Monday , May 21 2018
Home / Top Stories / بابری مسجد کی شہادت جمہوری ہندوستان کا سیاہ باب

بابری مسجد کی شہادت جمہوری ہندوستان کا سیاہ باب

دوبارہ تعمیر کا مطالبہ ۔ 6 ڈسمبر کو رضاکارانہ بند کی اپیل ۔ مجید اللہ خاں فرحت کا خطاب

حیدرآباد۔3ڈسمبر(سیاست نیوز)مغلوں کی آمد سے قبل ہندوستان بے شمار راجہ ‘ راجوڑوں کی جاگیر میں بٹا ہوا تھا اور منقسم ہندوستان کو قوم بنانے میں مغلو ں نے اہم رول ادا کیاتھااور آج انہیں مغلوں کو ملک کا دشمن قراردیا جارہا ہے اور اس کی وجہہ ان کا مسلمان ہونا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس ملک کو مغلوں کا مرہون منت ہونا چاہئے ۔ مغلوں کی اجارہ داری کو ختم کرنے انگریز وں نے تاریخی واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور ہندومسلم نفرت پھیلا کر اپنی سازشوں کو کامیاب کیا۔ انگریز حکومت میں گورے انگریزوںکی سازشیں تھی اور اب جمہوری ہندوستان میں کالے انگریز وہی کام انجام دے رہے ہیں جو نفرت کے ذریعہ اپنے خفیہ ایجنڈہ کو پروان چڑھا رہے ہیں مگر اب وقت بدلتا جارہا ہے ۔ فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم کو ناکام بنانے پسماندگی کا شکار وہ تمام طبقات جو فسطائی طاقتوں کی سازشوں کا شکار ہوئے ہیںمتحدہورہے ہیں ایک پلیٹ فارم پر آرہے ہیںاب وقت ہے پہلے اپنی صفوں کودرست کریں کیونکہ ہمیں نقصان دشمنوں سے زیادہ منافقوں سے ہوا ہے ۔اس کا خمیازہ ہم 60 سال سے بھگت رہے ہیں اور اس کی مثال بابری مسجد کی شہادت ہے۔بابری مسجد کی شہادت دراصل جمہوری ہندوستان کا سیاہ او ربدنما باب ہے جس کو مٹانے حکومت کو اسی مقام پر دوبارہ بابری مسجد تعمیر کروانی ہوگی ۔ ان خیالات کا صدر مجلس بچائو تحریک مجید اللہ خان فرحت بازیابی بابری مسجد کے عنوان پر منعقدہ جلسہ سے صدارتی خطاب کے دوران کررہے تھے ۔ترجمان امجد اللہ خان خالد‘ سکریٹری مصطفیٰ محمود‘ سینئر قائد الحاج سید طاہر‘جناب اجمل الدین فاروقی‘ جناب عبدالقدوس غوری‘ الطاف نصیب خان‘ عبدالرحیم بیگ ٹیپو نے بھی خطاب کیا۔ جناب مجید اللہ خان فرحت نے کہاکہ جمہوری ہندوستان میں آستھا کی بنیاد پر فیصلہ کسی قیمت پر قابل قبول نہیںہوگا۔ مجلس بچائو تحریک روز اول سے اس بات کی مخالفت کی تھی مگر کسی سیاسی جماعت اور تنظیم نے اس کی حمایت نہیں کی کہ بابری مسجد مقدمہ میں متنازعہ بنائے گئے مقام کی کھدوائی نہ کی جائے ۔ کھدوائی سے قبل مقدمہ کے فریق نرموہی اکھاڑہ یا پھر کسی اور تنظیم کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت نہیں تھامگر کھدوائی کے بعد محکمہ آثار قدیمہ نے انہیں ثبوت فراہم کیا جو سازش کے تحت تھا۔ انہوں نے کہاکہ یہ افسوس کی بات ہے کہ دستور ی عہدے پر فائز ایک جج کہتا ہے کہ وہ بھگوان رام کا بھگت ہے اور اس تناظر میںفیصلہ سناتا ہے جو جمہوریت میںقابل قبول نہیںہوگا۔ انہوں نے جمہوریت پسند بردران وطن اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ 6ڈسمبر کو جمہوری انداز ‘ رضاکارانہ احتجاج کرتے ہوئے دوکانیںبند رکھیں اور ہاتھ پر سیاہ پٹیاں باندھ کر بابری مسجد کی بازیابی کا حکومت ہند سے مطالبہ کریں۔تحریک کے دیگر قائدین نے بھی عوام سے اپیل کی کہ 6ڈسمبر کے روز نماز حاجت پڑھیں اور بابری مسجد کی اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کیلئے خصوصی دعائوں کا اہتما م کیا جائے ۔

حکومت نے معذورین کی بہتری میں ناکام ‘ ایل رمنا
حیدرآباد 3 ڈسمبر ( این ایس ایس ) تلنگانہ تلگودیشم کے صدر ایل رمنا نے آج الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت ریاست میں معذور افراد کی فلاح و بہبود میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ این ٹی آر ٹرسٹ بھون میں معذوروں کے قومی دن کا اہتمام کیا گیا ۔ مسٹر رمنا نے تقریبا 200 معذورین میں بلانکٹس تقسیم کئے ۔ اس موقع پر کچھ افراد کو فی کس 5000 روپئے کی امداد بھی تقسیم کی گئی ۔ مسٹر رمنا نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بین الاقوامی یوم معذورین پر کسی تقریب میں شرکت نہیں کی ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ آنجہانی این ٹی آر دور میں معذورین کی فلاح کیلئے کئی پروگرامس شروع کئے گئے تھے مسٹر رمنا نے کہا کہ معذور افراد کی تائید میں ایک روزہ دیکشا کا اہتمام بھی کیا جائیگا تاکہ ان کے مسائل کو اجاگر کیا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT