Saturday , November 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے کمیٹی کا قیام

بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے کمیٹی کا قیام

بودھن 11 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست گیر سطح پر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے چلائی جارہی تحریک کو جلا بخشنے بودھن شہر کے معزز مسلمانوں کی طرف سے مثبت ردعمل اور ایک حرکیاتی کمیٹی کے قیام کا سی پی آئی ٹاؤن سکریٹری شیخ بابو نے خیرمقدم کرتے ہوئے انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم سے ریاست تلنگانہ کے طلبہ کو زبردست فائدہ ہوا جو مسلم طالب علم پروفیشنل کورسیس میں داخلہ کے تعلق سے سوچ بھی نہیں سکتے تھے فیس باز ادائیگی اسکیم کے آغاز اور 4 فیصد تحفظات کی فراہمی کے باعث کس حد تک فائدہ ہوا۔ کامریڈ شیخ بابو نے کہاکہ فیس باز ادائیگی اسکیم سے استفادہ کرتے ہوئے بے شمار ذہین طلبہ قابل بن رہے ہیں لیکن ملازمتیں حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ملازمت کی عمریں تجاوز ہوجانے کی وجہ سے دیگر پیشے اپنانا پڑرہا ہے۔ جناب بابو نے ملک کی آزادی کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے سنجیدگی سے اقدامات نہیں کئے جبکہ جدوجہد آزادی میں بیشتر مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ سی پی آئی قائد نے ریاست تلنگانہ میں اردو زبان کو بطور سرکاری زبان قبول کرنے کا چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے مطالبہ کیا اور انھوں نے چیف منسٹر پر الزام عائد کیاکہ چیف منسٹر تلنگانہ اپنے انتخابی وعدوں میں جو کچھ بھی عوام کو دینے کا وعدہ کیا تھا ، ابھی تک ایک بھی تکمیل عمل میں نہیں آئی۔ جناب محمد غوث نے اپنے ایک علیحدہ بیان میں بودھن شہر میں 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے کمیٹی کے قیام پر مسرت کا اظہار کیا اور ٹی آر ایس سال 2019 ء کے عام انتخابات میں دیگر سیاسی جماعتوں جیسا ٹی آر ایس کا حشر ہونا یقینی نظر آرہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT