Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / بات چیت کا خیر مقدم لیکن فریقین اپنے موقف پر قائم

بات چیت کا خیر مقدم لیکن فریقین اپنے موقف پر قائم

ایودھیا میں پتھر تراشنے کے لیے وی ایچ پی کے دو ورکشاپس

ایودھیا ۔ 28 ۔ اکٹوبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : آرٹ آف لیونگ کے بانی سری سری روی شنکر کی ایودھیا تنازعہ کی عدالت کے باہر یکسوئی کی کوششوں کے دوران حقیقی فریقین نے کہا کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن انہوں نے اپنا موقف تبدیل کرنے سے انکار کردیا ۔ قدیم ترین ہندو فریق نرموہی اکھاڑہ کے مہنت رام داس نے کہا کہ متنازعہ مقام پر رام مندر کی پرامن طور پر اور جلد تعمیر کے لیے ہم کسی سے بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں ۔ لیکن متنازعہ محصلہ اراضی یا اس کے قریب کسی مسجد کی تعمیر کو قبول نہیں کریں گے ۔ مولانا فضل الرحمن اس مقدمہ کے فریق ہیں اور ان کے مقرر کردہ نمائندہ خالق احمد خاں نے کہا کہ مسلمانوں نے ایودھیا مسئلہ کی بات چیت کے ذریعہ یکسوئی کی کوشش کا ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے ۔ لیکن بات چیت شروع ہونے سے پہلے ثالثی کو واضح طور پر یہ ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ ہم مسجد کے بارے میں بھی بات کریں گے ۔ اس مقدمہ کے فریق ہاشم انصاری کے فرزند اقبال انصاری نے جنہیں والد کے انتقال کے بعد نمائندہ مقرر کیا گیا ہے کہا کہ روی شنکر کی پہل اچھی ہے لیکن ہم بابری مسجد پر بھی بات کریں گے ۔ روی شنکر کو ہمارے مطالبہ کابھی کچھ حل تلاش کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا روی شنکر کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ بات چیت کے لیے ہمیں کس ہندو فریق کے ساتھ بیٹھنا ہوگا ۔ اس دوران وشوا ہندوپریشد نے دعویٰ کیا کہ ایودھیا میں سنگتراشی کے لیے اس نے دو ورکشاپس شروع کئے ہیں ۔ راجستھان سے پتھر کے 30 سے زائد ٹرکس پہلے ہی یہاں پہنچ گئے ہیں ۔ وی ایچ پی لیڈر اور ان دونوں ورکشاپس کے انچارج تریلوکی ناتھ پانڈے نے کہا کہ مندر کی تعمیر کے لیے پتھر تراشنے فنڈس کی قلت درپیش ہے ۔ ہمارے این آر آئی دوستوں نے رام مندر کی تعمیر کے لیے درکار فنڈس بھیجنے کا وعدہ کیا ہے ۔ وہ گروپس کی شکل میں ایودھیا کا دورہ کرتے ہوئے فنڈس جمع کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم 1992 کی طرح عوامی تحریک پر غور کررہے ہیں جس سے مندر کی تعمیر آسان ہوجائے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT