Tuesday , December 11 2018

بابری مسجد کی شہادت کی آج 26 ویں سالانہ یاد

ایودھیا کے مسلمان ہنوز 6 ڈسمبر 1992 ء کی رات نہیں بھول سکے، اکثریتی طبقہ بھی امن چاہتا ہے
ایودھیا ۔ 5 ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) 2019 ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل حکمراں بی جے پی کی نظریاتی حلیف وشواہندوپرشید کی قیادت میں ہندوتوا تنظیموں نے مسئلہ ایودھیا کو دوبارہ موضوع بناتے ہوئے متنازعہ مقام پر لارڈ رام کے مندر کے مطالبات میں شدت پیدا کی ہے ۔ اس دوران کل 6 ڈسمبر کو بابری مسجد کی انہدام کی 26 ویں سالانہ یاد منائی جارہی ہے ۔ بالخصوص وشواہندوپریشد (وی ایچ پی ) نے اس کو یوم شجاعت کے طورپر منانے کا اعلان کیا ہے لیکن ایودھیا میں رہنے والوں کے ذہنوں میں پھر ایک مرتبہ 1992 ء کے بدبختانہ واقعات کی یادیں دوبارہ تازہ ہوگئی ہیں۔ ایودھیا کے ایک آٹو ڈرائیور محمد عظیم 6 ڈسمبر 1992 ء کی خوفناک رات ہنوز نہیں بھول سکے ہیں جب اُنھیں اور اس مقام پر رہنے والے دیگر مسلمانوں کو اپنی جان بچانے کیلئے کھیتوں میں چھپنا پڑا تھا ۔ محمد عظیم جو اُس وقت صرف 20 سال کے تھے کہا کہ ’’کارسیوکوں کی فوج نے جوشِ جنون میں بابری مسجد کو منہدم کردیا تھا ، جس کے ساتھ ہی گڑبڑ بے چینی و کشیدگی پھیل گئی تھی۔ ہم اس حد تک خوفزدہ ہوگئے تھے کہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرنا چاہئے ‘‘۔ محمد عظیم نے کہاکہ ایک ایسے وقت جب دو طبقات کے درمیان ہولناک کشیدگی جاری تھی ایک ہندو خاندان نے انھیں اور اُن کے ساتھیوں کو چند دن کیلئے اپنے گھر میں پناہ دی تھی ۔ عظیم اب 46 سال کے ہوگئے اور چار بچوں کے باپ بھی بن گئے ہیں ۔ بعض سیاستدانوں کی طرف سے پھر ایک مرتبہ رام مندر کامسئلہ اُٹھائے جانے اور وی ایچ پی سے ایودھیا کے مخدوش امن کو لاحق خطرات پر افسوس اور خوف محسوس کررہے ہیں ۔ اس طرح 78 سالہ محمد مسلم جو اب ای ۔ رکشا چلاتے ہیں 26 سال قبل پیش آئے بدبختانہ واقعات بیان کرتے ہوئے بکھر گئے تھے اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سیاستداں اور ہندوتنظیمیں فرقہ وارانہ نفرت نہ پھیلائیں۔ صرف اقلیتی مسلمان ہی نہیں بلکہ اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی ایودھیا کے اُن واقعات پر گہرا دُکھ ہے ۔ ایک مقامی ڈاکٹر وجئے سنگھ نے بھی ان بدبختانہ واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ وجئے سنگھ اور اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے اکثر افراد اپنے علاقہ میں امن چاہتے ہیں ۔ وجئے سنگھ نے کہاکہ ’’وہ ایک انتہائی ہولناک واقعہ تھا ہم ایک اور ایودھیا نہیں چاہتے ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT