Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / بارش کے منفی اثرات ، شہر کے نواحی علاقوں کے تعلیمی ادارہ جات بند

بارش کے منفی اثرات ، شہر کے نواحی علاقوں کے تعلیمی ادارہ جات بند

جی ایچ ایم سی کا اطلاعات کو عام کرنے سے گریز ، کئی علاقوں سے پانی کی عدم نکاسی
حیدرآباد۔13اکٹوبر (سیاست نیوز) شہر میں ہونے والی بارش کے سبب آج بھی پرانے شہر کے علاوہ شہر کے نواحی علاقوں میں تعلیمی ادارے بند ہیں لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ان اطلاعات کو عام نہیں کیا جا رہاہے جبکہ جل پلی‘ بندلہ گوڑہ ‘ رامنتا پور کے علاوہ بعض دیگر علاقو ں میں بارش کا پانی جمع ہونے کے سبب اب تک بھی راستے مسدود ہیں اور کئی تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں مفقود ہیں کیونکہ جب طلبہ کی آمد و رفت کی گنجائش ہی نہیں ہے تو یہ تعلیمی ادارے چلائے بھی کس طرح جائیں گے۔ بندلہ گوڑہ کے علاقہ میں موجود اسکولوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ بارش کا پانی سڑکوں کی حالت ابتر کئے ہوئے ہے اور اگر کوئی طالب علم حادثہ کا شکار ہوتا ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اسی لئے وہ اسکول بند رکھنے پر مجبور ہیں۔ شہر کے نواحی علاقہ جل پلی اور ائیرپورٹ جانے والی جل پلی کی سڑک گذشتہ 5یوم سے بند ہے لیکن اس علاقہ کے مکینوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور پانی جمع ہونے کے سبب عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے رامنتا پور ‘ ناچارم کے علاوہ دیگرعلاقوں میں صورتحال کو قابو میں کرنے کی ممکنہ کوشش کی جا رہی ہے لیکن بندلہ گوڑہ ‘ اسمعیل نگر‘ ایرہ کنٹہ‘ غوث نگر‘ الجبیل کالونی ‘ جل پلی کے علاوہ اس خطہ کے محلہ جات میں صفائی کو ممکن بنانے کے اقدامات بھی ممکن بنانے کے لئے کوشش نہیں کی جا رہی ہے جو ان علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے۔خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کی جانب سے اسکولوں کو بندرکھنے کے فیصلہ سے ان علاقوں کے حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ بندلہ گوڑہ علاقہ میں چلائی جانے والی ایک سرکردہ اکیڈمی کے ذمہ دار نے بتایا کہ بارش کے سبب اندرونی محلہ کی جو صورتحال ہے اسے دیکھتے ہوئے انہوں نے ادارہ کو کچھ یوم کے لئے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ موسلادہار بارش کے سبب علاقوں میں پانی جمع ہونے کی شکایت موصول ہوئی اور اسی طرح حاضری میں بھی کمی ریکارڈ کی جارہی تھی لیکن روزانہ ہورہی چند گھنٹوں کی بارش کے بعد جو کچہرا اور کیچڑ جمع ہورہا ہے اس کے سبب ان علاقو ںمیں وبائی امراض پھیلنے کا بھی خدشہ پیدا ہونے لگا ہے اسی لئے طلبہ کو یکجا کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے تاکہ موسمی تبدیلی کے سبب پیدا ہونے والی بیماریوں سے بھی انہیں محفوظ رکھنے کے اقدامات کو بھی ممکن بنایا جا سکے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کی جانب سے ان علاقوں کی صورتحال کو بہتر بنانے کے علاوہ کیچڑ کی نکاسی کو ممکن بنایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں حالات معمول پر لائے جا سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT