بات کرنے کا سلیقہ

کسی گاؤں میں ایک غریب عورت رہا کرتی تھی ۔ اس کے چھ بچے تھے ۔ وہ روزانہ کھیت سے مولی توڑنے جاتی تھی ۔ ایک دفعہ وہ مولی لے کر واپس آرہی تھی کہ اسے ایک غار کے اندر سے کھسر پھسر کی آوازیں آنے لگیں ۔ وہ اندر گئی تو اندر بارہ آدمی بیٹھے ہوئے تھے وہ سب آپس میں لڑ رہے تھے ۔ اس عورت کو دیکھتے ہی وہ سب آرام سے بیٹھ گئے اور کہنے لگے ۔ اماں بتاؤ!

کسی گاؤں میں ایک غریب عورت رہا کرتی تھی ۔ اس کے چھ بچے تھے ۔ وہ روزانہ کھیت سے مولی توڑنے جاتی تھی ۔ ایک دفعہ وہ مولی لے کر واپس آرہی تھی کہ اسے ایک غار کے اندر سے کھسر پھسر کی آوازیں آنے لگیں ۔ وہ اندر گئی تو اندر بارہ آدمی بیٹھے ہوئے تھے وہ سب آپس میں لڑ رہے تھے ۔ اس عورت کو دیکھتے ہی وہ سب آرام سے بیٹھ گئے اور کہنے لگے ۔ اماں بتاؤ! سب مہینوں میں سب سے اچھا مہینہ کون سا ہوتا ہے ، عورت بولی بیٹا مجھے تو سب مہینے پسند ہیں کیونکہ ہر مہینے میں کوئی نہ کوئی خوبی ضرور ہوتی ہے ۔ یہ لو اماں سونا یہ تمہارا انعام ہے تم نے ہم سب کا مسئلہ حل کردیا ہے ۔ ہم سب اسی وجہ سے لڑ رہے تھے کیونکہ ہم ہی بارہ مہینے ہیں۔ بارہ مہینوں نے انہیں خوب سارا سونا اور پیسے دئے ۔ عورت نے گھر آکر وہ سونا اور پیسے اپنے بچوں کو دکھائے وہ سب بہت خوش ہوئے اور وہ ابھی پیسے گن ہی رہی تھی کہ اس کی لالچی پڑوسن آگئی ۔ اس نے جو اتنا سارا سونا دیکھا تو کہنے لگی ۔ اری بہن ! اتنا سارا پیسہ کہاں سے لائی ہو ؟ عورت بے چاری سیدھی تھی اس نے سب کچھ بتادیا ۔ لالچی عورت نے بھی سوچا کہ وہ بھی اس غار میں ضرور جائے گی ۔

وہ عورت وہاں پہونچی تو بارہ مہینے اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے انہوں نے سوچا کہ اس سے بھی رائے لے لیتے ہیں چنانچہ انہوں نے پوچھا : آپ کو کون سا مہینہ اچھا لگتا ہے ؟ عورت نے کہا کہ سچی بات تو یہ ہے کوئی بھی مہینہ اچھا نہیں ہوتا دیکھو کسی میں خزاں پڑتی ہے ، کسی میں سردی کسی میں گرمی اس طرح ہر مہینے میں کوئی نہ کوئی آفت آتی رہتی ہے ۔ اچھا لاؤ اماں اپنی ٹوکری دے دو ہم تمہیں پیسے دیں گے ۔ لالچی عورت نے فواً ٹوکری دے دی ۔ گھر پہونچ کر اس نے میز پر جلدی سے ٹوکری الٹ دی ۔ اس میں کنکر ہی کنکر تھے وہ عورت بھاگی اس عورت کے پاس گئی تو اس نے کہا جب بارہ مہینوں نے پوچھا تو تم نے کیا جواب دیا ۔ تو عورت نے کہا میں نے تو صاف صاف کہہ دیا تھا کہ کوئی مہینہ اچھا نہیں ہوتا ۔ سیدھی عورت نے کہا دیکھو ہر بات کہنے کا سلیقہ ہوتا ہے میں نے جب ان سے یہ کہا تھا کہ ہر ماہ میں کوئی نہ کوئی خوبی ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ ہر ماہ میں صرف خوبیاں ہی خوبیاں ہوتی ہیں یقیناً کچھ خرابیاں ہوتی ہوں گی لیکن میں نے یہی بات اس انداز سے کہی کہ انہیں اچھی لگی اور ان کا جھگڑا ختم ہوگیا پھر ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ میرے ذہن میں کوئی لالچ نہ تھا اس لئے مجھے اللہ نے میری اچھی نیت کا انعام دے دیا اور تم چونکہ لالچ کی نیت سے گئی تھیں اس لئے تمہیں تمہارے لالچ کا انعام مل گیا ۔

TOPPOPULARRECENT