Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / بابری مسجد کی شہادت فرقہ پرستوں اور ہندو فاشسٹ تنظیموں کی غیر جمہوری حرکت

بابری مسجد کی شہادت فرقہ پرستوں اور ہندو فاشسٹ تنظیموں کی غیر جمہوری حرکت

نریندر مودی کو اقتدار کے بعد ملک عدم روا داری کا شکار ، انقلابی مصنف و سماجی جہدکار ورا ورا راؤ اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔4ڈسمبر(سیاست نیوز) نر یندر مودی حکومت کے مرکز میںاقتدار میں آنے کے بعد سے بابری مسجد سے لیکر اتر پردیش کے دادری جیسے عدم رواداری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ فرقہ پرست طاقتیں طاقت کی بنیاد پر معاشی طور پر پسماندہ اقلیتی اور دلت طبقات کو دبانے کی کوشش کررہے ہیںتاکہ جمہوری ہندوستان کو ہندورشٹرامیںتبدیل کیاجاسکے اگر ایسے وقت بھی سیکولر او رڈیموکرٹیک جماعتیں خاموش تماشائی بنی رہی تو فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم کی تکمیل میں دیر نہیںہوگی۔ انقلابی مصنف وسماجی جہدکار ورا ورا رائو نے نیو پریس کلب سوماجی گوڑ ہ میں فورم مخالف ہندوفاشزم کے زیر اہتمام منعقد ہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ اس موقع پر فورم مخالف ہندوفاشزم کے مجوزہ یوم بابری مسجد جلسہ عام کے پوسٹرز کی بھی اجرائی عمل میںلائی گئی ۔ورا ورا رائو نے بابری مسجد کی شہادت کو ہندوستان کی تاریخ کا سب سے منحوس او رسیاہ دن قراردیتے ہوئے کہاکہ بابری مسجد سے لیکر دادری تک اور اس سے قبل بھی ہندوستان میںمسلمانوں اور دلتوں پرمظالم کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ہندو فاشٹ طاقتیں 6ڈسمبر کو بابری مسجد کی شہادت کے ذریعہ دستور ہندکے معمار ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر کی برسی کو دلت طبقہ کی عوام کے دلوں سے فراموش کرنے کی سازش رچی ہے ۔ ورا ورا رائو نے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت فرقہ پرست طاقتوں بالخصوص ہند و فاشٹ تنظیموں کی غیرجمہوری حرکت ہے ۔ انہوں نے بابری مسجد کی شہادت کے خلاف اور بابا صاحب بھیم رائو امبیڈکر کی یاد میں 6ڈسمبر کو فارم مخالف ہندوفاشزم کے زیر اہتمام پرکاشم ہال گاندھی بھون میںمنعقد کئے جانے والے ایک روزہ طویل جلسہ عام میںمسلمانوں اور دلتوں سے کثیر تعدادمیں شرکت کی اپیل کی ۔ ورا ورا رائو نے ریاست تلنگانہ میںبڑھتی عدم رواداری پر بھی تشویش ظاہر کی ۔ انہوںنے کہاکہ تلنگانہ میںجہاں پربرسوں سے لوگ مل جل کر رہتے ہیں وہاں پر بیف فیسٹول کی مخالفت میں بے بنیاد باتیں کرتے ہوئے تلنگانہ کی پرامن فضاء بگاڑنے کی کوشش کرنا ایک افسوس ناک عمل ہے۔ سماجی جہدکار اور مصنف اوسا سامبا سیوا رائو نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے بابری مسجد کی بازیابی کے لئے فور م مخالف ہندو فاشزم کے مجوزہ جلسہ عام کی تائیدکرتے ہوئے تلنگانہ عوام سے اس جلسہ میں شرکت کی اپیل کی۔ انہو ںنے راجہ سنگھ کو گرفتار کرنے اور عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ کو بیف فیسٹول کے انعقاد میںتعاون کرنے کی حکومت تلنگانہ سے اپیل کی۔ صدر نشین پی او ڈبلیوسندھیانے اپنے جارحانہ انداز میںہندو فاشٹ تنظیموں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے سیکولر او رڈیموکرٹیک پلیٹ فارم کوضروری قراردیا۔سندھیا نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد قومی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات میںتیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے جس کا مقصدجمہوری ہندوستان میںاقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کے حوصلوں کو کمزور بنا نا ہے۔ مولانا نصیر الدین نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت ہندوستان میںعدم رواداری کے عام ہونے کی سب سے بڑی مثال ہے۔ انہوں نے کہاکہ بابری مسجد کے متعلق اتر پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کی بھی سختی کے ساتھ مذمت کی اور کہاکہ عدلیہ میںزعفرانیت کے عام ہونے کا نتیجہ بابری مسجد کی شہادت کا متناز عہ فیصلہ ہے۔ انہوں نے بابری مسجد کی بازیابی تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے اور سیکولر و ڈیموکرٹیک تنظیموں کے ایسے تمام پروگراموں کی حمایت کا بھی اعلان کیاہے۔ مجا ہد ہاشمی‘ دیویندر ا ‘ این کرشنا ‘ جے کوٹی‘ ایم راجو ‘ کے وجئے کمار کے علاوہ دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT