بابو راؤ ، ایک قابل تقلید انسان دوست شخصیت

اپنی محنت کی بدولت کامیاب ہونے والے بابو راؤ کی روزانہ 300 مریضوں کو 3 وقت مفت کھانے کی سربراہی

اپنی محنت کی بدولت کامیاب ہونے والے بابو راؤ کی روزانہ 300 مریضوں کو 3 وقت مفت کھانے کی سربراہی
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جنوری : ( نمائندہ خصوصی ) : نیک نیت ، بلند حوصلہ اور کچھ کر دکھانے کا مستحکم جذبہ ہو تو کامیابی کی بلندی تک پہنچنے میں کوئی بھی شئے رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔ ایسا ہی کچھ ہوا ہے ۔ بابو راؤ کے ساتھ جو کبھی ہوٹل میں چائے کی پیالیاں دھویا کرتے تھے ۔ آج ایک بڑے ہوٹل کے مالک ہیں ۔ سب سے دلچسپ قابل ستائش اور قابل تقلید پہلو یہ ہے کہ کامیابی کی بلندیوں پر پہنچنے کے بعد اور دولت کے حصول کے بعد بابو راؤ اپنا ماضی کبھی نہیں بھولے ہیں اور اپنی نیک نیتی کی بدولت اپنی دولت میں غریبوں ، مجبوروں اور بے کسوں کا حصہ سمجھتے ہیں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ پچھلے 6 سال سے روزانہ 300 افراد کو تین وقت بلا معاوضہ کھانا کھلاتے ہیں اور مریضوں کو فی کس 200 ملی لیٹر دودھ فراہم کرتے آرہے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی بدستور جاری ہے ۔ ان کا پورا نام اے بابو راؤ ہے ، والد کا نام نارائن راؤ ہے وہ عمر کی 58 ویں بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ جب ہم نے ان سے مزید تفصیلات جاننا چاہا تو انہوں نے کہا وہ عادل آباد کے ایک موضع لکہام میں پیدا ہوئے ۔ ان کا خاندان کومٹی ہے ۔ دسویں جماعت تکمیل نہیں کرپائے پڑھائی کے لیے اسکول کی فیس ، بیاگ اور کتابوں کے پیسے والد سے طلب کیا ان کے پاس پیسے نہیں تھے تو انہوں نے بابو راؤ کو بتائے بغیر گھر میں موجود واحد گائے کو فروخت کردیا اور وہ رقم بابو راؤ کو دیدی ۔ بعد میں بابو راؤ کو جب پتہ چلا تو انہوں نے سوچا کہ گائے جو ہماری ماتا ہے اسے والد نے میری خاطر فروخت کردیا ؟ بابو راؤ میں کمانے کی دھن سوار ہوگئی اور وہ والدین کو بغیر بتائے کمانے اور کچھ بن کر دکھانے کی نیت سے گاؤں چھوڑ کر 22 برس کی عمر میں حیدر آباد آگئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ نامپلی اسٹیشن پہنچے تو بدن پر صرف ایک جوڑا کپڑے کے علاوہ کچھ نہیں تھا ۔ درگاہ یوسفینؒ کے پاس ایک مسلمان کی دکان پر انہوں نے ان سے پوچھا تو جواب ملا کہ انہیں تو کسی کام والے کی ضرورت نہیں ہے ۔ البتہ بازو کی دکان میں آدمی درکار ہے چونکہ اس کا سیلسمین چھٹی پر تھا ۔ اس لیے ان کو وہاں کام مل گیا ۔ پہلے دن کی مزدوری پانچ روپئے ملی ۔ دو روپیہ کاکھانا کھانے کے بعد بقیہ تین روپے میں انہوں نے پرانے کپڑوں کا جوڑا خرید لیا ۔ پانچ دن بعد سیٹھ کو پتہ چلا کہ بابو راؤ کا مکان نہیں ہے وہ اسٹیشن پر سوتا ہے تو وہ گھبرا گئے اور انہیں کام سے نکال دیا ۔ دوبارہ جب وہ دکان پر گئے تو سیٹھ نے کہا چل تجھے ایک ہوٹل میں رکھا دیتا ہوں ۔ کام بھی مل جائے گا ۔ اور کھانا بھی ۔ وہ انہیں Roxy کیفے لے گئے یہاں انہیں روزانہ دو روپئے چار آنے مزدوری اور 3 وقت کا کھانا ملنے لگا ۔ راقم الحروف نے پوچھا پھر ترقی کیسے کی ؟ تو انہوں نے کہا وہاں ایک نواب صاحب آیا کرتے تھے ان کا نام داؤد شریف صاحب تھا ۔ میری اکثر ان سے ملاقات ہوتی تھی ایک دن انہوں نے کہا بابو راؤ میں ہوٹل لے رہا ہوں کیا تم کاونٹر پر بیٹھو گے ؟ میں فورا راضی ہوگیا ۔ یہ ہوٹل نیلوفر تھی جسے نواب صاحب ایک ایرانی سے گتے پر لئے تھے لیکن ہوٹل فائدہ میں نہیں چل رہا تھا ۔ نواب صاحب نے کہا مجھے روزانہ 200 روپئے دیدینا اور جائیداد کے مالک کو 35 روپئے میں راضی ہوگیا ۔ اس کے بعد میں نے تنہا محنت کی ۔ سربراہی خود کرتا ، پونچا خود لگاتا ، ٹیبل خود صاف کرتا ۔ بہر حال خوب محنت کیا ۔ ہوٹل بھی چلنے لگی ، کچھ دنوں بعد نواب صاحب ہوٹل خرید لیے ۔ دن گذرتے گئے پھر کچھ عرصہ بعد داؤد شریف صاحب یہ جائیداد فروخت کردئیے ۔ میں میرے دوست کی مدد سے یہ ہوٹل خرید لیا اور پھر نوکر سے مالک بن گیا ۔ یہ ہے تصویر کا ایک رخ ، دوسرا رخ دیکھئے ۔ بابو راؤ آج ایک دولت مند انسان ہیں مگر انسانیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ وہ کہتے ہیں میں اکثر دیکھتا ہوں مہدی نواز جنگ کینسر ہاسپٹل اور نیلوفر ہاسپٹل کے مریض اور ان کے ساتھ آنے والے پیسے نہ ہونے سے بھوکے سوجاتے ہیں یہ دیکھ کر میرا دل تڑپ اٹھا میں نے سوچا میں کونسا دولت مند تھا آج اللہ مجھے دولت دے رہا ہے تو یہ صرف میرے لیے نہیں ہے ۔ اللہ میرے ذریعہ دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے اس خیال کے آتے ہی گذشتہ 7 سال سے روزانہ صبح ہر مریض کو ڈبل روٹی اور 200 ملی لیٹر دودھ کا پیاکٹ ، اور شام میں 250 گرام چاول دہی اور ترکاری سربراہ کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا میں گیاس بھی دواخانہ میں لگا دیا ہوں تاکہ مریض استفادہ کرسکیں ۔ بابو راؤ ایک سیکولر انسان ہیں ہندو مسلم سب ان کی نظر میں برابر ہیں ۔ بابو راؤ یہ تہیہ کرچکے ہیں کہ ان کے بعد بھی ان کی اولاد اس کام کو جاری رکھے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT