم کی تنہا کارستانی نہیں تھی۔ ملک کے ایک خبر رساں ادارہ نے دو سال تک خفیہ طور پر معلومات جمع کرتے ہوئے اسٹنگ آپریشن کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے۔ کوبرا پوست کے ایڈیٹر ایندودھ بہل نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی، وی ایچ پی اور شیوسینا کے چند قائدین کے انٹرویوز کی نمائش کی جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے والینٹرس نے دو سال تک خفیہ پریڈ اور تربیت حاصل کی تھی، جس کے بعد یہ کام کیا گیا۔ اس اسٹنگ آپریشن میں بی جے پی قائدین اوما بھارتی، کلیان سنگھ اور ونئے کٹھیار کے انٹرویوز شامل ہیں، جن میں انہوں نے بابری مسجد کی شہادت کے تمام واقعات کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔

اینرودھ بہل نے بی جے پی کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ انتخابات کے پیش نظر کانگریس کی ایماء پر انہوں نے اسٹنگ آپریشن کو منظرعام پر لایا ہے۔ اسٹنگ آپریشن کے ٹیلی کاسٹ کو روکنے کیلئے الیکشن کمیشن سے بی جے پی کے مطالبہ سے متعلق ایک سوال پر بہل نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن سے انہیں تاحال کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ خفیہ طور پر ریکارڈ شدہ ٹیپس میں دعویٰ کیا گیا ہیکہ اس وقت کے وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ اور اترپردیش کے چیف منسٹر کلیان سنگھ بھی بابری مسجد کی یقینی شہادت سے باخبر تھے۔ اس کے باوجود سبوتاج کی ساری منصوبہ سخت رازداری میں کی گئی تھی کہ کسی بھی سرکاری ادارہ کو اس کی ہوا بھی نہیں لگ سکی تھی۔ تحقیقات کے کئی سال بعد بھی سی پی آئی ان 40 افراد کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت جمع نہیں کرسکی جن کے نام چارج شیٹ میں شامل ہیں۔ کوبرا پوسٹ نے دعویٰ کیا کہ 01 کے منجملہ 23 افراد بابری مسجد کی شہادت میں بحیثیت سازشی یا سرگرم منہدم کنندگان ملوث تھے۔

ان میں 12 کا تعلق بجرنگ دل، وی ایچ پی اور بی جے پی سے تھا۔ پانچ کا تعلق شیوسینا اور مابقی ملزمین کا تعلق دیگر ہندو تنظیموں سے تھا۔ کوبرا پوسٹ نے دعویٰ کیا کہ دونوں ہندو تنظیموں نے 6 ڈسمبر کو بابری مسجد کی شہادت سے کئی ماہ قبل اپنے کارکنو کو انتھک تربیت دی اور حتیٰ کہ آر ایس ایس کے تربیت یافتہ کارکنوں پر مشتمل بلیدانی جتھہ (خودکش دستہ) تشکیل دیا گیا تھا۔ وی ایچ پی میں نوجوانوں کی تنظیم بجرنگ دل نے گجرات کے سرکھیج میں اور شیوسینا نے بھنڈمورینا میں اپنے تربیتی کیمپس میں قائم کئے تھے۔ متنازعہ مقام پر ڈھانچہ ہٹائے جانے کے بعد بڑے رام مندر کی تعمیر کیلئے ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اشوک سنگھل، گری راج کشور اور آچاریہ دھرمیندر کی موجودگی میں کارسیوکوں کو حلف دلایا گیا تھا۔ وی ایچ پی نے لکشمن سینا کے خفیہ نام سے آر ایس ایس کے 1200 کارکنوں کو اور شیوسینا نے ’’پرتاپ سینا‘‘ کے نام سے اپنے مقامی ورکروں کو ایودھیا لایا تھا۔ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہیکہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کیلئے روایتی طریقہ کار کی ناکامی کی صورت میں شیوسینا ڈائنامیٹ سے اڑا دینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم بہار کی ایک ٹیم نے ڈھانچہ کو مندہم کرنے کیلئے پٹرول بموں کا استعمال کیا تھا۔ کوبرا پوسٹ نے انکشاف کیا کہ دیگر 2 افراد بھی تھے جو بابری مسجد کی شہادت کے ذمہ دار ہیں۔ وہ اس وقت رونما ہونے والی تمام تبدیلیوں سے باخبر تھے لیکن روکنے کیلئے کچھ نہیں کیا۔

ماضی میں اترپردیش کے چیف منسٹر کلیان سنگھ کو بھی مسجد کے انہدام کا پہلے ہی پورا علم تھا۔ بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ مہنت رام ولاس ویدانتی نے ٹیپس میں موجود انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ 5 ڈسمبر کی شب کلیان سنگھ کو منصوبہ سے باخبر کیا گیا اور کہا گیا کہ اگر ضروری ہو تو ڈھانچہ کو منہدم کردیا جائے گا۔ کوبرا پوسٹ کے مطابق بی جے پی کے ایک اور سابق رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے دعویٰ کیا کہ کلیان سنگھ کو پل پل کی اطلاع دی جارہی تھی۔ اسٹنگ آپریشن نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ پر بابری مسجد کی شہادت میں سازباز کے الزامات صحیح ثابت ہوئے ہیں کیونکہ ونئے کٹیار، بی ایل شرما، سنتوش دوبے، ساکشی مہاراج اور مہنت رام ولاس ویدانتی نے پی وی نرسمہاراؤ کے معاون رول کی کھلے عام توثیق کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT