Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / بابری مسجد کے اہم مدعی ہاشم انصاری کی حالت نازک

بابری مسجد کے اہم مدعی ہاشم انصاری کی حالت نازک

سینے میں تکلیف کی شکایت کے بعد لکھنؤ دواخانے کے آئی سی یو میں شریک
لکھنؤ ۔ /7 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بابری مسجد کے اہم مدعی محمد ہاشم انصاری کو لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کے آئی سی یو میں شریک کیا گیا ہے ۔ ان کی حالت نازک بتائی گئی ہے ۔ 96 سالہ ہاشم انصاری نے سینے میں درد اور سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کی تھی ۔ انہیں فیض آباد سے کل لکھنؤ کے کے جی ایم یو کارڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کو منتقل کیا گیا تھا ۔ ہاشم انصاری کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ ہاشم انصاری کے قلب میں لگائے گئے مستقل پیس میکر کا معائنہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے 10 دن قبل سینے میں تکلیف کی شکایت کی تھی ۔ جبکہ ان کے ہیمو ڈائنامک پیرامیٹرس معمول کے مطابق کام کررہے ہیں ۔ پیس میکر کی بھی کارکردگی معمول پر چل رہی ہے ۔ انصاری کا 2D ایکو کارڈیوگرافی بھی نارمل ہے ۔ ان کی حالت فی الحال مستحکم ہے لیکن خاندانی ذرائع نے بتایا کہ فیض آباد کے ڈاکٹروں نے ہاشم انصاری کی حالت نازک دیکھ کر انہیں فوری لکھنؤ منتقل کرنے کا مشورہ دیا ۔ ایودھیا کے ساکن پیشہ سے ٹیلر ، ہاشم انصاری بابری مسجد کیس سے ڈسمبر 1949 ء سے وابستہ ہیں جب بابری مسجد کے احاطہ میں رام کی مورتیاں رکھی گئی تھیں ۔ 1954 ء میں بابری مسجد میں اذاں دینے کی پاداش میں فیض آباد کی عدالت نے دو سال کی جیل کی سزاء سنائی تھی ۔ بعد ازاں 1961 ء میں ہاشم انصاری اور دیگر 6 ایودھیا ملکیت مقدمہ میں اصل مدعی بن گئے تھے ۔ فیض آباد سیول جج کی عدالت میں سنی سنٹرل وقف بورڈ نے حق ملکیت کا دعویٰ پیش کیا تھا ۔ اس کیس کے تمام مدعیان میں صرف ہاشم انصاری ہی بقید حیات ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT