Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / بارش کا لینڈ گرابرس کو فائدہ، ناجائز قبضوں میں سرعت

بارش کا لینڈ گرابرس کو فائدہ، ناجائز قبضوں میں سرعت

مسلم جنگ پل کے قریب واقع موقوفہ اراضی پر قبضہ، قبرستان کا راستہ مسدود، پولیس میں شکایت بے اثر

حیدرآباد۔ 24ستمبر(سیاست نیوز) بارش نے شہر میں کئی طرح سے لینڈ گرابرس کو فائدہ پہنچانا شروع کردیا ہے اور مختلف محکمہ ٔ جات کی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے لینڈ گرابرس اپنی سرگرمیوں کو تیز کر چکے ہیں۔ رود موسی کے کنارے موجود 1933مربع گز موقوفہ اراضی پر ناجائز تعمیرات کا سلسلہ ایسے وقت جاری ہے جب چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ ناجائز تعمیرات کی اطلاع فراہم کرنے والو ںکو 10ہزار روپئے کے انعام کا اعلان کر رہے ہیںلیکن شائد شہر حیدرآباد میں چیف منسٹر کے احکام پر عمل نہیں ہوتا بلکہ محکمہ ٔ جاتی عہدیدار اپنی من مانی کرتے ہیں۔ رود موسی کے کنارے واقع اس موقوفہ اراضی کا گزٹ میں اندراج موجود ہے جو کہ جمال علی شاہ ولد رہبر علی شاہ کی تولیت میں ہے۔ مسلم جنگ پل کے دائیں جانب موجود اس موقوفہ اراضی پر بتدریج قبضہ ہوتا رہا ہے اور اس سلسلہ میں منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے متعدد توجہ دہانی کے باوجود کوئی کاروائی نہیں ہوئی جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عہدیداروں کو منتخبہ نمائندوں کی بات کا بھی کوئی پاس و لحاظ نہیں رہا بلکہ وہ ناجائز تعمیرات پر کاروائی اپنی ذمہ داری تصور نہیں کرتے۔ اس موقوفہ اراضی پر جاری ناجائز تعمیر کے ذریعہ رود موسی کے کنارے پیٹلہ برج سڑک پر موجود اس قبرستان تک پہنچنے کا راستہ بھی بند کیا جانے لگا ہے۔ اس سلسلہ میں چیف اکزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب اسد اللہ نے متعلقہ انسپکٹر آڈیٹر کو روانہ کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کروانے کی ہدایت دی پولیس میں شکایت کے باوجود موقوفہ اراضی پر قبضہ اور تعمیر جاری رکھے جانے سے شبہات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے بلکہ وقف بورڈ کے عہدیدار کی جانب سے تعمیراتی سرگرمیوں کو رکوائے جانے کی کوشش پر تعمیر انجام دینے والوں نے خود عہدیدار کے خلاف پولیس میں ہراسانی کی شکایت درج کروادی۔ تلنگانہ وقف کی جانب سے جی ایچ ایم سی اور پولیس کو اس سلسلہ میں مطلع کرتے ہوئے فوری تعمیرات کو روکنے کی خواہش کی گئی لیکن تاحال کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور تعمیرات کا سلسلہ جوں کا توں جاری ہے۔ اس قبرستان میں موجود قبور کو مسمار کرتے ہوئے جاری تعمیر پرفوری روک لگائی جانی ضروری ہے کیونکہ شہر کے کئی مرکزی مقامات پر موجود انتہائی قیمتی اراضیات پر جو قبور ہیں انہیں مخفی رکھتے ہوئے مسمار کرنے اور اس کی جگہ تعمیری سرگرمیاں انجام دینے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اگر وقف بورڈ اس سلسلہ میں سخت کاروائی کرتا ہے تو ایسی ہی منصوبہ بندی میں مصروف شہر کے اہم مقامات پر موجود جائیدادوں کی تباہی کو رکوایا جا سکتا ہے کیونکہ حلقہ ٔ اسمبلی گوشہ محل میں موجود ہزاروں ایکڑ اوقافی اراضیات کو اسی طرح کے خطرات لاحق ہیں جنہیں بچایا جانا ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT