Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / بابری مسجد ۔ رام مندر تنازعہ کی عدالت کے باہر یکسوئی کی مساعی

بابری مسجد ۔ رام مندر تنازعہ کی عدالت کے باہر یکسوئی کی مساعی

سری سری روی شنکر کی ائمہ اور سوامیوں سے بات چیت، دونوں طبقات سے تعاون پر زور
بنگلورو ۔ /28 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ اس کے بانی سری سری روی شنکر رام مندر تنازعہ کی یکسوئی کیلئے نرموہی کے آچاریہ رام داس کے بشمول متعدد ہندو سوامیوں اور مسلم اماموں سے رابطہ میں ہیں ۔ تاہم فاؤنڈیشن نے کہا کہ فی الحال کوئی نتیجہ اخذ کرلینا قبل از وقت ہوگا اور یہ بات چیت حکومت کی ایماء پر نہیں کی جارہی ہے ۔ آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ روی شنکر کئی آئمہ مساجد اور ہندو سوامیوں سے رابطہ میں ہیں جن میں نرموہی اکھاڑہ کے آچاریہ رام داس بھی شامل ہیں ‘‘ ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’گرودیو سری سری روی شنکر اس نظریہ کے حامل ہیں کہ رام مندر کے مسئلہ پر پیدا شدہ موڈ اور مزاج نے دونوں طبقات کے عوام کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قریب آئیں اور اس عدالت کے باہر ہی اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کیلئے سنجیدہ مساعی کا مظاہرہ کریں ۔ فاؤنڈیشن نے کہا کہ مذاکرات جو حکومت یا کسی تنظیم کی طرف سے نہیں کئے گئے ہیں اس مسئلہ کے ایک خوشگوار اور دوستانہ حل کی سمت پیشرفت کے لئے دونوں طبقات کے قائدین میں آمادگی اور ایک مشتبہ توانائی پیدا کرنے کیلئے آگے لائے ہیں ۔ تاہم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے روی شنکر سے کسی بات چیت کی تردید کی ہے ۔ اس بورڈ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اگر روی شنکر چاہتے ہیں تو وہ ان سے بات چیت کے لئے تیار ہیں کیونکہ مسئلہ کا حل تلاش کی ۔ مساعی میں ان سے بات چیت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے 2010 ء کے فیصلہ میں ایودھیا کی 2.77 ایکر اراضی کو سنی وقف بورڈ ، نرموہی اکھاڑہ اور لارڈ رام لالہ کے مابین مساویانہ طور پر تقسیم کیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے 2010 ء کے اس فیصلے کے خلاف دائر کردہ 13 اپیلوں پر سماعت کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس نے بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی کے تاریخی مقدمہ کی سماعت کی تاریخ /5 ڈسمبر مقرر کی ہے ۔ (متعلقہ خبر اندرونی صفحات پر )

TOPPOPULARRECENT