Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / بارک اوباما کی اہم مسائل پر نواز شریف سے باہمی بات چیت

بارک اوباما کی اہم مسائل پر نواز شریف سے باہمی بات چیت

Prime Minister Muhammad Nawaz Sharif meeting US President Barack Obama at the White House on October 22, 2015

اوول آفس میں دونوں قائدین کی ملاقات ۔ پاکستان میں مذہبی آزادی کو یقینی بنانے امریکی گروپس کی صدر امریکہ سے اپیل
واشنگٹن 22 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی صدر بارک اوباما نے آج پاکستان کے دورہ کنندہ وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ بات چیت کی ۔ دونوں قائدین نے سمجھا جارہا ہے کہ کچھ اہم مسائل بشمول دہشت گرد گروپس کی تائید اور نیوکلئیر سلامتی پر بات چیت کی ہے ۔ یہ ملاقات وائیٹ ہاوز کے اوول آفس میں ہوئی ہے ۔ 2013 میں ہوئی باہمی بات چیت کے بعد دونوں قائدین کی یہ دوسری بات چیت ہے جس میں اہم مسائل پر تبادلہ خیال ہوا ہے ۔ وائیٹ ہاوز کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دورہ کے نتیجہ میں امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات کو مستحکم کرنے کا موقع ملے گا اور اس ملاقات کے نتیجہ میں دونوں ممالک کو اپنے باہمی مفاد کے حامل مسائل بشمول معاشی ترقی ‘ تجارت و سرمایہ کاری ‘ صاف توانائی ‘ عالمی صحت ‘ ماحولیاتی تبدیلی ‘ نیوکلئیر تحفظ ‘ انسداد دہشت گردی اور علاقائی استحکام جیسے مسائل پر اپنے تعاون میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بارک اوباما نواز شریف کے ساتھ بات چیت کے منتظر تھے تاکہ اس بات پر زور دے سکیں کہ دونوں ملکوں کے باہمی مفاد کے حامل امور پر تعلقات کو مزید آگے بڑھایا جائے ۔ وزیر اعظم پاکستان کا یہ چار روزہ دورہ امریکہ ہے جو اوباما کی دعوت پر ہو رہا ہے ۔ اس ملاقات سے قبل پاکستانی عہدیداروں نے کہا کہ نواز شریف اوباما کے ساتھ ملاقات میں کشمیر کا مسئلہ اٹھائیں گے ۔ پاکستان کے معتمد خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کل کہا تھا کہ نواز شریف کے دورہ امریکہ کے موقع پر ہم لائین آف کنٹرول پر ہندوستان کے ساتھ کشیدگی کے مسئلہ پر بھی بات چیت کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کی یکسوئی میں مدد کریں کیونکہ پاکستان کا ہندوستان کے ساتھ یہی ایک اہم مسئلہ ہے ۔

واضح رہے کہ ہندوستان مسئلہ کشمیر کے تعلق سے کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کرچکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے مابین تمام متنازعہ مسائل کو باہمی طور پر ہی حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ نواز شریف نے اپنی جانب سے کشمیر مسئلہ میں تیسرے فریق کی مداخلت پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے امریکی سینیٹرس سے کہا ہے کہ امریکہ سب سے زیادہ مناسب فریق ہے کہ وہ اس مسئلہ میں مداخلت کرسکے ۔ پاکستان اس چوٹی ملاقات سے قبل تین مراسلے پیش کرچکا ہے جن میں پاکستان میں تخریب کار سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ہندوستان کے رول کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ نواز شریف نے کل امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری سے اپنی ملاقات میں انہیں بلوچستان ‘ کراچی اور دوسرے علاقوں میں ہندوستانی ایجنسیوں کے عدم استحکام کے رول کے تعلق سے واقف کرواچکے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ لشکرطیبہ ‘ طالبان اور حقانی نیٹ ورک جیسے دہشت گرد گروپس سے تعلقات ختم کرلے ۔ پاکستان کا تاہم کہنا ہے کہ اسے اب دہشت گردی سے مقابلہ کے مسئلہ میں مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس دوران نواز شریف کی اوباما سے ملاقات کے پیش نظر امریکہ کی 28 این جی اوز کے ایک گروپ نے صدر بارک اوباما سے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں مذہب کی آزادی کے مسئلہ کو نواز شریف سے رجوع کریں۔ اس گروپ نے ایک مکتوب اوباما کے نام روانہ کرتے ہوئے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کیا تھا ۔اس مکتوب پر مذہبی قائدین ‘ حقوق انسانی کے کارکنوں اور دوسری شخصیتوں نے بھی دستخط کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے پاکستان میں سالانہ تقریبا ایک ہزار ہندو اور عیسائی لڑکیوں کو جبرا مذہب تبدیل کروایا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT