Thursday , July 19 2018
Home / Top Stories / بابری مسجد کی شہادت پر نادم 27 کارسیوک مشرف بہ اسلام

بابری مسجد کی شہادت پر نادم 27 کارسیوک مشرف بہ اسلام

گناہ پر توبہ و استغفار سے روحانی و قلبی راحت ، 100 مساجد کی تعمیر و تجدید کا عہد
حیدرآباد ۔ 8 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : چند کارسیوکوں کے لیے بابری مسجد کا انہدام اب باعث فخر نہیں رہا بلکہ افسوس و ندامت کا سبب بن گیا ہے ۔ کیوں کہ ایسے چند افراد جو کبھی رام مندر کی تعمیر کے کاز کے لیے پر عزم تھے اللہ کے گھر کو شہید کرنے پر ندامت کے آنسو بہاتے ہوئے مشرف بہ اسلام ہوچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے رحمت و مغفرت کے طلب گار بن گئے ہیں ۔ ان میں ہریانہ کے پانی پت سے تعلق رکھنے والے بلبیر سنگھ بھی ہیں ۔ شیوسینا کے اس سابق لیڈر نے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو شہید کرنے کے لیے اس کے جگہ پر سب سے پہلے چڑھتے ہوئے ایک تاریخ بنائی تھی اور انہیں اپنے اس ’ کارنامے ‘ پر کافی فخر بھی تھا ۔ لیکن بعد میں انہوں نے بابری مسجد کو شہید کرنے کی بدترین غلطی کو تسلیم کرلیا اور بالاخر 1993 میں مشرف بہ اسلام ہوگئے ۔ جس کے بعد سے محمد عامر کے نام سے پہچانے جاتے ہیں ۔ بلبیر سنگھ سے محمد عامر بننے والے اس خوش نصیب شخص نے تلنگانہ میں ضلع محبوب نگر کے مدرسہ اسلامیہ تجوید القرآن واقع شاہ صاحب گٹہ کے دورہ کے موقع پر اپنی زندگی میں ایمان افروز تبدیلی کے واقعہ کا تفصیلی تذکرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کے گنبد پر پہلے ہی وار کے بعد وہ بے چینی محسوس کرنے لگے تھے ۔ لیکن مذہب ، عزم اور نوجوانی کا جوش انہیں رکنے نہیں دیا ۔ وہ اپنے کام میں مصروف رہے حتی کہ ان کی طبیعت بگڑ گئی اور دوستوں نے گھر منتقل کیا ۔ بہر حال وہ اپنے ’ کارنامہ ‘ پر بدستور فخر محسوس کررہے تھے پھر آبائی ٹاون پانی پت میں گھر واپسی پر پرتپاک استقبال بھی کیا گیا تھا ۔ وہ شہید بابری مسجد کی دو اینٹیں اپنے ساتھ لائے تھے جو اب بھی شیوسینا کے مقامی دفتر میں رکھی ہوئی ہیں ۔ لیکن بلبیر ( موجودہ محمد عامر ) کے والد نے جو معتبر پیشہ تدریس سے وابستہ ایک اصول پرست انسان اور ٹیچر ہیں یہ کہتے ہوئے اپنے بیٹے پر گھر کا دروازہ بند کردیا تھا کہ ایک استاد جو ’ ہندو ، مسلم ، سیکھ ، عیسائی آپس میں ہیں بھائی بھائی ‘ کا درس دیتا رہا ہے اس کے بیٹے نے ہی اس کا سر شرم سے جھکا لینے پر مجبور کردیا ‘ ۔ ’ اس واقعہ کے بعد میرا دل ، دماغ اور میری روح کوئی کام کی نہ رہی ۔ طبیعت بگڑتی گئی ۔ ڈاکٹروں سے رجوع ہونے پر انہوں نے کہا کہ میں دو تین ماہ زندہ رہ سکتا ہوں ‘ ۔ محمد عامر نے مزید کہا کہ اس دوران میرے ایک ساتھی یوگیندر پال سنگھ کی صحت بھی بگڑنے لگی ۔ ہوس کے ساتھ وہ خواتین کو دیکھ کر اپنے ہی کپڑے پھاڑنے لگتا اور لوگ اس کی جوتے چپلوں سے پٹائی کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ اس کے رشتہ داروں نے اس کو گھر میں ہی قید کردیا تھا ۔ اس کے علاج کے لیے سب کچھ کیا گیا حتی کہ کالا جادو کرنے والوں اور تانترکوں کو بھی دکھایا گیا ۔ تاہم کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ ہر طرف ناکامی و ناامیدی کے بعد یوگیندر کا باپ مقامی مولانا کلیم صدیقی سے رجوع ہوا اور ساری کہانی سنائی ۔ مولانا صدیقی نے مشورہ دیا کہ وہ کچھ اور نہ کریں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ سے رجوع ہو کر معافی مانگیں چنانچہ یوگیندر کا باپ قریبی مسجد کے سامنے معافی مانگنے لگا جس کے ساتھ ہی یوگیندر کی حالت سنبھلنے لگی ۔ یہ معجزہ دیکھ کر باپ بیٹے نے 10 جنوری 1993 کو اسلام قبول کرلیا ۔ اس طرح یوگیندر محمد عمر ہوگیا ۔ یوگیندر نے اپنے دوست بلبیر سنگھ کو یہ کہانی سنائی اور وہ بھی مولانا سے رجوع ہو کر 11 جون 1993 کو دین اسلام میں شامل ہوگیا ۔ جس کے بعد سے اس کے دل اور روح کو سکون محسوس ہونے لگا ۔ انہوں نے کہا کہ تاحال 27 کارسیوکوں نے مولانا کلیم صدیقی سے رجوع ہو کر اسلام قبول کرلیا ہے ۔ محمد عامر نے کہا کہ انہوں نے اپنے گناہوں کی توبہ کرتے ہوئے باقی زندگی کے دوران 100 مساجد کی تعمیر یا تجدید کرنے کا عہد کیا ہے اور تاحال وہ 35 مساجد بنا چکے ہیں ۔ محمد عامر نے انکشاف کیا کہ بابری مسجد شہید کرنے والے اکثر ہندو پاگل ہوچکے ہیں یا پھر کسی نہ کسی بیماری کے سبب فوت ہوچکے ہیں ۔ جب کہ چند ہندو توبہ کرتے ہوئے مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں ۔ ایک اور کارسیوک شیوا پرساد جس نے بجرنگ دل یوتھ لیڈر کی حیثیت سے تقریبا 400 کارسیوکوں کو تربیت دی تھی بابری مسجد کی شہادت کے بعد گم سم ہوگیا تھا اور اکثر خود پر یہ الزام لگاتا رہا تھا کہ اس نے ناقابل معافی جرم کیا ہے ۔ وہ علاج کے لیے کئی ماہر نفسیاتی ڈاکٹروں کے علاوہ تانترکوں اور جادو گروں سے بھی رجوع ہوا تھا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ طویل عرصہ تک گمنامی میں رہنے کے بعد 1997 میں ملازمت کے لیے شارجہ چلا گیا تھا جہاں مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد محمد مصطفی بن چکا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT