Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / بابری مسجد کی شہادت اور گودھرا فسادات دہشت گردی کی بنیاد

بابری مسجد کی شہادت اور گودھرا فسادات دہشت گردی کی بنیاد

ان دو واقعات کی وجہ سے نوجوان القاعدہ پرمائل ہوئے ‘ پولیس کا اعتراف
نئی دہلی ۔ 12جون ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی القاعدہ میں اس لئے شرکت کررہے ہیں کیونکہ ان پر 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت اور 2002ء کے گجرات فسادات میں گہرا اثر مرتب کیا ہے اور وہ اس مسلمہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ شاخ برصغیر کی جانب مائل ہورہے ہیں ۔ دہلی پولیس نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ۔ اپنے فرد جرم میں جو 17ملزمین کے خلاف دہلی پولیس نے عدالت میں پیش کیا ہے کہا کہ جہاد کے مقصد سے ان میں سے بعض افراد پاکستان جاچکے ہیں اور جماعت الدعوۃ و لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید اور ذکی الرحمن لکھوی سے ملاقات کرچکے ہیں ۔ ان کی ملاقاتیں دیگر کئی خوفناک دہشت گردوں سے بھی ہوئی ہیں ۔ مختلف مسجدوں میں جہادی تقریریں کرتے ہوئے سید انظر شاہ کی ملاقات محمد عمر سے ہوئی اور دونوں میں ہندوستان کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم خاص طور پر گجرات فسادات اور بابری مسجد کی شہادت پر تبادلہ خیال کیا ۔ عمر ان کے جہادی نظریہ اور تقاریر سے بیحد متاثر ہوا اور اُس نے خود کو جہاد کیلئے وقف کردیا ۔ اُس نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان سے اسے ہتھیار اور گولہ بارود کو استعمال کی تربیت حاصل ہوگی ۔ یہ فرد جرم ایڈیشنل سیشن جج رتیش سنگھ کے اجلاس پر پیش کی جاچکی ہے ۔ اس فرد جرم میںکہا گیا ہے کہ عمر پاکستان سے اپنی کارروائیاں کررہا تھا ۔ پولیس کے بموجب ملزم عبدالرحمن کو خفیہ ٹھکانے ہندوستان میں پاکستانی عسکریت پسندوں سلیم ‘ منصور اور سجاد تمام ارکان جیش محمد کو فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ تاہم 2001ء میں وہ ایک فائرنگ کے واقعہ میں ہلاک ہوگیا تھا ۔ یہ تینوں پاکستانی عسکریت پسند ہندوستان آئے تھے تاکہ بابری مسجد کی شہادت کا انتقام لے سکیں ۔ انہوں نے ایودھیا میں رام مندر پر حملہ کرنے کی سازش کی تھی لیکن اُن کی ہلاکت واقع ہوگئی ۔ پولیس نے اپنے فرد جرم میں کہا کہ 17ملزمین میں سے 12 فرار ہیں ۔ انہوں نے مبینہ طور پر سازش کی تھی ۔ ہندوستانی نوجوانوں کو بھرتی کیا تھا اور ہندوستان میں القاعدہ کی شاخ قائم کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT