Wednesday , December 19 2018

بالی ووڈ بھی مرکز میں قیادت کی تبدیلی کا خواہاں

ممبئی۔/15اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) اب جبکہ ملک بھر میں ہر طرف الیکشن کے چرچے ہیں تو بھلا بالی ووڈ اس سے مستثنیٰ کیسے رہ سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بالی ووڈ کی دنیا تصوراتی ہوتی ہے، لیکن الیکشن کے زمانے میں اس کی حقیقت اور اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے بالی ووڈ ستارے بھی ملک میں قیادت کی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اب جبکہ لوک سبھا کیلئے رائے دہی کا آغاز بھی ہوچکا ہے وہیں بالی ووڈ کی شخصیتوں کا یہ ماننا ہے کہ حق رائے دہی کا استعمال بہت ضروری ہے۔ متعدد ایکٹرس نے اپنے بیرونی دوروں کے پروگرام پر نظرثانی کی ہے جیسے تشار کپور قبل ازیں 23اپریل کو امریکہ جانے والے تھے

لیکن اب وہ 23 اپریل کو ووٹ دینے کے بعد 24اپریل کی شام کو امریکہ روانہ ہوں گے۔ فردین خان جو اسوقت لندن میں اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ ہیں، اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے لئے ووٹنگ سے ایک دن قبل ممبئی پہنچ رہے ہیں۔ معروف ایکٹر انوپم کھیر نے کہا کہ موجودہ حکومت تقریباً ہر محاد پر ناکام ہوچکی ہے، بدعنوانیوں کا سلسلہ بالراست یا بالواسطہ جاری رہا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کے سیاسی حالات میں تبدیلی آئے اور مرکز میں مستحکم حکومت قائم ہو، لہذا میری خواہش ہے کہ ملک کا ہر بالغ شہری اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ فرض ہونا چاہیئے کہ وہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر کنٹرول کرے، ملک کی داخلی سلامتی کو مستحکم بنائے اور دہشت گردی سے موثر طور پر نمٹے۔ سوپر اسٹار شاہ رخ خان نے بھی اپنے مداحوں سے اپیل کی کہ وہ رائے دہی کے روز ضرور ووٹ دیں۔

ہم ایک خوشحال ملک میں رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹی وی پر وہ جو کچھ بھی دیکھتے ہیں اور اخبارات میں جو کچھ پڑھتے ہیں، اس سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ ہندوستان کے عوام سیاسی طور پر ذہین ہوچکے ہیں اور یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسے ووٹ دینا ہے اور کسے نہیں؟۔دپییکا پڈوکون نے کہاکہ انہیں توقع ہے کہ سیاستداں جو بھی وعدے کریں گے، ان کی تکمیل بھی کریں گے جبکہ دوسری طرف انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں آئیفا ایوارڈ میں شرکت کیلئے بیرون ملک سفر کرنا ہے لیکن ووٹنگ بھی میرا حق ہے لہذا وہ پہلے ووٹ دیں گی پھر بیرون ملک پرواز کریں گی۔ ڈائرکٹر پرکاش جھا جو سماجی ؍ سیاسی فلمیں بنانے کیلئے مشہور ہیں نے کہا کہ آج ہندوستان کو ’’ ماڈرن گاندھی‘‘ کی ضرورت ہے۔ دیگر ستاروں کا یہ مطالبہ ہے کہ نئی حکومت تفریحی ٹیکس کے معاملہ میں فلمی صنعت کو مراعات دے گی جس کی صد فیصد توقع کی جارہی ہے۔ملک کو فلمی صنعت سے ہزارہا کروڑ روپئے کی آمدنی ہے لہذا ٹیکس میں رعایت دینا بھی نئی حکومت کا فرض ہونا چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT