Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں 22افراد ہلاک

باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں 22افراد ہلاک

یانگون۔20اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) فوج اور نسلی اقلیت کے باغیوں کے درمیان شمالی میانمار میں جھڑپ ہوگئی جس کے نتیجہ میں جاریہ ماہ ہلاک ہونے والوں کی جملہ تعداد 22ہوئی ‘ فوج نے آج کہا کہ اس کی بناء پر ملک گیر امن معاہدہ کی امیدیں موہوم ہوگئی ہیں ۔ ریاست کاچین میں خونریزی ہوئی جو سابق فوجی حکومت کے دور میں خانہ جنگی کا سرگرم مرکز رہ چکا ہے ج

یانگون۔20اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) فوج اور نسلی اقلیت کے باغیوں کے درمیان شمالی میانمار میں جھڑپ ہوگئی جس کے نتیجہ میں جاریہ ماہ ہلاک ہونے والوں کی جملہ تعداد 22ہوئی ‘ فوج نے آج کہا کہ اس کی بناء پر ملک گیر امن معاہدہ کی امیدیں موہوم ہوگئی ہیں ۔ ریاست کاچین میں خونریزی ہوئی جو سابق فوجی حکومت کے دور میں خانہ جنگی کا سرگرم مرکز رہ چکا ہے جس کے نتیجہ میں لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے تھے اور حکومت بڑے پیمانے پر سیاسی اصلاحات پر مجبور ہوگئی تھی۔

آج سرکاری فوجی بشمول ایک عہدیدار جاریہ ماہ کی جھڑپوں میں ہلاک ہوگئے ۔ فوج کے بیان کے بموجب جو فوج کے زیرانتظام روزنامہ میاوادی میں شائع ہوا ہے ۔ فوج کو 14 کاچین آزاد فوج کے جنگجوؤں کی نعشیں ہتھیاروں کے ساتھ دستیاب ہو ئی ہیں ۔ فوری طور پر کے آئی اے کی جانب سے جو ملک کی سب سے بڑی باغی فوج ہے کوئی تبصرہ دستیاب نہیں ہوسکا ۔ کاچین کے ذرائع کے بموجب ہزاروں دیہاتی چین سے متصل سرحد پر پناہ گزین ہیں ۔اقوام متحدہ کے بموجب دورافتادہ وسائل کی دولت سے مالا مال علاقہ میں تقریباً ایک لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں جب کہ حکومت اور باغیوں کے درمیان 17سالہ جنگ بندی جون 2011ء میں ختم ہوگئی۔ خانہ جنگی میں ہلاک ہونے والوں کی جملہ تعداد نامعلوم ہے ۔ فوج کے بموجب جاریہ ماہ کی اوائل میں دوبارہ جھڑپ شروع ہوگئی جب کہ کے آئی اے نے ایک فوجی عہدیدار کو گھات لگاکر حملہ کردیا جس کی وجہ سے فوجی ان علاقوں کو ہتھیاروں کی سربراہی روکنے کیلئے تعینات کردیئے گئے ۔

صدر میانمار تھین سین کی اصلاح پسند حکومت کو مسلسل کئی دھکے لگے جب کہ بڑے باغی گروپ کے ساتھ ٹھوس امن مذاکرات جاری تھے ۔ جن کی وجہ سے 1948ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد میانمار میں خانہ جنگی شروع ہوگئی تھی ۔ مذاکرات کے کئی دور کے بعد حکومت اور کاچین باغیوں نے مئی 2013ء میں ایک 7نکاتی منصوبہ پر دستخط کئے تاکہ دشمنیوں کا خاتمہ کیا جاسکے ۔ اس وقت اس معاہدہ کی حکومت کی جانب سے ستائش کرتے ہوئے اسے ایک کارنامہ قرار دیا گیاتھا ۔ مئی کے اوائل میں امن مذاکرات کا ایک اور دور مقرر ہے لیکن تازہ بے چینی سے اس میں تاخیر کا اندیشہ ہے ۔ برسوں سے فوج کی سرگرمی سے تین سال قبل خانہ جنگی کا خاتمہ ہوگیا تھا اور تھین سین کو بین الاقوامی ستائش حاصل ہوئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT