Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے موقع پر بند اور یوم سیاہ کا اہتمام

بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے موقع پر بند اور یوم سیاہ کا اہتمام

کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیںآیا ۔ دارالشفا میں ڈی جے ایس کے کارکنوں کی گرفتاری ‘ اندرا پارک پر بھی کل جماعتی احتجاجی دھرنا کا انعقاد

حیدرآباد ۔ /6 ڈسمبر (سیاست نیوز) بابری مسجد کی شہادت کی 23 ویں برسی پر آج دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں یوم سیاہ اور بند کا اہتمام کیا گیا ۔ دونوں شہروں میں بند مکمل اور پرامن رہا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ۔ بند کے موقع پر عوام اور تاجروں نے رضاکارانہ طور پر اپنی دوکانات اور کاروباری اداروں کو بند رکھا ۔ شہر میں سڑکوں پر ٹریفک بھی معمولی رہی ۔ بیشتر مقامات پر سڑکیں سنسان نظر آ رہی تھیں اور عوام نے گھروں میں رہنے کو ہی ترجیح دی ۔ جہاں رضاکارانہ طور پر دوکانات اور تجارتی ادارے بند رکھے گئے وہیں بابری مسجد کی بازیابی کیلئے خصوصی دعاؤں کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ حیدرآباد سٹی پولیس نے اس موقع پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے تھے اور بابری مسجد کی بازیابی کیلئے احتجاج کرنے والے درسگاہ جہاد و شہادت کے کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ۔  بابری مسجد کی شہادت جو /6 ڈسمبر 1992 ء میں ہوئی تھی اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ پولیس نے آج صبح سے ہی پرانے شہر کے حساس علاقوں میں پکٹس متعین کردیئے تھے اور ایڈیشنل کمشنر آف پولیس کرائمس شریمتی سواتی لکرا کو ساؤتھ زون سکیورٹی کے انچارج بنایا گیا تھا اور ان کی نگرانی میں دو ڈپٹی کمشنران ، تین ایڈیشنل کمشنران ، انسپکٹران و سب انسپکٹران نے سکیورٹی کی ڈیوٹی انجام دی ۔ تاریخی چارمینار کے دامن میں اور مکہ مسجد کے اطراف و اکناف میں بھاری تعداد میں پولیس دستوں کو متعین کردیاگیا تھا ۔ یہاں آر اے ایف کے دستوں کو بھی متعین کیا گیا اور پٹرولنگ میں شدت پیدا کردی گئی تھی ۔ شہر میںمختلف مقامات پر بھی حساس مقامات پر پولیس کے اضافی دستے متعین کئے گئے تھے اور چوکسی برتی جا رہی تھی ۔ مکہ مسجد میں نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد مصلیان پرامن طور پر وہاں سے چلے گئے ۔ چارمینار کے اطراف و اکناف کا پرہجوم بازار بھی آج بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر سنسان اور ویران نظر آ رہا تھا ۔ دوکانیں اور کاروباری ادارے وغیرہ بند رہے ۔ شام کے اوقات میں شہر کے کچھ مقامات پر معمول کی سرگرمیاں کسی حد تک بحال ہوئی تھیں۔ بابری مسجد کی بازیابی کیلئے درسگاہ جہاد و شہادت کے کارکنوں نے تنظیم کے صدر محمد ماجد کی قیادت میں دارالشفاء مسجد حاجی کمال کے روبرو احتجاج منظم کیا جس میں بابری مسجد کی بازیابی کیلئے نعرے بازی کی گئی اور ہندوتوا تنظیموں کے خلاف نعرے لگائے ۔ میر چوک پولیس نے 21 ڈی جی ایس کارکنوں کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں کنچن باغ پولیس اسٹیشن منتقل کیا اور آج شام انہیں رہا کردیا گیا ۔ پولیس نے احتیاطی طور پر /6 اور /7 ڈسمبر کیلئے دونوں شہروں میں امتناعی احکامات دفعہ 144 کونافذ کردیا تھا ۔یوم سیاہ مکمل طور پر پرامن رہا ۔ صدر وحدت اسلامی مولانا محمد نصیر الدین نے اندرا پارک دھرنا چوک کے قریب احتجاج منظم کیا اور مسجد اجالے شاہ سعیدآباد میں بابری مسجد کی بازیابی کیلئے خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا اور بعد ازاں دعائیں کی گئیں ۔ اندرا پارک پر بابری مسجد کی بازیابی کیلئے کل جماعتی احتجاجی دھرنا منظم کیا گیا اور مقررین نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بابری مسجد کو اس کے اصل مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT