Friday , October 19 2018
Home / دنیا / بات چیت کا مطلب امریکی قبضہ تسلیم کرنا ہے، طالبان

بات چیت کا مطلب امریکی قبضہ تسلیم کرنا ہے، طالبان

کابل۔3مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) طالبان نے کہا ہے کہ افغان حکومت افغانستان کے عوام پر امریکہ نے مسلط کی ہے جس سے بات چیت کا مطلب امریکی قبضے کو تسلیم کرنا ہے۔افغانستان میں سرگرم طالبان نے صدر اشرف غنی کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش پر کسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل میں ہونے والی کانفرنس کے پیچھے یہ خواہش کار فرما تھی کہ طالبان کسی بھی طرح بس ہتھیار ڈال دیں۔افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ افغانستان پر قابض ہے اوراس نے افغان عوام پر ایک نام نہادحکومت مسلط کردی ہے۔افغان صدر اشرف غنی نے اپنے ملک میں قیامِ امن کیلیے ’’کابل پراسس‘‘ کے عنوان سے جاری کوششوں کے سلسلے میں چہارشنبہ کو کابل میں منعقد ہونیوالی ایک کانفرنس میں طالبان کو مذاکرات کی غیر مشروط پیشکش کی تھی۔ البتہ طالبان کے ترجمان نے امریکی جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے ایک کھلے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت افغانستان کے عوام پر امریکہ نے مسلط کی ہے جس سے بات چیت کا مطلب امریکی قبضے کو تسلیم کرنا ہے

TOPPOPULARRECENT